مضامین

سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے خوش نصیب حضرات -۳

اسلام عفیف کندی رضی اللہ عنہ
عفیف کندی حضرت عباس کے دوست تھے عطر کی تجارت کرتےتھے۔ اسی سلسلۂ تجارت میں یمن بھی آمدورفت رہتی تھی۔ عفیف کندی فرماتے ہیں کہ ایک بار میں منٰی میں حضرت عباس کے ساتھ تھا کہ ایک شخص آیا اور اول نہایت عمدہ طریقہ سے وضو کیا اور پھر نماز کے لیے کھڑا ہوگیا۔ اس کے بعد ایک عورت آئی اس نے بھی اسی طرح وضو کی اور پھر نماز کے لیے کھڑی ہوگئی پھر ایک گیارہ سالہ لڑکا آیااس نے بھی وضو کی اور آپ کے برابر نماز کے لیے کھڑا ہوگیا ، میں نے عباس سے پوچھا یہ کیا دین ہے۔ حضرت عباس نے کہا یہ میرے بھتیجے محمد رسول اللہ کا دین ہے جو یہ کہتے ہیں کہ اللہ نے ان کو رسول بناکر بھیجاہے اوریہ لڑکا علی بن ابی طالب بھی میرا بھتیجا ہے جو اس دین کا پیرو ہے اور یہ عورت محمد بن عبداللہ کی بیوی ہیں۔ عفیف بعد میں مشرف باسلام ہوئے اوریہ کہاکرتے تھے کہ کاش میں چوتھا مسلمان ہوتا(عیون الاثر) قابل ابن عبدالبر ہذا حدیث حسن جدا۔
حافظ ابن عبدالبر فرماتے ہیں کہ یہ حدیث نہایت عمدہ ہے اس کے حسن ہونے میں کوئی کلام نہیں ۔ حافظ عسقلانی فرماتے ہیں کہ اس حدیث کو امام بخاری نے بھی اپنی تاریخ میں اور بغوی اور ابن مندہ نے بھی ذکر کیاہے ۔اس میں اس قدر اور زائد ہے کہ حضرۃ عباس نےیہ فرمایا کہ میرا بھتیجا یہ بھی کہتاہے کہ قیصر وکسریٰ کے خزائن بھی اس پرفتح ہوں گے۔ اصابہ ،جلد ۲، صفحہ ۴۸۷ ترجمہ عفیف کندی۔ [سیرۃ المصطفیٰ،جلد ۱]
(جاری ہے۔۔۔ ۔ ان شاء اللہ تعالیٰ)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button