مضامین

حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے قبول اسلام کے واقعات۵

اسلام سلمان بن اسلام رضی اللہ عنہ
سلمان آپ کا نام ہے ابو عبداللہ آپ کی کنیت ہے سلمان الخیر کے لقب سے مشہور ہیں گویا سلمان کیاتھے ۔خیرمجسم تھے ملک فارس کے رام ہرمز کے مضافات میں سے ، قصبۂ حبئی کے رہنے والے تھے شاہان فارس کے خاندان سے تھے ۔ جب کوئی سلمان رضی اللہ عنہ سے پوچھتا ابن من انت تم کس کے بیٹے ہو تویہ جواب دیتے۔
انا سلمان بن الاسلام
میں سلمان بیٹا اسلام کاہوں۔
(الاستیعاب للحاظ ابن عبدالبر ۵۶، ج۲ حاشیۂ اصابہ)
یعنی میرے روحانی وجود کا سبب اسلام ہے اور وہی میرا مربّی ہے فنعم الاب ونعم الابن پس کیا اچھا باپ ہے اور کیا اچھا بیٹا۔
حضرت سلمان ؓ کی عمر بہت زیادہ ہوئی کہاجاتاہے کہ سلمان نے حضرت مسیح بن مریم کا زمانہ پایا اور بعض کہتے ہیںکہ حضرت مسیح کازمانہ تونہیںلیکن حضرت مسیح کے کسی حواری اور وصی کازمانہ پایاہے۔ حافظ ذہبی فرماتےہیں کہ جس قدر اقوال بھی ان کی عمر کے بارے میں پائے وہ سب اس پر متفق ہیں کہ آپ کی عمر ڈھائی سوسال سے متجاوز ہے۔
ابوالشیخ طبقات الاصبہا نیین میں لکھتے ہیں کہ اہل علم یہ کہتےہیں کہ حضرۃ سلمانؓ ساڑھے تین سوسال زندہ رہے لیکن ڈھائی سو سال میں تو کسی کو شک ہی نہیں۔ اصابہ ترجمہ سلمان ؓ صفحہ ۶۲جلد۲، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ مجھ سے سلمان فارسی ؓ نے اپنے اسلام لانے کا واقعہ خود اپنی زبان سے اس طرح بیان کیاکہ میں ملک فارس میں سے مریہ جی کارہنے والا تھا۔ میرا باپ اپنے شہر کا چودھری تھا اور سب سے زیادہ مجھ کو محبوب رکھتاتھا جس طرح کنوری لڑکیوں کی حفاظت کرتےہیں اسی طرح میری حفاظت کرتا تھا اور مجھ کو گھر سے باہر نہیں جانے دیتا تھا۔ ہم مذہباً مجوسی تھے۔ میرے باپ نےمجھ کو آتش کدہ کامحافظ اور نگہبان بنارکھاتھا کہ کسی وقت آگ بجھنے نہ پائے۔ ایک مرتبہ میرا باپ تعمیر کے کام میں مشغول تھا ۔اس لیے بمجبوری مجھ کو کسی زمین اور کھیت کی خبر گیری کےلیے بھیجا اور یہ تاکید کی کہ دیرنہ کرنا میں گھر سے نکلا راستہ میں ایک گرجاپڑتاتھا، اندر سےکچھ آواز سنائی دی میں دیکھنے کیلئے اندر گھسا دیکھا تو نصاریٰ کی ایک جماعت ہے کہ جو نماز میںمشغول ہے مجھ کو ان کی یہ عبادت پسند آئی اور اپنےدل میں یہ کہاکہ یہ دین ہمارے دین سے بہتر ہے۔ میں نے ان لوگوں سے دریافت کیاکہ اس دین کی اصل کہاںہے۔ ان لوگوں نے کہاکہ ملک شام میں، اسی میں آفتاب غروب ہوگیا ۔ باپ نے انتظار کرکے تلاش میں قاصد دوڑائے جب گھر واپس آیا تو باپ نے دریافت کیا اے بیٹے توکہاں تھا،میں نے تمام واقعہ بیان کردیا۔ باپ نے کہا اس دین (یعنی نصرانیت) میں کوئی خیر نہیں۔ تیرے ہی باپ دادا کا دین یعنی (آتش پرستی) بہترہے۔
میں نے کہا ہرگز نہیں خدا کی قسم نصرانیوں ہی کا دین ہمارے دین سے بہتر ہے۔ باپ نے میرے پیر میں بیڑ یاں ڈال دیں اور گھر سے باہر نکلنا بند کردیا یایسے فرعون نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا:
لَئِنِ اتَّخَذْتَ إِلٰهًا غَيْرِي لَأَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُونِينَ
اگر تونے میرے سوا کسی کومعبود بنایا تو میں تجھ کو قیدیوں میں سے کردوں گا۔(جیسا کہ عام اہل باطل کا طریق ہے۔) میں نے پوشیدہ طورپر نصاریٰ سے یہ کہلا بھیجا کہ جب کوئی قافلہ شام کو جائے تو مجھ کو اطلاع کرنا چنانچہ انہوں نے مجھ کو ایک موقع پر اطلاع دی کہ نصاریٰ کے تاجروں کا ایک قافلہ شام واپس جانے والاہے، میں نے موقع پاکر بیڑیاں اپنے پیر سے نکال پھینکیں اور گھر سے نکل کر ان کے ساتھ ہولیا۔
شام پہنچ کر دریافت کیا کہ عیسائیوں کا سب سے بڑاعالم کون ہے۔ لوگوں نے ایک پادری کانام بتلایا میں ا سکے پاس پہنچا اور اس سے اپنا تمام واقعہ بیان کیا اور یہ کہا میں آپ کی خدمت میں رہ کر آپ کا دین سیکھنا چاہتاہوں مجھ کو آپ کا دین مرغوب اور پسند ہے آپ اجازت دیں تو آپ کی خدمت میں رہ پڑوں اور دیں سیکھوں اور آپ کے ساتھ نمازیں پڑھا کروں ، اس نے کہا بہتر ہے لیکن چند روز کے بعد تجربہ ہواکہ وہ اچھا آدمی نہ تھا بڑا ہی حریص اور طامع تھا دوسروںکو صدقات اور خیرات کا حکم دیتا اور جب لوگ روپیہ لے کر آتے توجمع کرکے رکھ لیتا اور فقراء اور مساکین کونہ دیتا اسی طرح اس نے اشرفیوں کے سات مٹکے جمع کرلیے جب وہ مرگیا اور لوگ حسن عقیدت کے ساتھ اس کی تجہیز وتکفین کے لیے جمع ہوئے میں نے لوگوں سے اس کا حال بیان کیا اور وہ سات مٹکے دکھلائے ،لوگوں نے یہ دیکھ کر کہاخدا کی قسم ہم ایسے شخص کو ہرگز دفن نہ کریں گے۔ بالآخر اس پادری کو سولی پرلٹکاکر سنگسار کردیا اور اس کی جگہ کسی اور عالم کوبٹھلایا۔ [سیرۃ المصطفیٰﷺ،جلد ۱]

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button