سلام، مصافحہ اور معانقہ کے آداب-۲

سلام کرنا مسنون ہے
سوال:(۱۴۱۶)سلام کرنا ضروری ہے یا کیا؟(۲۷۳/۱۳۳۳ھ)
الجواب:مسنون ومستحب ہے(۲) فقط واللہ تعالیٰ اعلم
ہرملاقات پر سلام کرنا مسنون ومستحب ہے
سوال:(۱۴۱۷) اگرکسی سے ملاقات دن بھر میں دس مرتبہ ہوتو ہر مرتبہ سلام ضروری ہے یا ایک مرتبہ کافی ہے؟(۳۶۶/۱۳۴۵ھ)
الجواب: اگرچند مرتبہ دن میں ملاقات ہوہردفعہ سلام کرنا مستحب ہے ،جیسا کہ حدیث شریف میں ہے: عن أبی ہریرۃ رضی اللہ عنہ أنّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال:إِذَا انْتَهَى أَحَدُكُمْ إِلَى مَجْلِسٍ فَلْيُسَلِّمْ، فَإِنْ بَدَا لَهُ أَنْ يَجْلِسَ فَلْيَجْلِسْ، ثُمَّ إِذَا قَامَ فَلْيُسَلِّمْ الحدیث (۱) وعنہ عن النبی ﷺقال:إِذَا لَقِيَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيُسَلِّمْ عَلَيْهِ، فَإِنْ حَالَتْ بَيْنَهُمَا شَجَرَةٌ، أَوْ جِدَارٌ، أَوْ حَجَرٌ، ثُمَّ لَقِيَهُ فَلْيُسَلِّمْ عَلَيْهِ، رواہ أبوداود (۲) فقط واللہ تعالیٰ اعلم
ایک آدمی کی تخصیص کرکے سلام کرنا
سوال:(۱۴۱۸) جب کہ مسجد میں بہت سے لوگ جمع ہوں اور خارج مسجد سے ایک آدمی تخصیص کرکے فقط ایک کوسلام کرے یا نہیں؟(۳۹/۱۳۳۸ھ)
الجواب: سبھی کوسلام کرنا چاہیے، تخصیص کسی کی نہ کرنی چاہیے(۳) فقط اللہ تعالیٰ اعلم
اہل مجلس میں جس نے سلام کاجواب دیا اسی کو ثواب ملے گا
سوال:(۱۴۱۹)عمر نے ایک مجلس پرسلام کیا، اس میں سے ایک دونے سلام کاجواب دیا، آیا سب مجلس والے ثواب کے مستحق ہیں یا جواب دینے والے؟ (۱۰۷۳/۳۳-۱۳۳۴ھ)
الجواب: سب مجلس والوں سے فرض ادا ہوگیا، لیکن ثواب اسی کو ہوگا جس نے جواب دیا۔ فقط
سلام کاجواب نہ دینے والے کوکافر یا منافق کہنا
سوال:(۱۴۲۰) سلام کاجواب نہ دینے والے کوکافر یا منافق کہنا کیساہے؟( ۲۷۳/ ۳۲-۱۳۳۳ھ)
الجواب:کافر ومنافق نہیں کہنا چاہیے، مگر سلام کاجواب دینا ضروری ہے، جواب نہ دینے والاگنہ گار ہے۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم
ہاتھ اُٹھاکر یاٹوپی اتار کرسلام کرنا
سوال:(۱۴۲۱)کسی مسلم یاغیر مسلم کو ہاتھ اٹھاکر سلام کرنا کیساہے؟ بعض مرتبہ افسر وغیرہ دور سے نظرپڑجاتے ہیں توماتحت لوگ ہاتھ اٹھاکر سلام کرتے ہیں، اور یورپ میں رواج ہے کہ ٹوپی اتارکرسلام کرتے ہیں، اگرکوئی مسلمان ایسے ملکوں میں پہنچے توکیا طریقہ اختیار کرے؟ کیا بہ مجبوری ہاتھ اٹھاکر یا ٹوپی اتارکرسلام کرنے سے بھی گناہ عائد ہوتاہے؟ (۱۰۷۱/۴۴-۱۳۴۵ھ)
الجواب: اصل یہ ہے کہ کسی خاص حاجت اور ضرورت کے بغیر غیر مسلم کو سلام نہ کرنا چاہیے، شریعت نے اس کی اجازت کامبنیٰ صرف ضرورت پر رکھاہے، پس ضرورۃً اگرکہیں ہاتھ اٹھاکر بھی سلام کرے توجائز ہے، مگر اس میں خاص نصاریٰ کاطرز اختیار کرنا کسی حال بھی جائز نہیں، اول تو صرف ہاتھ ہی اٹھانے کی احادیث میں ممانعت ہے(۱) پھر اس پر یہ مکروہ اور قبیح طریقہ کہ ٹوپی اتارکر سلام کیاجائے کسی طرح بھی حدِ جواز میں نہیں آسکتا، یہ تو نصاریٰ کا خاص شعار ہے، جس کی مخالفت بہر کیف ضروری ہے۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم۔
[فتاویٰ دارالعلوم دیوبند، جلد نمبر۱۷]۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ



