مضامین

زکوٰۃ کے مصارف واحکامات-۳

زکوٰۃ کے روپئے سے مدرسہ کی تعمیر درست نہیں
سوال:(۳۳۱)زکوٰۃ کے روپئے سے مدرسہ کی تعمیر کراسکتے ہیں یانہ؟
الجواب: زکوٰۃ کے روپئے سے مدرسہ یا مسجد کی تعمیر کرانا درست نہیں ہے کیونکہ زکوٰۃ میں تملیک فقراء شرط ہے بدون مالک بنانے فقراء کے زکوٰۃ ادانہیں ہوتی۔ھکذافی کتب الفقہ والحیلۃ لمثل ھذہ الافعال مذکورۃ فی الدرالمختار وغیرہ۔
مصارف زکوٰۃ
سوال:(۱/۳۳۲) ایک شخص کی سالانہ آمدنی دس من غلہ اور ۵روپیہ نقد ہے اور دوبہن بھائی کھانے والے ہیں اور آمدنی کبھی وصول ہوتی ہے کبھی نہیں، تویہ شخص زکوٰۃ لے سکتا ہے یا نہ؟
آمدنی والے کوزکوٰۃ
سوال:(۲/۳۳۳) ایک شخص کی آمدنی ۵۰ یا ۶۰ روپئے ہے تویہ شخص بھی زکوٰۃ لے سکتاہے یانہ؟
الجواب:(۱) لے سکتاہے
(۲)اس صورت میں وہ غنی ہے زکوٰۃ نہیں لے سکتا۔ فقط
بغیر بتائے ہوئے زکوٰۃ کے روپئے دیدینا کیساہے
سوال:(۱/۳۳۴) زید چونکہ غنی ہے اور زکوٰۃ اداکرتاہے لہٰذا اگرزید انے چچازاد بھائی بہن کو جوکہ مفلس اورمحتاج ہیں زکوٰۃدے اور ان کو نہ بتلائے کیونکہ اگران کویہ خبرہوگئی کہ یہ زکوٰۃ ہے تو وہ ناراض ہوں گے ایسی صورت میں اگرزید ان کو زکوٰۃ دے اورنہ بتلائے کہ یہ زکوٰۃ ہے تو زکوٰۃ کے ادا ہونے میں کوئی کلام تونہیں۔
صلہ رحمی کاثواب ملے گایانہیں
سوال:(۲/۳۳۵) اور اس زکوٰۃ کے دینے میں علاوہ ادائے فرض زید کو صلہ رحمی کابھی ثواب ملے گا یانہیں؟
نہ بتانے کامواخذہ ہے یانہیں
سوال:(۳/۳۳۶) چونکہ زید نے زکوٰۃ کی خبر انہیں نہیں دی اور قرینہ سے جانتا ہے کہ اگرانہیں معلوم ہوتا تونہ لیتے یاناراضی ظاہر کرتے اس لئے زید پر مواخذہ ہے یانہیں (۴) زید چونکہ اسی زکوٰۃ دینے میں رواجاً شرماشرمی صلہ رحمی سے گریز کرنا چاہتاہے ، اس لئے زید پر مواخذہ شرعی یا کم ازکم ملامت تونہیں۔
الجواب: (۱) زکوٰۃ کے اداہونے کے لئے یہ شرط ہے کہ دینے والے کی نیت زکوٰۃ کی ہو اور جس کودی جاوے وہ محل اور مصرف زکوٰۃ کاہویہ شرط نہیں کہ اس کو اطلاع زکوٰۃ کی بھی کی جاوئے۔ پس اگر زید اپنے اعمام یا بنی اعمام کو جومحتاج اور مصرف زکوٰۃ ہیں، زکوٰۃ دے اور ان سے یہ ظاہر نہ کیاکہ یہ زکوٰۃ ہے توزکوٰۃ ادا ہوگئی ۔وَشَرْطُ صِحَّةِ الْأَدَاءِ نِيَّتُهُ مُقَارِنَةً لِلْأَدَاءِ۔ درمختار۔قَوْلُهُ: نِيَّتُهُ الخ إِشَارَةٌ إِلَى أَنَّهُ لَا اعْتِبَارَ لِلتَّسْمِيَةِ، فَلَوْ سَمَّاهَا هِبَةً أَوْ قَرْضًا تُجْزِئُهُ فِي الْأَصَحِّ الخ شامی۔
(۲) صلہ رحمی کابھی ثواب ملے گا۔كَمَا جَاءَ فِي الْحَدِيثِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ :الصَّدَقَةُ عَلَى الْمِسْكِينِ صَدَقَةٌ، وَهِيَ عَلَى ذِي الرَّحِمِ اثْنَتَانِ: صَدَقَةٌ وَصِلَةٌ.رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَغَيْرُهُمَا.(مشکوٰۃ باب افضل الصدقہ صفحہ ۱۷۱)ظفیر
(۳) کچھ مواخذہ نہیں
(۴) کچھ مواخذہ اور ملامت نہیں بلکہ حدیث سابق سے ظاہر ہوا کہ صلہ رحمی بھی ہے اور زکوٰۃ بھی ادا ہوجاوے گی اور دوہرا ثواب اس کو ملے گا۔
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند، جلد نمبر۶)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button