زکوٰۃ کے مصارف واحکامات

مسکین کی تعریف
سوال:(۳۱۱) مسکین کس کو کہتے ہیں۔
الجواب: جوشخص مالک نصاب نہ ہو اور وہ محتاج ہو اس کو فقیر اور مسکین کہتےہیں اور کتب فقہ میں اس کی پوری تفصیل لکھی گئی ہے۔
صاحب زکوٰۃ نے جب اجازت دیدی ہو تو پھر دریافت کی ضرورت نہیں
سوال:(۳۱۲) میں جس کے یہاں ملازم ہوں اس نے زکوٰۃ نکالی اوریہ کہا کہ تین روپے تم خود لے لینا۔ تو اب میں بلادریافت کئے لے سکتا ہوں یانہیں۔
الجواب: جب کہ اس نے یعنی مالک نے اجازت دیدی تو لینا درست ہے، بہ نیت زکوٰۃ لےکر اپنے کام میں لاوے۔ فقط
کیازکوٰۃ کی رقم تجارت میں لگائی جاسکتی ہے
سوال:(۱/۳۱۳) کیازکوٰۃ کاروپیہ تجارت میں لگایاجاسکتاہے اور اس سے جو منافع ہو وہ اپنے ذاتی صرف میں لایاجاسکتاہے جب کہ اصل مامون ومحفوظ ہو۔
موجودہ رقم سے زکوٰۃ دے یا الگ سے بھی دے سکتاہے
سوال:(۲/۳۱۴) زیدکے پاس دوسو روپے ہیں آیا من جملہ اس رقم کے پانچ روپئے زکوٰۃ دینا چاہیے یا یہ کہ زید اصل اپنے پاس رکھ کر اور علیٰحدہ سے کچھ انتظام کرکے قرض وغیرہ سے پانچ روپئے زکوٰۃ دیدے۔
الجواب: (۱) اس صورت میں زکوٰۃ ادانہ ہوگی زکوٰۃ کے روپیہ کا مالک بنانا ایسے مسلمان کو جو کہ مالک نصاب نہ ہو اور سید نہ ہو ضروری ہے۔
(۲) یہ اختیار ہے کہ خواہ ان دوسوروپئے میں سے ۵روپئے زکوٰۃ کادیدے یا علیٰحدہ اس کے پاس ہوں تو اس میں سے دیدے لیکن اگر اس کے پاس دوسو روپئے سے کچھ زیادہ ہوگا ت اس زاید کی زکوٰۃ بھی ادا کرنی ہوگی اور قرض لینے کی ضرورت نہیں ہے ۔غرض نتیجہ یہ ہے کہ جس قدروپیہ اس کے پاس ہے اس کی زکوٰۃ حساب کرکے اس میں سے دیدے۔ فقط
زکوٰۃ کی رقم سے کپڑا بناکر دیاجائے توکیا حکم ہے
سوال:(۳۱۵) زکوٰۃ کے روپئے میں سے مستحق زکوٰۃ کواگر کپڑے بناکر دیئے جائیں تو جائز ہے یانقد دینا ضروری ہے۔
الجواب: زکوٰۃ کے روپئے سے کسی مستحق کوکپڑے بناکر دیدیئے جاویں تویہ بھی درست ہے۔
جس کو زکوٰۃ کی رقم تقسیم کے لئے دی گئی ہے وہ اپنی مسکین بیوی کو اس میں سے دسکتا ہے یانہیں
سوال:(۳۱۶) زید نے عمر کوزکوٰۃ کاروپیہ دیا کہ وہ مستحق پر تقسیم کردے عمر صاحب نصاب ہے مگر زوجہ اسکی مسکین ہے توعمر اپنی زوجہ کو زید کی زکوٰۃ میں سے کچھ دے سکتا ہے یا نہیں۔
الجواب: اس صورت مٰن عمر اپنی زوجہ کو زکوٰۃ کاروپیہ دے سکتاہے۔
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند، جلد نمبر۶)



