حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے قبول اسلام کے واقعات۳

اسلام ابی ذر رضی اللہ عنہ
ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ابوذر غفاری کو جب رسول اللہ ﷺ کی بعثت کی خبر پہنچی تو اپنے بھائی انیس سے کہاکہ مکہ جاؤ اُس شخص کی خبر لے کر آؤ جو دعویٰ کرتاہے کہ میں اللہ کا نبی ہوں اور آسمان سے مجھ پر وحی نازل ہوتی ہے۔ اس کا کلام بھی سنو۔ ابوذر کی ہدایت کے مطابق انیس مکہ آئے اور آپ سے مل کر واپس ہوئے۔ ابوذر نے دریافت کیاکیا خبرلائے۔ انیس نے کہا کہ جب میں مکہ پہنچا تو کوئی آپ کو کاذب وساحر کہتاتھا کوئی کاہن وشاعر۔ واللہ وہ نہ شاعر ہے نہ کاہن۔ انیس خود بھی بڑے شاعر تھے۔ اس لیے فرماتے ہیں میں نے کاہنوں کا کلام سنا ہے۔ ان کا کلام کاہنوں کے کلام سے مشابہ نہیں ان کے کلام کو اوزان شعر پر رکھ کر دیکھا شعر بھی نہیں واللہ انہ لصادق خدا کی قسم وہ بالکل صادق ہے اور یہ بھی کہا۔
رأیتہ یامربالخیر وینہیٰ عن الشرورایتہ یامربمکارم الاخلاق وکلاما ماھو بالشعر
اس شخص کو میں نے صرف خیر اور بھلائی کاحکم کرتے ہوئے اور شر اور بُرائی ہی سے منع کرتے ہوئے دیکھا اور عمدہ اور پاکیزہ اخلاق کاحکم کرتے دیکھا اور ان سے ایک کلام سنا جس کو شعر سے کوئی تعلق نہیں۔
ابو ذر نے سن کریہ کہاکہ دل کو پوری شفانہیںہوئی۔ غالباً ابوذر آپ کے حالات اور واقعات تفصیل کے ساتھ سننا چاہتے تھے اتنا اجمال ان کے لیے کافی اور شافی نہ ہوا اس لیے ابو ذر خود کچھ توشہ اور مشکیزہ لےکر مکہ روانہ ہوئے اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے توسط سے بارگاہ رسالت میں پہنچے اور آپ کا کلام سُنا اسی وقت اسلام لائے اور حرم میں پہنچ کر اپنے اسلام کا اعلان کیا۔ کفار نے اتنا مارا کہ زمین پر لٹادیا۔ حضرت عباس نے آکر بچایا۔ آپ نے فرمایا اپنی قوم کی طرف لوٹ جاؤ اور ان کو بھی اس سے آگاہ کرو۔ جب ہمارے ظہور اور غلبہ کی خبر سنو تب آنا۔ ابوذرؓ واپس ہوئے۔ دونوں بھائیوں نے مل کر والدہ کو اسلام کی دعوت دی والدہ نے نہایت خوشی سے اس دعوت کو قبول کیا۔ بعدازاں قبیلہ غفار کو دعوت دی نصف قبیلہ اسی وقت مشرف باسلام ہوا۔
فائدہ:
عمروبن عبسہ اور ابوذر رضی اللہ عنہا کے واقعہ سے یہ صاف معلوم ہوتاہے کہ آنحضرت ﷺ کو دین الٰہی کے ظہور اور غلبہ کاکامل یقین تھا اور اس بے سروسامانی میں یہ یقین بدون وحی الٰہی کے ممکن نہیں۔ [سیرۃ المصطفیٰﷺ،جلد ۱]



