مضامین

ماں باپ اور اولاد کے حقوق واحکام

باپ کی بیوی حقیقی ماں نہیں
سوال:(۹۹۰) ایک شخص کہتاہے کہ والدہ وہی ہوتی ہے جس کے شکم سے انسان پیدا ہو، اور منکوحۃ الأب صرف تادیبًا و تعظیما وحکما والدہ ہوتی ہے اصل والدہ نہیں، یہ قول اس کا صحیح ہے یانہیں؟(۲۸۵/۱۳۴۵ھ)
الجواب: یہ قول اس کا صحیح ہے اور موافق نص قرآنی کے ہے:(اِنْ اُمَّهٰتُهُمْ اِلَّا الّٰٓـِٔيْ وَلَدْنَهُمْ (سورۂ مجادلہ، آیت:۲)
دنیا کے کاموں میں بھی والدین کی اطاعت فرض ہے
سوال:(۹۹۱) اولاد پروالدین کی اطاعت کہاں تک ضروری ہے؟ اگروالدین اپنے لڑکے کو گورنمنٹی کونسلوں اور میونسپلٹی کی ممبری میں ووٹ دینے دلانے سے اور کوشش کرنے سے منع کریں، تو لڑکےپروالدین کایہ حکم ماننا شرعًا ضروری ہے یانہیں؟ اور جو شخص عالم ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے والدین کو یہ جواب دے کہ والدین کی خدمت فرض ہے اطاعت فرض نہیں، یہ جواب صحیح ہے یا نہیں؟ اس جواب سے لڑکا شرعًا گنہ گار ہے یانہیں؟(۹۴۵/۱۳۴۵ھ)
الجواب: حکم شرعی بہ طریق قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ اولاد پروالدین کی اطاعت ہرایک اس امر میں جو معصیت نہ ہو ضروری ہےاورفرض ہے، البتہ اگر والدین معصیت کاحکم کریں تو ان کی اطاعت نہ کی جاوے، جیسا کہ آیت:وَاِنْ جَاهَدٰكَ عَلٰى اَنْ تُشْرِكَ بِيْ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوْفًا(سورۂ لقمان: آیت :۱۵) سے واضح ہوتاہے، کیوں کہ اس میں قید ( عَلٰى اَنْ تُشْرِكَ بِيْ) سے معلوم ہوتاہے کہ شرک ومعصیت کے سوا جملہ امور مباحہ میں اطاعت والدین ضروری ہے، یہاں تک کہ علامہ شامی نے نقل فرمایا ہے کہ حج نفل سے اطاعت والدین اولیٰ ہے۔ اَمَّا حَجُّ النَّفْلِ فَطَاعَةُ الْوَالِدَيْنِ أَوْلَى مُطْلَقًا، كَمَا صَرَّحَ بِهِ فِي الْمُلْتَقَطِ (۱) اور احادیث صحیحہ کثیرہ میںعقوق والدین کو کبائر میں سے اور بروالدین کو فرض فرمایا ہے، چنانچہ صحیحین کی حدیث میں ہے: الکبائر: الاشراک باللہ وعقوق الوالدین الحدیث (۲) اور ترمذی کی حدیث میں ہے: رضا الرب فی رضا الوالد وسخط الرب فی سخط الوالد(۳) یعنی اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی باپ کی رضا اور خوشنودی میں ہے، اور اللہ تعالیٰ کا غصہ باپ کے غصے مین ہے، الغرض ووٹ مذکور دینا کوئی شرعی حکم نہیں ہے، اور والدین کے حکم کے مقابلہ میں ہرگز ووٹ نہ دینا چاہیے، اور نہ اس میں کوشش کرنی چاہیے ، والدین کی جیسے خدمت فرض ہے اسی طرح اطاعت بھی فرض ہے، بلکہ خدمت تو اسی وقت فرض ہوتی ہے جس وقت ان کو ضرورت خدمت کی ہو اور کوئی دوسرا خدمت گزار موجود نہ ہو، اور اطاعت والدین ہرحال میں اور ہر وقت میں فرض اور ضروری ہے سوائے معصیت کی صورت کے کہ اس میں کسی کی اطاعت نہیں ہے۔ کماورد: لاطاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق (۴) پس یہ قول اس مدعیٔ علم کا مطلقاً کہ ’’والدین کی خدمت فرض ہے اطاعت فرض نہیں ہے‘‘غلط ہے ، جیسا کہ تفصیل اس کی اوپر معلوم ہوئی، الغرض شخص مذکور اس صورت میں باپ کا حکم نہ ماننے سے عاصی وگنہ گار ہوگا، اور عجب نہیں کہ یہ معصیت اورباپ کے حکم کے خلاف کرنا اس کا حدِّ عقوق میں داخل ہوجاوے جس کو آنحضرت ﷺ نے کبائر میں اشراک باللہ کے بعد ذکر فرمایا ہے۔کما مرّفی حدیث الصّحیحین
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ،جلد ۱۶)۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button