سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے خوش نصیب حضرات -۲

اسلام ابی بکرؓصدیق رضی اللہ عنہ
جب تمام اہل بیت اسلام میں داخل ہوگئے، تب آپ نے احباب ومخلصین کو اس رحمت کبریٰ اور نعمت عظمیٰ میں داخل ہونے کی دعوت دی۔ سب سے پہلے آپ نے اپنے صدیق بااخلاص اور محب با اختصاص اور رفیق قدیم اور ولی حمیم یعنی ابوبکر صدیق کو ایمان واسلام کی دعوت دی۔ ابوبکر نے بلاکسی تامل اور تفکر کے اور بغیر کسی غور اور تدبر کے اول وہلہ مں آپ کی دعوت کو قبول کیا۔
چشم احمد برابوبکرے زدہ
وزیکے تصدیق صدیق آمدہ
آپ نے صدق کو پیش کیااور ابوبکر نے تصدیق کی ایک ہی تصدیق نے صدیق بنادیا۔ چنانچہ حدیث میں ہے کہ میں نے جس کسی پر بھی اسلام پیش کیا وہ اسلام سے کچھ نہ کچھ ضرور جھجکا مگر ابوبکر کہ اس نے اسلام کے قبول کرنے میں ذرہ برابر کوئی توقف نہیں کیا۔امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ سے جب یہ دریافت کیاگیا کہ سب سے پہلے کون مسلمان ہوا(تو یہ اشارد فرمایا کہ رجال احرار یعنی آزاد مردوں میں سب سے پہلے ابوبکر اسلام لائے اور عورتوں میں سے حضرت خدیجہ اور غلاموں میں سے حضرت زید بن حارثہ اور لڑکوں میں سے حضرت علی۔
بدءالوحی کی روایا ت سے اگرچہ بظاہر یہ معلوم ہوتاہے کہ حضرت علی پہلے اسلام لائے مگر ان کایہ تقد م موجب فضیلت وبرتری نہیں اس لیے کہ حضرت خدیجہ توآپ کی بیوی تھیں اور آپ کے تابع تھیں اور حضر ت علی صغیر السن تھے اور آپ کی آغوش تربیت میں تھے۔ گھر کی عورتوں اور بچوں میں یہ طاقت اورمجال نہیں ہوتی کہ وہ بڑے کی رائے کو دفع کرسکیں۔ [سیرۃ المصطفیٰ،جلد ۱]
(جاری ہے۔۔۔ ۔ ان شاء اللہ تعالیٰ)



