مضامین

حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے قبول اسلام کے واقعات۲

اسلام سعد بن ابی وقاص ؓ
سعد بن ابی وقاص فرماتے ہیں کہ میں نے اسلام لانے سے تین شب قبل یہ خواب دیکھا کہ میں ایک شدید ظلمت اور سخت تاریکی میں ہوں تاریکی کی وجہ سے کوئی شئی مجھ کو نظرنہیں آتی۔ اچانک ایک ماہتاب طلوع ہوا اور میں اس کے پیچھے ہولیا دیکھا توزید بن حارثہ اور علی اور ابوبکر ؓ مجھ سے پہلے اس نور کی طرف سبقت کرچکےہیں آپ کی خدمت میںحاضر ہوااورعرض کیاکہ آپ کس چیز کی دعوت دیتے ہیں آپ نے فرمایا کہ اللہ کی وحدانیت اور اپنے رسول اللہ ہونے کی شہادت کی طرف تم کو بلاتاہوں میں نے کہا اشہد ان لاالہ اللہ واشہد محمد رسول اللہ۔ اخرجہ ابی الدنیا وابن عساکر۔ خصائص کبریٰ جلد۱، صفحہ ۱۲۲
اسلام خالد بن سعید بن العاص رضی اللہ عنہ
سابقین اولین میں سے ہیں چوتھے یاپانچویں مسلمان میں (۱) اسلام لانے سے پیشتر یہ خواب دیکھا کہ ایک نہایت وسیع اور گہری آگ کی خندق کے کنارے پرکھڑا ہوں میرا باپ سعید مجھ کو اس کی طرف دھکیلنے کاارادہ کررہاہے۔ ناگہاں رسول اللہ ﷺتشریف لے آٗے اور میری کمر پکڑکرکھینچ لیا۔ خواب سے بیدار ہوااور قسم کھاکر میں نے یہ کہا واللہ یہ خواب حق ہے۔
ابوبکرؓ کے پاس آیا اور یہ خواب ذکر کیا۔ ابوبکرؓ نے یہ کہاکہ اللہ نے تیری ساتھ کچھ خیر کا ارادہ فرمایاہے۔ یہ اللہ کے رسول ہیں۔ ان کا اتباع کراور اسلام کوقبول کر اور ان شاء اللہ تو رسول اللہ علیہ وسلم کااتباع کرے گا اور اسلام میں داخل ہوگا اور اسلام ہی تجھ کو آگ میں گرنے سے بچائے گا مگر تیراباپ آگ میں گرتا نظر آتاہے۔ پھر میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا اے محمد (ﷺ) آپ ہم کوکس چیز کی طرف بلاتے ہیں۔ آپ نے فرمایا؛
ادعوک الیٰ اللہ وحدہ لاشریک لہ وان محمداً عبدہ و رسولہُ تخلع ماکنت علیہ من عبادۃ حجرہ یضروولاینفع ولایدری من عبدہ عزیزیکہ ازدرگہش سربتاقت ممن لم یعبدہ
میں تجھ کو اللہ کی طرف بلاتاہوں جو ایک ہے کوئی اس کا شریک نہیں اور محمداللہ کے بندے اور اسکے رسول ہیں اور اس بات کی دعوت دیتاہوں کہ بتوں کی پرستش کوچھوڑ دوکہ جو نہ نفع اور ضرر کے مالک ہیں اور ان کو یہ علم ہے کہ کس نے ان کی پرستش کی اور کس نے نہیں کی۔
خالد کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ میں گواہی دہتاہوں کہ اللہ ایک ہے اور آپ اس کے رسول برحق ہیں او اسلام میں داخل ہوگیا۔ باپ کو جب میرے اسلام کاعلم ہوا تومجھ کو اس قدر مارا کہ سرزخمی ہوگیا اور ایک چھڑی کو میرے سرپرتوڑڈالااورپھر یہ کہاکہ تونے محمد (ﷺ)کا اتباع کیا جس نے ساری قوم کے خلاف کیا اور ہمارے معبودوں کوبُراور ہمارے آباؤ اجداد کو احمق اور جاہل بتلاتاہے۔ خالد کہتے ہیں ،میں نے اپنے باپ سے کہا، واللہ محمد ﷺ بالکل سچ فرماتے ہیں۔ باپ کو اور بھی غصہ آگیا اور مجھ کو سخت سُست کہا اور گالیاں دیں اوریہ کہا اے کمینہ تو میرے سامنے سے دور ہوجا۔ واللہ میں تیرا کھاناپینا بند کردوں گا۔ میںنے کہااگرتم کھانا بندکرلوگے تو اللہ عزوجل مجھ کو رزق عطا فرمائیں گے اس پر باپ نے مجھ کو اپنے گھرسے نکال دیا اور اپنےبیٹوں سے کہا کہ کوئی اس سے کلام نہ کرے اور جو اس سے کلام کرے گا اس کے ساتھ بھی وہی معاملہ کیا جائے گا۔ خالد اپنےباپ کادرچھوڑکر رسول اللہ ﷺ کے دردولت پرآپڑے۔
آپ خالد کابہت اکرام فرماتے تھے۔(۱) اور حافظ عسقلانی نے بھی اصابہ میں اس واقعہ کواجمالاً ذکرکیاہے۔ انسان کسی کا درچھوڑکر ذلیل اور رسوانہیں ہونا مگر اللہ عزوجل اور اس کے رسول ﷺ کا درچھوڑکر کہیں عزت نہیں پاسکتا۔
وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلَـٰكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَا يَعْلَمُونَ
اس آیت سے ظاہر ہے کہ عزت تو ایمان میں ہےکفر میں توذلت ہی ذلت ہے کفر میں تو عزت کاامکان ہی نہیں۔
عزیزیکہ ازدرگہش سربتافت بہردرکہ شدہیچ عزت نہ یافت
خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میرا باپ ایک بار بیمار ہوا تویہ کہاکہ اگراللہ نے مجھ کو اس مرض سے عافیت بخشی تومکہ میں اس خدا کی عبادت نہ ہونے دوں گا جس کی عبادت کا محمد (ﷺ) حکم کرتےہیں۔ خالد کہتے ہیں کہ میں نے اللہ سے یہ دعا مانگی کہ اے اللہ میرے باپ کو اس مرض سے اُٹھنے کے قابل نہ بنا۔ چنانچہ اسی مرض میں میرا باپ مرگیا۔ [سیرۃ المصطفیٰؐ،جلد ۱]

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button