مضامین

سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے خوش نصیب حضرات

سابقین اوّلین رضی اللہ تعالیٰ عنہم ورضواعنہ
سب سے پہلےا ٓپ کی حرم محترم صدیقہ النساء خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اسلام قبول کیا اور بروز دوشنبہ شام کے وقت سب سے پہلے آپ کے ہمراہ نماز پڑھی ،لہٰذا اوّل اہل قبلہ آپ ہی ہیں (اصابہ) وعیوان الاثر) اورپھر ورقہ بن نوفل مشرف باسلام ہوئے بعدازاں حضرت علی کرم اللہ وجہہ جو مدت سے آپ کی آغوش تربیت میں تھے دس، سال کی عمر میں اسلام لائے اور بعثت سے اگلے روز بروز سہ شنبہ آپ کے ہمراہ نماز پڑھی۔ ابن اسحاق کی روایت میں ہے کہ بعثت سے اگلے روز حضرت علی نے آں حضرت ﷺ اور حضرت خدیجہ ؓ کو نماز پڑھتے دیکھا تو دریافت کیاکہ یہ کیاہے۔ آپ نے ارشاد فرمایا کہ یہ اللہ کا دین ہے یہی دین لے کر پیغمبر دنیا میں آئے میں تم کو اللہ کی طرف بلاتا ہوں کہ اسی کی عبادت کرو اور لات وعزیٰ کاانکار کرو ، حضرت علی نے کہا یہ بالکل نئی شئے ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں سنی تھی جب تک میں اپنے باپ ابوطالب سے اس کا ذکر نہ کرلوں اس وقت تک کچھ نہیں کہہ سکتا۔ آپ پر یہ بات شاق گذری کہ آپ کاراز کسی پر فاش ہو اس لیے حضرت علی سے یہ فرمایا کہ اے علی اگر تم اسلام نہیں قبول کرتے تو اس کا کسی سے مت ذکر کرو۔ حضرت علی خاموش ہوگئے۔ ایک رات گذرنے نہ پائی کہ دل میں اسلام ڈال دیاگیا جب صبح ہوئی تو آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اورعرض کیا کہ آپ کس چیز کی دعوت دیتے ہیں۔ آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ گواہی دو کہ اللہ ایک ہے کوئی اس کا شریک نہیں اورلات وعزیٰ کا انکار کرو اور بت پرستی سے نفرت اور بیزاری ظاہر کرو۔ حضرت علی نے اسلام قبول کیا اورعرصہ تک (یعنی ایک سال تک جیسا کہ بعض روایت میں ہے) اپنےاسلام کو ابوطالب سے مخفی رکھا۔ بعدازاں آپ کے آزاد کردہ غلام زید بن حارثہ اسلام لائے اور آپ کے ہمراہ نماز ادا کی۔ [سیرۃ المصطفیٰ،جلد ۱]

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button