مضامین

احکامات حج-(فضائل ومسائل)-۱۲

شرعی محارم کون کون؟
عورت اپنے شوہر کے ساتھ حج کو جاسکتی ہے۔ اور شوہر کے علاوہ ان تمام محرم مَردوں کے ساتھ حج کو جاسکتی ہے جن کے ساتھ نکاح جائز نہیں ہے۔ مثلاً باپ، دادا، بیٹے ، پوتے پڑپوتے، نواسے اوران کی اولادیں، داماد، خُسر ، خسر کا باپ، شوہر کانانا،حقیقی بھائی ، باپ شریک بھائی، ماں شریک بھائی، رضاعی بھائی اوران کی اولادیں، رضاعی باپ، حقیقی چچا، تایا، ماموں، نانا وغیرہ یہ سب عورت کے لئے محارم ہیں۔ اور ان میں سے کسی کے ساتھ کبھی بھی نکاح جائز نہیں۔ لہٰذا ان میں سے ہر ایک کے ساتھ حج کو جاسکتی ہے۔
اسی طرح شوہر کے لڑکوں کے ساتھ سفرحج کو جانا جائز ہے، اس لئے کہ وہ بھی عورت کے لئے محرم ہیں۔
مگر تایازاد ، چچازاد، پھوپھی زاد، ماموں زاد، خالہ زاد بھائی شرعی محرم نہیں ہیں، ان کے ساتھ نکاح جائز ہے۔ اس لئے ان کے ساتھ سفر شرعی جائز نہیں۔(مستفاد معلم الحجاج؍۸۴)
محرم کے ساتھ معصیت کاخطرہ ہوتوکیا کریں؟
عورت کے لئے بلامحرم سفر کرنا اس لئے ناجائز اور ممنوع ہے کہ بلامحرم شرعی غیر محرم کے ساتھ سفر کرنے میں معصیت اور فتنہ میں مبتلا ہونے کاخطرہ غالب ہوتاہے۔ لہٰذا ممانعت کی اصل وجہ اور علّت ابتلاءِ معصیت ہے۔ حتیٰ کہ اگرمحرم شرعی کے ساتھ ابتلاءِ معصیت کااندیشہ ہوتو ایسے محرم شرعی کے ساتھ سفر کرنا بھی جائز نہیں ہے۔ اس لئے صرف محرم شرعی میسرہونا کافی نہیں ہے۔ بلکہ وہاں بھی ایسے محرم شرعی کا میسر ہونا لازم ہے جس کے ساتھ ابتلاء کاشبہ نہ ہو۔
بلامحرم تین دن یا اس سے زائد مسافت کا سفر
اگر سفر شرعی اور تین دن یا اس سے زیادہ مسافت کاسفر ہے، یعنی ۸۲کلومیٹر ۲۹۶میٹر سے زیادہ کا ہے تو حنفی مسلک کے مطابق عورت کا بلامحرم یا بلاشوہر اتنی لمبی مسافت کا سفر طے کرکے حج کو جانا مکروہ تحریمی ہے، لیکن حج کرلے گی توبالاتفاق اس کا حج صحیح اور درست ہوجائے گا۔ اور اس پر کوئی جرمانہ بھی لازم نہ ہوگا۔ البتہ کراہت تحریمی کے ارتکاب کاگناہ ہوگا۔ اور اسی پر حنفی مسلک کا فتویٰ ہے۔ ۔ ۔۔۔۔ (ماخوذ از کتاب انوارمناسک)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(جاری ہے ان شاء اللہ تعالیٰ)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button