رشتہ خوشگوار کیسے بنے؟ بڑاعجیب رشتہ–(۴)

طلاق اسلام میں
اسلامی شریعت میں طلاق سے مراد وہ علیحدگی ہے جس کے ذریعہ مرد نکاح کے رشتے کو ختم کرکے اپنے حقوق زوجیت سے دست بردار ہوجاتاہے۔
بے شک عقدنکاح کے ذریعہ عورت اور مرد کے رشتہ کاقائم ہونا اور ان کامیاں بیوی بن کر رہنا ایک بڑی نعمت ہے ، طلاق کے ذریعہ یہ رشتہ ٹوٹ جاتاہے، رشتے کا ٹوٹنا تکلیف دہ ہے اور نکاح کی نعمت کا چلاجانا ہے، اس لئے اپنی اصل کے اعتبار سے طلاق پسندیدہ نہیں ہے۔
لیکن اگرنکاح کا رشتہ اپنا مقصد کھوچکا ہے زوجین میں ہم آہنگی نہیں ہے اور پوری کوشش کے باوجود اب اس رشتہ کاقائم رہنا مشکل ہوگیاہے اور ڈر ہے کہ اس سے بہت سی دوسری خرابیاں پیدا ہوں گی، اللہ کی حدیں ٹوٹیں گی تو پھر اس رشتہ کاٹوٹ جانا ہی مناسب ہے۔
اس لئے اسلامی شریعت نے جہاں نکاح کو بہت آسان بنانے کی کوشش کی ہے اور اس کو سادگی کے ساتھ کرنے پر زور دیاہے تاکہ وہ جانبین کے لئے پریشانی کا باعث نہ بنے اس نے طلاق کوبھی مسئلے کا حل قرار دیاہے، اس لئے ایسی صورت میں جب نباہ ہونے کی کوئی شکل نہ رہے تو طلاق مسئلہ نہیں ہے بلکہ مسئلے کاحل ہے، اس لئے شریعت نے طلاق پر ایسی قانونی پابندیوں کو پسند نہیں کیاہے جس میں میاںبیوی جکڑے رہنےپر مجبور رہیں اور ان کے لئے یکجا ہوکر زندگی گزارنا دوبھر ہوجائے۔
حسن معاشرت کی تعلیم
معاشرت کو بہتر بنانے کیلئے اسلامی شریعت نے بہت سی تدبیریں بتائی ہیں، مثلاً یہ کہ:
۱۔ عورت قصوروار ہے تو اس کو سمجھانے کی کوشش کی جائے۔
۲۔ خواب گاہ میں اس کو اکیلا چھوڑدیاجائے۔
۳۔ تنبیہ کے طورپر ہلکی سی مار کی بھی اجازت ہے۔
۴۔ دونوں کی طرف سے ایک ایک ثالث کو لے کر باہمی تعلقات بہتر بنائے اور غلط فہمیوں کودورکرنے کی کوشش کی جائے۔
حسن معاشرت کے لئے ان تدبیروں کے باوجود اگرکوئی صورت نظرنہ آئے تو پھر اس کا آخری حل اس کے سواکوئی نہیں رہتا کہ ’’چلو ایک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں‘‘
گھر کا معاملہ گھر میں طے ہو
قانون شریعت کا مطالعہ کیاجائے تو معلوم ہوتاہے کہ شریعت اسلامیہ اس بات کو پسند نہیں کرتی کہ طلاق کا معاملہ عدالت میں جائے بلکہ وہ اس کو پسند کرتی ہے کہ ساتھ رہنے اور الگ رہنے کا فیصلہ گھر کے گھر میں ہی ہوجائے اور گھر کی بات باہر نہ نکلے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر عدالت میں جائے گا تو فریقین ایک دوسرے پرالزام تراشیاں کریں گے، ایک دوسرے کے عیوب اور کمزوریاں گنائیں گے، ایک دوسرے کی کردار کشی کریں گے، چھپے ہوئے عیب باہر آئیں گے اور آئندہ چل کر ان لوگوں کی دوسری شادیاں بھی مشکل ہو جائیں گی۔
ہوسکتا ہے کہ ایک مرد کی نظر میں ایک عورت اچھی نہ ہو لیکن دوسرے مرد کیلئے وہ بہت اچھی ہو۔ اسی طرح ایک عوت کی نظر میں ایک مرد اچھا نہ ہو لیکن دوسری عوت کی نظر میں وہ بہت اچھا ہو۔ شریعت نہیں چاہتی کہ کسی کے کردار کادامن داغدار ہو اور ان کے مستقبل کوتاریک بنادے، اس لئے وہ مرد عورت پر چھوڑی ہے کہ وہ اپنے اپنے احساسات کا جائزہ لیں اور اپنے عمل کا محاسبہ کریں بے جا طورپر طلاق کا استعمال نہ کریں اورجہاں تک ہوسکے اس رشتہ کو نبھانے کی کوشش کریں، اگرنباہ نہیں ہوسکتاتو شریفانہ طریقے پر الگ ہوجائیں اور یہی وہ چیز ہے کہ جس کے لئے قرآن مجید نے مَتَاعًا بِالْمَعْرُوفِکے الفاظ استعمال کئے ہیں یعنی طلاق کی صورت میں مرد علاوہ ان واجبات کے جومہر اور عدت کے خرچ وغیرہ کی صورت میں مرد پر لازم ہوتاہے کوئی نہ کوئی تحفہ متاع کی شکل میں عورت کو پیش کرے تاکہ طلاق اور علیحدگی کے باوجود تلخیاں نہ ابھریں۔[ازکتاب: جب رشتہ ٹوٹاہے۔۔حضرت مفتی فضیل الرحمٰن صاحبؒ ہلال عثمانی]
(جاری ہے۔۔۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ)



