مضامین

ماں باپ اور اولاد کے حقوق واحکام-۳

جو بیٹے باپ کو مارتے اور گالیاں دیتے ہیں ان کیلئے کیا حکم ہے؟
سوال:(۹۹۵)زید ایک بسوادار شخص (یعنی زرعی اراضی کامالک ) ہے، اور اس کے دوفرزند بھی اس کے گھر میں رہتے ہیں، اتفاق سے زید اور اس کے بیٹوں میں اس درجہ مخالفت ہوگئی ہے کہ زید کو ناشائستہ الفاظ اور سب وشتم کے علاوہ زدوکوب بھی کرچکے ہیں، زید کے کاشتکاروں کوبہکا کرباقی کاروپیہ وصول نہیں ہونے دیتے، ہرصورت سے زیدکوتنگ اور مجبور کرتے ہیں ، اب وہ یہ چاہتے ہیں کہ زید کو اس کی جائیداد سے بہ ذریعہ عدالت علیحدہ کرکے خود منتظم ہوجائیں ، یہ فعل لڑکوں کاجائز ہے یا نہیں؟ کیا وہ ایسا کرسکتے ہیں؟ اور کیا زید کے ذمے اس کے نافرمان بیٹوں کانفقہ واجب ہے؟(۳۴۱۰/۴۶-۱۳۴۷ھ)
الجواب: جب کہ مالک جائیداد کازید ہے، تو اس کے بیٹوں کےلیے شرعًا کوئی چیز نہیں ہے (یعنی بیٹے باپ کی جائیداد کے مالک نہیں)، اور بدون اجازت باپ کے بیٹے کوئی تصرف اور انتظام متعلق باپ کی جائیداد کے نہیں کرسکتے، اگر وہ دونوں زید کی جائیدادمیں کوئی تصرف کریں گے وصول لگان وغیرہ کاتو وہ تصرف شرعاً نافذ نہ ہوگا، کیونکہ کسی کی ملک میں دوسرے شخص کواختیار تصرف کرنے کاشرعاً وقانوناً حاصل نہیں ہے، لہٰذا زید کے بیٹے زید کوانتظام جائیداد سے برطرف نہیں کرسکتے، اور خود منتظم نہیں ہوسکتے، اور انتظام جائیداد کانہیں کرسکتے، اور جب کہ زید کے دونوں بیٹے بہادر تندرست کمانے پر قادر ہیں جیسا کہ باپ کوزدوکوب کرنے اور سب وشتم کرنے سے ظاہر ہے، تو نفقہ ان کا زید کے ذمہ واجب نہیں ہے۔ اگر کسی شخص کا جوان بیٹا عاجز ہو، کمانے پر قادرنہ ہو، معذور ہو، اس کا نفقہ باپ کے ذمے واجب ہے۔ درمختار میں ہے: وکذاتجب لولدہ الکبیر العاجز عن الکسب الخ(۱) اور زید کے دونوں بیٹے بوجہ تکالیف دینے زید کے سخت گنہ گار اور فاسق وفاجرہیں، اور ظالم ہیں، اگر وہ اپنے گناہ اور ظلم سے توبہ نہ کریں اورباپ سے قصور معاف نہ کرائیں اور باپ کی اطاعت وفرماں برداری نہ کریں تو ان کو برادری سے خارج کردیاجائے، اور مسلمانوں کو ان سے قطع تعلق کردینا چاہیے، باری تعالیٰ نے قرآن شریف میں والدین کی اطاعت وفرماں برداری اوران کو خوش رکھنے کی بہت تاکید فرمائی ہے، بلکہ ان کو اُف کہنے سے بھی منع فرمایاہے: کما قال اللہ تبارک تعالیٰ:
﴿فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا ۝ وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُلْ رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا﴾(سورۂ بنی اسرائیل،آیت :۲۳) فقط
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ،جلد ۱۶)۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button