ماں باپ اور اولاد کے حقوق واحکام-۲

سوال:(۹۹۲)ماں باپ کے ذمے کیا کیا فرض اولاد کے ہیں؟ اور اولاد کے ذمے ماں باپ کے کون کون حق فرض ہیں؟ (۲۳۸۶/۱۳۳۷ھ)
الجواب:اولاد کے ذمے والدین کی اطاعت وفرماں برداری اورہرقسم کی خدمت و خبر گیری ہے، اور والدین کے ذمے اولاد کانفقہ اور تعلیم وتربیت کاانتظام اور ہرقسم کی خیرخواہی ہے جس کی تفصیل معلوم ومعروف ہے۔ فقط
ماں باپ کے حقوق بیٹا اور بیٹی پریکساں واجب ہیں
سوال:(۹۹۳) حقوق والدین لڑکے ودختر دونوںکے ذمے برابر ہیں یاکم وبیش؟ (۲۹۳/۳۵-۱۳۳۶ھ)
الجواب: دونوں کے ذمے برابر ہیں۔ لعموم النّصوص الواردۃ فی ھذا الباب(۱)
ماں باپ کے ساتھ ادنیٰ گستاخی اور بے ادبی بھی روانہیں
سوال:(۹۹۴) ایک مولوی نے وعظ میں یہ کہاکہ ماں باپ کاحق کچھ اولاد پرنہیں ہے، بلکہ اس نے اپنے ماں باپ کو جوتا مارکر اور گالی گلوج کرکے سب اسباب وسامان وغیرہ جبراً چھین لیا ، اور گھر سے نکال دیا، اس مسئلہ میں کیاحکم شرعی ہے؟(۳۵/۱۳۳۷ھ)
الجواب: ماں باپ کا اولاد پربہت کچھ حق ہے، اور نہایت تعظیم اورمحبت ان سے لازم ہے، اور ادنیٰ گستاخی اور بے ادبی بھی ان کے ساتھ روانہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتاہے:فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا (سورۂ بنی اسرائیل، آیت ۲۳-۲۴)
ترجمہ: یہ ہے کہ ماں باپ کو اُف بھی نہ کہو اور نہ ان کو جھڑکواور ان سے تعظیم کی بات کہو، اور اس کےا ٓگے یہ فرمایا کہ ان کے سامنے ذلیل ہوجاؤ اور پستی اختیار کرو، اور حدیث شریف میں ہے کہ ماں باپ تمہاری جنت ہیں یادوزخ (۱) یعنی اگر ان کی اطاعت اور فرمانبرداری کروگے اور ان کو خوش رکھوگے تو جنت ملے گی، اور اگر ان کوناخوش کروگے اور ان کی نافرمانی کروگے تو دوزخ میں جاؤگے۔ فقط
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ،جلد ۱۶)۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ



