مضامین

ماں باپ اور اولاد کے حقوق واحکام-۱۸

برادری نے بلاوجہ ماں کو برادری سے علیحدہ کردیا ہوتو بیٹے کو کیا کرنا چاہیے؟
سوال:(۱۰۴۳) میری والدہ بیوہ نے ایک پشاوری سے نکاح ثانی کرلیا، برادری نے ان کو علیحدہ کردیا، کچھ دنوں بعد شخص مذکور نے میری والدہ کو طلاق دے دی، ہمارے سوا کوئی ان کا خبرگیراں نہیں ہے، سعادتِ دارین سمجھ کر میں اپنی والدہ کی خدمت کرتاہوں، اس پر مجھ کو بھی برادری سے خارج کردیاہے، اس بارے میں شرعی حکم کیاہے؟(۲۳۸۸/۱۳۴۱ھ)
الجواب:سائل کی والدہ نے کچھ براکام اور گناہ نہیں کیا، کیوں کہ نکاح کرلینا اچھا کام ہے اور سنت ہے، اس کو عیب جاننے والے گنہ گار اور فاسق ہیں، اور سائل کو بہ حالت مذکورہ اپنی والدہ کی خدمت کرنا عین ثواب اور حق شرعی ہے، سائل مستحق اس کا نہیں ہے کہ برادری سے خارج کیاجاوے، اور گنہ گار وہ لوگ ہیں جو اس وجہ سے سائل کو اور اس کی والدہ کوبرادری سے خارج کریں۔ فقط
ماں نے بیٹوں کی مرضی کے خلاف نکاح کرلیا تو بیٹوں کو کیا کرنا چاہیے؟
سوال:(۱۰۴۴) ہم دوبھائی ہیں ، ہماری والدہ بیوہ نے دونوں بھائیوں کے خلاف مرضی زید کے گھر جاکر نکاح کرلیا، ہم نے زید سے تعلقات قطع کردیئے، ایک سال کے بعد میں نے خیال کیا کہ کونسا فعل براہوگیاہے نکاح کرنا شرعی کام ہے، ایک دن میںنے زید کےگھر جاکر اپنی والدہ صاحبہ کو راضی کیا اور معافی مانگی، آیا یہ امر خطا ہے یا صواب؟(۲۶۶۹/۱۳۴۳ھ)
الجواب: یہ کام آپ نے بہت اچھا کیا اور اتباعِ شریعت وسنت رسول اللہ کے موافق کام کیا، یہ امر ان شاء اللہ تعالیٰ موجب رضائے الٰہی وخوشنودیٔ آنحضرت ﷺ ہے۔ فقط ۔۔ختم۔۔۔۔(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ،جلد ۱۶)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button