کھوکھلے نعروں کانام وطن سے محبت نہیں آئیے اسے سمجھیں-۲

وطن نام ہے زمین، سوسائٹی ، قیادت اور اخلاقی قدروں کا، یہیں سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اسلام نے جو وطن کی محبت کی تکمیل کی ہے وہ ان تمام چیزوں کوشامل ہے، جن سے مل کر وطن کاقیام عمل میں آتاہے، چنانچہ اسلام نے حب الوطنی کو معنی ومفہوم سے خالی محض ایک دعویٰ نہیں بنایا اور نہ ہی ایک نعرہ بنایا کہ جس سے شخصی، اجتماعی یا سیاسی فائدے حاصل کیے جائیں، بلکہ اسےا یک ایسا جامع عنوان بنایا ہے جواعلیٰ اخلاقی قدروں اور عمدہ اصولوں سے مزین ہو۔ شریعت اسلامی نے ہرفرد کو اس بات پر اُبھارا ہے کہ وہ ایک بہترین شہری بن کررہے، چنانچہ شریعت نے اس بات کاحکم دیاہے کہ ملک کا باشندہ خیر کولازم پکڑے ، راہِ راست پر قائم رہے، دوسروں کے ساتھ حسن سلوک کے ذریعہ ملک کی تعمیر وترقی کا حصہ بنے، اچھے اخلاق وکردار سے آراستہ رہے، علم ومعرفت کی تلاش وجستجو میں سرگرم رہے، صحیح فکر اور اچھی ثقافت وتہذیب کی نشر واشاعت کرے، اپنی مہارتوں ، صلاحیتوں اور امکانات کو وطن کی خدمت میں استعمال کرے۔
اسی طرح شریعت نے ہراس بات کاحکم دیاہے جو سوسائٹی کے افراد کے درمیان مستحکم تعلقات پیدا کرے اور ان کے درمیان محبت کے جذبات کے فروغ کاسبب بنے، چنانچہ شریعت نے باہمی تعاون، عفوودرگزر، بڑوں کااحترام، چھوٹوں پر شفقت، مصیبت زدوں کے ساتھ غم گساری ، رنجیدہ شخص کو تسلی دینا، محتاج کی مدد، والدین کے ساتھ حسن سلوک، صلہ رحمی، پڑوسیوں کے ساتھ بہتر سلوک، مہمانوں کا اکرام، دوستوں کے ساتھ بہتر برتاؤ، اولاد کی اچھی تربیت، دوسروں کے لیے بھلائی کی چاہت، جو دوسخااور عزت وآبرو کی حفاظت جیسے بہتر اخلاق پر اُبھارا، اور غیبت، چغل خوری، ظلم ،کینہ، حسد، انانیت ، گروپ بندی اورہر ان چیزوں سے روکا ہے جو دلوں میں نفرت پیدا کرنے کاسبب بنتی ہین اور ملک کا اجتماعی شیرازہ منتشر کرتی ہیں۔
اسی طرح شریعت نے وطن، اس کے قدرتی وسائل اور پیداوار کی حفاظت، اس کے استحکام اور اس کی بقاء کے لیے کوششیں کرنے، ہر شر سے اس کا دفاع کرنے ، اسکو صالح ثقافت کے ذریعہ پاکیزہ رکھنے کاحکم دیاہے، اور اس بات کا بھی حکم دیا ہے کہ ملک و وطن کو گندی اور منفی ثقافتوں سے بچایا جائے اور ہر ایسی قولی وفعلی دخل اندازی کے خلاف وطن کی مدافعت کی جائے، جو دخل اندازی وطن اوراس کے استحکام کے لیے مضر ہو ۔وطن کی محبت کے صرف نعرے لگانے یا مشرکانہ نعروں کی تبلیغ وتائید کرنے کی اجازت اسلام نہیں دیتا۔ وطن کے تعلق سے اسلام کی یہ ہدایات ہندوستان جیسے ملک کے لیے بھی ہیں اور ان ممالک کے لیے بھی جن کا شمار اسلامی ملکوں میں ہوتاہے، البتہ دعوت وتبلیغ اور معاشرت کے کچھ معاملوں میں ہندوستان یا ان ملکوں کے بعض احکام مختلف ہوں گے جہاں مسلمانوں کے ساتھ دوسرے مذاہب کے لوگ بھی رہتے ہیں یاجہاں مسلمان اقلیت میں ہیں۔
وطن سے حقیقی محبت کا یہی وہ آئینہ ہے جو اوپر بیان کیاگیاہے اور اسے ہر انسان تسلیم کرے گا ، اب ان حقائق کو سامنے رکھ کر انسان کو خود اندازہ کرنا چاہیے کہ وہ اپنے وطن سے کتنی محبت کرتا ہے اور اس کے تقاضوں پر پورا اتررہاہے یانہیں، ہندوستان جیسے ملک میں کسی خاص نظریے کو وطن سے محبت کا معیار بنالینا یا کسی مخصوص جملے ، نعرے یابول کوحب الوطنی کاشناخت نامہ سمجھ لینا بھی نہایت ہی مذموم حرکت ہے، ایسے نظریات کے پنپنے سے ملکی ترقی کا ڈھانچہ تیزی سے تنزل کی طرف جاتاہے اور ایک ملک کے رہنے والے مختلف طبقات، قبائل اور مذاہب کے پیرو کاروں کے مابین ایک طویل کشمکش کادور شروع ہوجاتا ہے، جو یقیناً ملک سے محبت کے منافی ہے۔ وطن سے محبت کا تقاضا نعرے مارنا، لوٹ مار مچانا، بے گناہوں کا قتل کرنا، شرک وبت پرستی پر لوگوں کو مجبور کرنا نہیں ہے، بلکہ یہ ہے کہ ہم قومی وبین الاقوامی سطح پر علم وعمل کے میدانوں میں اپنے ملک ، وطن اور قوم کانام روشن کریں اور ایک ملک میں رہنے والے بھائیوں کے حق میں خیر اور خیر کا ذریعہ ثابت ہوں۔ (ختم شد)۔۔۔۔۔۔۔۔(ماہنامہ حج میگزین۔۔مئی ۲۰۱۶ء)



