مضامین

سلام، مصافحہ اور معانقہ کے آداب-۱

اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کہتے وقت ہاتھ اور گردن سے اشارہ کرنا
سوال:(۱۴۱۰) چونکہ عموماً چھوٹے درجہ کے لوگ حکام یابڑے لوگوں کو آداب، تسلیمات کیا کرتےہیں، اس وجہ سے اب اگرکوئی شخص جو ادنیٰ درجہ کا ہو ان کو السلام علیکم کہے تو وہ لوگ بڑامانتے اور خفا ہوتے ہیں، لیکن چند اشخصاص ہیں جو باوجود ان باتوں کے السلام علیکم ہی کہتے ہیں، پس اگر وقت السلام علیکم ہاتھ اٹھادیاجائے یاذرا گردن بہ طور اشارہ کے ہلادی جائے جس کا شمار جھکادینے میں ہوتو جائز ہے؟ ایسا کیاجائے یانہیں؟(۹۶۱/۱۳۳۷ھ)
الجواب: کسی کے براماننے سے طریق سنت کو نہ چھوڑے اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کہے اور ہاتھ اورگردن سے اشارہ نہ کرے(۱) فقط واللہ تعالیٰ اعلم
اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کے بجائے آداب وغیرہ الفاظ استعمال کرنا
سوال:(۱۴۱۱) لفظ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کو سوئے ادب سمجھ کر اس کی جگہ تعظیمًا لفظ ادب وغیرہ کا باللسان یا بالکتابت استعمال کرنا جائز ہے یانہیں؟(۱۷۵۳/۱۳۳۷ھ)
الجواب: ایسا کرنا خلاف سنت ہے۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم
سَلَامُ عَلَیْکُمْ کہنا غلط ہے
سوال:(۱۴۱۲) اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کے بجائے سَلَامُ عَلَیْکُمْ کہنے پراعتراض کرنا کس حد تک درست ہے؟(۱۱۷۱/۱۳۳۷ھ)
الجواب: سَلَامُ عَلَیْکُمْ غلط ہے، اس سے کتابوں میں منع کیاہے(۱)صحیح یہ ہے کہ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کہیں۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم
مسلمان کا مسلمان کو وَالسَّلَامُ عَلَی مَنِ اتِّبَعَ الْھُدیٰ لکھنا
سوال:(۱۴۱۳) [وَالسَّلَامُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْھُدیٰ] مسلمان مسلمان کو لکھ سکتاہے یانہیں؟ (۱۴۵۵/۱۳۳۷ھ)
الجواب:مسلمان مسلمان کوبھی[وَالسَّلَامُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْھُدیٰ] لکھ سکتاہے، کیونکہ اس کا حاصل یہی ہے کہ سلام ہو اس پر جو پیروی کرے ہدایت کی، تومسلمان جو کہ پیروی کرنے والاہےہدایت کی اس کوبھی سلام ہوگیا۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم
سوال:(۱۴۱۴) زید نے عمر کو خط میں بجائے اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کے [السَّلَامُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْھُدیٰ] لکھا،عمر کہتاہے کہ یہ سلام کافروں کے لیے ہے، زید نے مجھ کو کافر سمجھ کر یہ سلام لکھاہے، حالانکہ میں کلمہ گو مسلمان ہوں، یہ سلام خاص کافروں کے لیے ہے یااہل اسلام کو بھی کرسکتے ہیں۔ (۳۲۹۶/۴۶-۱۳۳۴۷ھ)
الجواب: مسلمان کوبھی [السَّلَامُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْھُدیٰ]لکھنا جائز ہے اور یہ کہنا اور سمجھنا غلط ہے کہ یہ سلام کافروں کے لیے ہے، البتہ ایسا شخص تارک سنت ضرور ہوگا۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم
سوال: (۱۴۱۵)اگر کوئی شخص کسی کو خط میں [السَّلَامُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْھُدیٰ] لکھے تو اس سے یہ کیوں نہ سمجھاجائے کہ مخاطب کافر ہے ، کیونکہ یہ فرمانِ خداوندی فرعون سے خطاب کرنے کے لیے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہما السلام کوہواہے۔ (۳۴۶۹/ ۴۶-۱۳۴۷ھ)
الجواب: مسلمان کو خط میں [السَّلَامُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْھُدیٰ] لکھنا جائز ہے، اور اس سے یہ لازم نہیں آتااور یہ نہیں سمجھاجاتا ہے کہ مخاطب اور مکتوب الیہ کافر ہے، والعیاذ باللہ تعالیٰ، کیونکہ اس آیت کی تفسیر میں مفسرین تحریر فرماتے ہیں: أی لیس المراد منہ التّحیّۃ إنَّما معناہ یسلم من عذاب اللہ من أسلم (۱) یعنی یہ سلام تحیہ نہیں ہے اورمراد اس سلام سے سلام تحیہ نہیں ہے، بلکہ معنی آیت کے یہ ہیں کہ جو شخص اسلام لایا اور اس نے شریعت کا اتباع کیا وہ عذاب اللہ تعالیٰ سے مامون رہے گا ، لہٰذا اگر یہ آیت کریمہ کسی مسلمان کے خط میں لکھی جائے تو اس میں شرعاً کچھ ممانعت نہیں ہے، اور اس کے لکھنے سے یہ کیسے سمجھاجاسکتاہے کہ مخاطب اورمکتوبالیہ کافر ہے ، لیکن تحیہ مسنونہ کے خلاف ہے۔ وقط واللہ تعالیٰ اعلم
[فتاویٰ دارالعلوم دیوبند، جلد نمبر۱۷]۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button