مضامین

واقعۂ معراج النبی ﷺ

حضرت قتادہ حضرت انس ابن مالک ؓ سے اور وہ حضرت مالک ابن صعصعہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم نے اسراء اور معراج کی رات کے احوال کی تفصیل صحابہ سے بیان کرتے ہوئے فرمایا: اس رات میں حطیم میں لیٹاہواتھا اور بعض موقعوں پر آپ نے حجر میں لیٹنے کاذکرفرمایا کہ اچانک ایک آنے والا (فرشتہ) میرے پاس آیا اور اس نےیہاں سے یہاں تک کے حصہ کو چاک کیا۔ راوی کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی مراد گردن کے گڑھے سے زیرناف بالوں تک کاپورا حصہ تھا۔ پھر آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اس فرشتہ نے اس طرح میرا سینہ چاک کرکے میرے دل کو نکالااس کے بعد میرے سامنے سونے کاایک طشت لایاگیا جو ایمان سے بھراہواتھا اور اس میں میرے دل کو دھویاگیا، پھر دل میں (اللہ کی عظمت ومحبت یا علم وایمان کی دولت) بھری گئی اور پھردل کو سینہ میں اس کی جگہ رکھ دیاگیا اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ پھر میرے پیٹ کو زمزم کے پانی سے دھویا گیا اور پھراس میں ایمان و حکمت بھراگیا، اس کے بعد سواری کاایک جانور لایاگیا جو خچر سے نیچا اور گدھے سے اونچاتھا، یہ جانور سفید رنگ کاتھا اور اس کانام براق تھا، جہاں تک اس کی نظر جاتی تھی وہاں اسکا ایک قدم پڑتا، مجھے اس پر سوار کیاگیا اور جبرئیل مجھے لے کر چلے یہاں تک کہ میں آسمان دنیا پر پہنچا، جبرئیل نے دروازہ کھولنے کیلئےکہاتو( دربان فرشتوں کی طرف سے ) پوچھا گیا کہ کون ہے؟ جبرئیل نے کہا میں جبرئیل ہوںپھر پوچھاگیا اور تمہارے ساتھ کون ہے؟ جبرئیل نے جواب دیا محمد ہیں۔ اس کےبعد سوال کیاگیا ان کو بلانے کےلیے کسی کو بھیجاگیاتھا؟ جبرئیل نے جواب دیا بلائے ہوئے آئےہیں تب ان فرشتوں نے کہا ہم محمد کو خوش آمدید کہتے ہیں، آنے والے کو آنا مبارک ہو۔ اس کےبعد آسمان کادروازہ کھولاگیا اور جب میں آسمان میں داخل ہواتو کیادیکھتا ہوں کہ حضرت آدم علیہ السلام میرے سامنے کھڑے ہیں ، جبرئیل نے کہایہ تمہارے باپ آدم ہیں ان کو سلام کرو۔ میں نے حضرت آدم ؑ کو سلام کیا، انہوںنے سلام کاجواب دیا اور فرمایا نیک بخت بیٹے اور پیغمبر صالح کو خوش آمدید کہتاہوں۔ ا سکےبعد جبرئیل مجھ کولے کر اور اوپر دوسرے آسمان پر آئے انہوںنے دروازہ کھولنے کیلئے کہا تو پوچھاگیا کون ہے؟ جبرئیل نے کہا میں جبرئیل ہوں۔ پھر پوچھا گیا تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوںنے کہا محمد ہیں۔ پھر سوال کیاگیا ان کو بلانے کیلئے کسی کو بھیجا گیاتھا؟ جبرئیل نے کہاہاں! تب دربان فرشتوں نے کہاہم محمد کو خوش آمدید کہتے ہیں ۔ آنے والے کو آنامبارک ہو۔ اسکے بعد آسمان کادروازہ کھولاگیا اور جب میں آسمان میں داخل ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت یحییٰ اور عیسیٰ علیہما السلام کھڑے ہیں جو ایک دوسرے کے خالہ زاد بھائی تھے۔ جبرئیل نے کہایہ یحییٰ ہیں اور یہ عیسیٰ ہیں ان کو سلام کرو۔ میں نے دونوں کو سلام کیا اور دونوں نے میرے سلام کاجواب دے کرکہا نیک بخت بھائی اور پیغمبر صالح کو ہم خوش آمدید کہتے ہیں ۔اس کےبعد جبرئیل مجھ کو لےکر اور اوپر چلے اور تیسرے آسمان پر آئے انہوں نے دروازہ کھولنے کیلئے کہاتو پوچھا گیا کون ہے؟ جبرئیل نے کہا میں جبرئیل ہوں پھر پوچھاگیا تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں نےکہا محمد ہیں۔ پھرسوال کیاگیا ان کو بلانے کیلئے کسی کو بھیجا گیاتھا؟ جبرئیل نے کہاہاں۔ تب ان فرشتوں نےکہاہم محمدکوخوش آمدید کہتے ہیں آنے والےکو آنا مبارک ہو۔ اس کے بعد آسمان کادروازہ کھولاگیا اورجب میں تیسرے آسمان میں داخل ہواتو کیا دیکھتاہوں کہ حضرت یوسف علیہ السلام سامنے کھڑے ہیں۔ جبرئیل نے کہا یہ یوسف ہیں ان کو سلام کرو۔ میں نے ان کو سلام کیا اورانہوں نے میرے سلام کا جواب دے کر کہا میں نیک بخت بھائی اور پیغمبر صالح کو خوش آمدید کہتا ہوں۔ اس کے بعد جبرئیل مجھ کو لے کر اور اوپر چلے اور چوتھے آسمان پر آئے ، انہوں نے دروازہ کھولنے کے لئے کہا تو پوچھا گیا کون ہے؟ جبرئیل نے کہا میں جبرئیل ہوں، پھر پوچھا گیا اور تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا محمد ہیں۔ پھر سوال کیا گیا ان کو بلانے کے لئے کسی کو بھیجا گیا تھا؟ جبرئیل نے کہا ہاں ، جب ان فرشتوں نے کہا ہم محمد کو خوش آمدید کہتے ہیں آنے والے کو آنا مبارک ہو۔ اس کے بعد آسمان کا دروازہ کھولاگیا ور جب میں چوتھے آسمان میں داخل ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت ادریس علیہ السلام سامنے کھڑے ہیں، جبرئیل نے کہا یہ ادریس ہیں ان کو سلام کرو! میں نے ان کو سلام کیا اور انہوں نے میرے سلام کا جواب دے کر کہا میں نیک بخت بھائی اور پیغمبر صالح کو خوش آمدید کہتا ہوں۔ اس کے بعد جبرئیل مجھ کو لیکر اور اوپر چلے اور پانچویں آسمان پر آئے۔ انہوں نے دروازہ کھولنے کے لئے کہا تو پوچھا گیا کون ہے؟ جبرئیل نے کہا میں جبرئیل ہوں، پھر پوچھا گیا اور تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا محمد ہیں۔ پھر سوال کیا گیا ان کو بلانے کے لئے کسی کو بھیجا گیا تھا؟ جبرئیل نے کہا ہاں ۔ تب فرشتوں نے کہا ہم محمد کو خوش آمدید کہتے ہیں، آنے والے کو آنا مبارک ہو۔ اس کے بعد آسمان کا دروازہ کھولاگیا اور جب میں پانچویں آسمان میں داخل ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت ہارون علیہ السلام ہیں ، جبرئیل نے کہا یہ ہارون ہیں ان کو سلام کرو! میں نے ان کو سلام کیا اور انہوں نے میرے سلام کا جواب دے کر کہا میں نیک بخت بھائی اور پیغمبر صالح کو خوش آمدید کہتا ہوں ۔ اس کے بعد جبرئیل مجھ کو لے کر اور اوپر چلے اور چھٹے آسمان پر آئے انہوں نے دروازہ کھولنے کے لئے کہا تو پوچھا گیا کہ کون ہے ؟ جبرئیل نے کہا میں جبرئیل ہوں، پھر پوچھا گیا تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا محمد ہیں پھر سوال کیا گیا ان کو بلانے کے لئے کسی کو بھیجا گیا تھا؟ جبرئیل نے کہا ہاں ۔ تب فرشتوں نے کہا ہم محمد کو خوش آمدید کہتے ہیں آنے والے کو آنا مبارک ہو۔
اس کے بعد آسمان کا دروازہ کھولاگیا اور جب میں چھٹے آسمان میں داخل ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام میرے سامنے کھڑے ہیں ، جبرئیل نے کہا یہ موسیٰ ہیں ان کو سلام کرو، میں نے ان کو سلام کیا اور انہوں نے میرے سلام کا جواب دے کر کہا میں نیک بخت بھائی اور پیغمبر صالح کو خوش آمدید کہتا ہوں ، اس کے بعد جب میں آگے بڑھا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام رونے لگے پوچھا گیا آپ کیوں روتے ہیں؟ حضرت موسیٰ عالیہ السلام نے کہا ایک نو جوان جس کو میرے بعد رسول بنا کر دنیا میں بھیجا گیا اس کی امت کے لوگ میری امت کے لوگوں سے کہیں زیادہ جنت میں داخل ہوں گے۔ بہر حال جبرئیل مجھ کو لے کر اور اوپر چلے اور ساتویں آسمان پر آئے ، انہوں نے آسمان کا دروازہ کھولنے کے لئے کہا تو پو چھا گیا کہ کون ہے؟ جبریل نے کہا میں جبرئیل ہوں پھر پوچھا گیا اور تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا محمد ہیں۔ پھر سوال کیا گیا ان کو بلانے کے لئے کسی کو بھیجا گیا تھا؟ جبرئیل نے کہا ہاں ۔ تب ان فرشتوں نے کہا ہم محمد کو خوش آمدید کہتے ہیں آنے والے کو آنا مبارک ہو اس کے بعد آسمان کا دروازہ کھولاگیا اور جب میں ساتویں آسمان میں داخل ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام میرے سامنے کھڑے ہیں۔ جبرئیل نے کہا یہ تمہارے باپ ابراہیم ہیں ان کو سلام کرو میں نے ان کو سلام کیا اور انہوں نے میرے سلام کا جواب دے کر کہا میں نیک بخت بیٹے اور پیغمبر صالح کو خوش آمدید کہتا ہوں۔ اس کے بعد مجھ کو سدرۃ امنتہیٰ تک پہنچایاگیا میں نے دیکھا کہ اس کے پھل یعنی بیر مقام ہجر کے (بڑے بڑے) مٹکوں کے برابر تھے اور اس کے پتے ہاتھی کے کانوں کے برابر تھے۔ جبرئیل نے کہایہ سدرۃ المنتہیٰ ہے۔ میں نے وہاں چار نہریں بھی دیکھیں، دونہریں توباطن کی تھیں اور دونہریں ظاہرکی تھیں۔ میںنے پوچھا جبرئیل ! یہ دو طرح کی نہریں کیسی ہیں؟ جبرئیل نے بتایا یہ باطن کی دونہریں جنت کی ہیں اور یہ ظاہر کی دونہریں نیل اور فرات ہیں۔ پھر مجھ کو بیت المعمور دکھلایاگیا اور اس کے بعد ایک پیالہ شراب کا، ایک پیالہ دودھ کا اور ایک پیالہ شہد کا میرے سامنے لایاگیا اور مجھے اختیار دیاگیا کہ ان تینوں میں سے جس چیز کا پیالہ پسند ہولے لوں چنانچہ میں نے دودھ کا پیالہ لے لیا۔ جبرئیل نے کہادودھ فطرت ہے اور یقیناً تم اورتمہاری امت کےلوگ اسی فطرت پر رہیں گے۔(مشکوٰۃ شریف ،جلد ثانی )
(جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ان شاء اللہ تعالیٰ)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button