مضامین

حضرت رسول اکرم ﷺ کی بعثت مبارکہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا احسان عظیم-۵

آفتاب رسالتؐ کا فاران کی چوٹیوں سے طلوع
یہاں تک کہ جب عمر شریف چالیس سال کو پہنچی توحسب معمول آپ ایک روزغارِ حراء میں تشریف فرماتے تھے کہ دفعۃً ایک فرشتہ غار کے اندرآیا اور آپ کو سلام کیا اور پھر یہ کہا اقرأ پڑھیئے آپ نے فرمایا: مَااَنَا بقاری میں پڑھ نہیں سکتا۔ اس پر فرشتہ نے پکڑکر مجھ کو اس شدت سے دبایا کہ میری مشقت کی کوئی انتہا نہ رہی اور اس کے بعد چھوڑ دیا اور کہا اقراء میںنے پھر وہی جواب دیا۔ مَااَنَا بقاری
فائدہ جلیلہ:
مَااَنَا بقاری کے بظاہر معنی یہ ہیں کہ میں پڑھا ہوانہیں اُمّی ہوں لیکن اس معنی میں اشکال یہ ہے کہ قرأت یعنی زبان سے پڑھنا امیّت کے منافی نہیں۔ اُمّی شخص بھی کسی کے تعلیم وتلقین سے قرأت اور تلفظ کرسکتاہے۔ خصوصاً جبکہ فصاحت وبلاغت اس کی غلام ہو۔ اُمیّت ۔ کتابت کے منافی ہے۔ اُمّی شخص لکھی ہوئی تحریر کو نہیں پڑھ سکتا، لیکن زبانی تعلیم وتلقین سے تلقین کردہ الفاظ کی قرأت کرسکتاہے۔ پس اگرجبریل امین کوئی لکھی ہوئی تحریر لے کرآئے تھے کہ جس میں یہ آیتیں لکھی ہوئی تھیں اور اس کی نسبت یہ کہتے تھے کہ اقراء یعنی اس تحریر کو پڑھو توپھر اس کے جواب میں مَااَنَا بقاری کہنا ظاہر اور مناسب ہے جیسا کہ بعض روایات میں ہے کہ جبریل ایک حریری صحیفہ لے کر آئے جو جواہرات سے مرصع تھا اور وہ صحیفہ آں حضرت ﷺ کے ہاتھ میں دیاور کہاکہ اقراء یعنی اس حریری صحیفہ کو پڑھیے۔ آپ نے فرمایا مَااَنَا بقاری یعنی میں اُمّی ہوں لکھی ہوئی تحریر کو پڑھ نہیں سکتا۔
بعض مفسرین کاقول ہے کہ الٓمّٓ ذٰلِکَ الْکِتٰبُ لَارَیْبَ فِیْہِ میں اسی کتاب کی طرف اشارہ ہے جس کو جبریل امین لے کر آئے تھے اور اگرجبریل امین کوئی تحریر لیکر نہیں آئے تھے اور اقرأ سے کسی لکھی ہوئی تحریر کاپڑھنا مطلوب نہ تھا ،بلکہ محض زبان سے قرأت اور تلفظ مطلوب تھا تو اس صورت میں مَااَنَا بقاری کےمعنی یہ نہیں کہ میں اُمّی ہوں پڑھاہوا نہیں بلکہ یہ معنی ہیں کہ وحی کی ہیبت اور دہشت کی وجہ سے پڑھ نہیں سکتا رؤیت ملک اورمشاہدۂ انوار وحی کی وجہ سے قلب پر اس درجہ ہیبت اور دہشت طاری ہے کہ زبان اٹھتی نہیں کس طرح پڑھوں جیسا کہ بعض روایات میں ہے کہ آپ نے فرمایا کہ کیف اقراء اس بناء پر ہم نے مَااَنَا بقاری کایہ ترجمہ کیاہے کہ میں پڑھ نہیں سکتا۔ جو اس معنی کے بھی مناسب ہے اور پہلے معنی کے ساتھ بھی درست ہوسکتاہے۔ ہٰذا توضیح ماافادہ الشیخ عبدالحق المحدث الدہلوی فی اشعۃ اللمعات (۱) مدارج النبوۃ (۲) وکذافی تیسیرالقاری شرح بخاری بزبان فارسی الشیخ نورالحق دہلوی ،ج ۱ ،ص ۷ و شرح فارسی شیخ الاسلام دہلوی(۳)
فرشتہ نے پھرتیسری بار مجھ کو پکڑا اور اسی شدت کے ساتھ دبایا اور چھوڑ دیا اور یہ کہاکہ پڑھو۔
اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ ۝١ خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ ۝٢ اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ ۝٣ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ ۝٤ عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ ۝٥
ترجمہ: آپ اپنے پروردگار کے نام کی مدد سے پڑھئے جو خالق ہے تمام کائنات کا خصوصاً انسان کا کہ جس کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔ آپ پڑھیے کہ آپ کا رب بہت ہی کریم ہے جس نے قلم سے علم سکھلایا اور انسان کو وہ چیز بتلائیں جن کو وہ نہیں جانتاتھا۔
بعدازان آپ گھر تشریف لائے اور بدن مبارک پر لرزہ اورکپکپی تھی آتے ہی حضرت خدیجہ سے فرمایا زملّونی ۔ زملّونی ۔ مجھ کو کچھ اڑھاؤ جب کچھ دیر کے بعد وہ گھبراہٹ اور پریشانی دور ہوئی تو تمام واقعہ حضرت خدیجہ سےبیان کیا اور یہ کہاکہ مجھ کو اندیشہ ہوا کہ میری جان نہ نکل جائے۔ چونکہ وحی اور فرشتہ کے انوار وتجلیات کا حضور کی بشریت پر دفعۃ نزول اور ورود ہوا اسلیے وحی کی عظمت اورجلال سے آپ کو یہ خیال ہوا کہ اگر وحی کی یہی شدت رہی تو عجب نہیں کہ میری بشریت وحی کے اس ثقل اور بوجھ کو نہ برداشت کرسکے یا بارنبوت سے مغلوب ہوکر فرنا ہوجائے۔(سیرۃ المصطفیٰ ﷺ)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button