مضامین

واقعہ امیر المومنین سیدنا حضرت عمرفاروق اعظمؓ کےقبول اسلام کا

حضرت عمرؓ کے اسلام کا اصلی اور حقیقی سبب تو رسول اللہ ﷺ کی دعا ہے۔
ہیچ عاشق خود نباشد وصل جو
کہ نہ معشوقش بود جویائے او
میل معشوقاں نہانست و ستیر
میل عاشق یاد و صد طَبل و نفیر
اوّل آپنے یہ دعافرمائی کہ اے اللہ یعنی درپردہ ابوجہل اورعمر الخطاب میں سے جو تیرے نزدیک زیادہ محبوب ہو اسی سے اسلام کو عزت دے (رواہ احمد والترمذی وقال حدیث حسن صحیح) ابن عساکرؒ فرماتےہیں بعدازاں بذریعہ وحی آپؐ پر منکشف ہوا کہ ابوجہل اسلام نہ لائے گا تو اس وقت آپ نے خاص حضرت عمر کے لیے یہ دعافرمائی۔
"اللَّهُمَّ أَعِزَّ الإِسْلَامَ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ خَاصَّةً”
اے اللہ خاص عمر بن الخطاب سے اسلام کو قوت دے۔
یہ حدیث سنن ابن ماجہ اور مستدرک حاکم میں مذکور ہے حاکم فرماتے ہیں کہ یہ حدیث بخاری اور مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔ حافظ ذہبی ؒ نے بھی حاکم کی موافقت فرمائی۔
غرض یہ کہ حضرت عمر کے اسلام کااصل اور حقیقی سبب تورسول اللہ ﷺ کی دعائےجاذبانہ ہے۔ باقی سبب ظاہری یہ ہے کہ جوحضرت عمر سے منقول ہے۔ وہوہٰذا۔
حضرت عمر فرماتے ہیں کہ میں ابتداء میں رسول اللہ ﷺ کا سخت مخالف اور دین اسلام سے سخت متنفر اور بیزار تھا۔
بُد عمر را نام ایں جا بت‌پرست
لیک مومن بود نامش در اَلَست
ابوجہل نے یہ اعلان کیا کہ جو شخص محمد ﷺکو قتل کرڈالے اس کے لیے میں سو(۱۰۰) اونٹ کا کفیل اور ضامن ہوں۔ عمر کہتے ہیں کہ میں نے بالمشافہ ابو جہل سے دریافت کیا کہ تمہاری جانب سے کیا یہ کفالت اور ضمانت صحیح ہے۔ ابوجہل نے کہا ہاں ۔ عمر کہتے ہیں کہ میں آپ کے قتل کے ارادہ سے تلوار لے کر روانہ ہوا۔ راستہ میں ایک بچھڑانظرپڑا جسے لوگ ذبح کرنے کاارادہ کررہے تھے میں بھی دیکھنے کے لیے کھڑا ہوگیا۔ یکایک دیکھتا کیا ہوں کہ کوئی پکارنے والا بچھڑے کے پیٹ میں سے پکار کریہ کہہ رہاہے۔
یاال ذریع۔ امر نجیح۔ رجل یصیع بلسان فصیح۔ یدعوالی شہادۃ ان لاالہ الااللہ وان محمد ا رسول اللہ
اے آل ذریح ایک کامیاب امر ہے ایک مرد ہے جو فصیح زبان کے ساتھ چیخ رہاہے لوگوں کو شہادۃ ان لاالہ الا اللہ وان محمد رسول اللہ کی طرف بلارہاہے۔
حضرت عمر فرماتے ہیں کہ یہ آواز سنتے ہی معاً میرے دل میں یہ خیال آیا کہ مجھ کو ہی یہ آواز دی جارہی ہے اور میں ہی اس آواز کا مخاطب ہوں (رواہ ابونعیم عن طلحہ وعائشہ عن عمر)اور بچھڑے میں سے آواز سنائی دینے کاواقعہ صحیح بخاری میں بھی مذکور ہے(صحیح بخاری باب اسلام عمر ؓ)
لیکن عمر پھر بھی اپنے ارادہ سے باز نہ آئے اور آگے بڑھے۔ کچھ قدم چل کرنعیم بن عبداللہ نحّام ملے اورپوچھا کہ اے عمر اس دوپہر میں کس ارادہ سے جارہے ہو عمر نے کہاکہ محمد ﷺ کے قتل کا ارادہ ہے،۔ نعیم نے کہامحمدﷺ کوقتل کرکے بنی ہاشم اور بنی زہرہ سے کس طرح بچ سکو گے۔ عمر نے کہا میں گمان کرتاہوں کہ توبھی صابی (بددین) ہوگیاہے اور اپنا آبائی مذہب چھوڑ بیٹھاہے۔ نعیم نے کہاآپ مجھ سے کیا کہتےہیں آپ کومعلوم نہیں کہ آپ کی بہن فاطمہ بنت خطاب اور آپ کے بہنوئی سعید بن زید دونوں صابی ہوچکے ہیں اور تمہارا دین چھوڑکر اسلام قبول کرچکےہیں۔
عمر یہ سنتے ہی غصہ میں بھرے ہوئے بہن کے گھر پہنچے۔ حضرت خباب جو اُن کی بہن اور بہنوئی کو تعلیم دے رہے تھے وہ حضرت عمر کی آہٹ سنتے ہی چھپ گئے۔
عمر گھر میں داخل ہوئے اور بہن اوربہنوئی سے کہا شاید تم دونوں صابی ہوگئے ہو۔ بہنوئی نے کہا اے عمر اگرتمہارا دین حق نہ ہو بلکہ اس کے سوا کوئی دوسرا دین حق ہوتو بتلاؤ کیا کرنا چاہیے،۔ بہنوئی کایہ جواب دینا تھا کہ عمر ان پر پل پڑے بہن شوہر کے چھڑانے کے لئے آئیں تو ان کو س قدر ماراکہ چھرہ خون آلود ہوگیا۔ اس وقت بہن نےیہ کہا اے خطاب کے بیٹے تجھ سے جو کچھ ہوسکتاہے وہ کرلے ہم تومسلمان ہوچکے ہیں۔ اے اللہ کے دشمن توہم کو محض اس لیے مارتا ہے کہ ہم اللہ کو ایک مانتے ہیں ۔ خوب سمجھ لے کہ ہم اسلام لاچکے ہیں اگرچہ تیری ناک خون آلود ہو۔ [کتاب سیرۃ المصطفیٰﷺ،جلد ۱](جاری ہے۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button