حضرت نبی کریم ﷺ کی حیات مبارکہ کے صدموں اور غموں بھرے لمحات-۲

حضرت ابراہیمؓ کے وصال پر صدمہ اورصبر
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور اکرم ﷺ کے صاحبزادے ابراہیم کو دیکھا کہ حضور کے سامنے اُن پر نزع کی کیفیت طاری تھی، یہ منظر دیکھ کر حضور اکرم ﷺکی آنکھوں میں آنسو آگئے، اور آپ ﷺ نے فرمایا کہ آنکھیں آنسو بہارہی ہیں اور دل غمگین ہورہاہے، لیکن ہم زبان سے وہی بات کہیں گے جس سے ہمارا رب راضی ہو، اے ابراہیم !اللہ کی قسم ہم تمہارے جانے کی وجہ سے غمگین ہیں۔(حیاۃ الصحابہ ،اردو ۲؍۷۳۵)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضوراکرم ﷺ ،حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ؓ پر سہارالگائے ہوئے نخلہ نامی جگہ پرتشریف لائے، آپﷺ نےدیکھا کہ آپ کے صاحب زادے حضرت ابراہیم ؓ ماں کی گود میں جاں کنی کی حالت میں ہیں، آپ ﷺ نے اُن کو اپنی گود میں لےلیا، پھر فرمایا کہ اے ابراہیم ! ہم تم سے اللہ کی طرف سے مقرر کردہ چیز کو ٹال نہیں سکتے، پھر آپ ﷺ کی دونوں آنکھیں آنسوؤں سے بھرگئیں، آپ نے فرمایا کہ اے ابراہیم ! اگر یہ ایک امر قطعی نہ ہوتااور سچا وعدہ نہ ہوتا کہ ہم میں کا آخر پہلے مرنے والوں کے ساتھ ملنے والاہے، تو ہم تم پر اس سے کہیں زیادہ غم کرتے، اور اے ابراہیم !ہم تمہاری وجہ سے یقیناً مغموم ورنجیدہ ہیں، آنکھیں اشک بار ہیں، دل غمگین ہے، لیکن پھر بھی ہم ایسی بات نہیں کہہ سکتے جس سے ہمارا رب ناراض ہوجائے۔(سنن ابی داؤد ۲؍۴۴۶، اسد الغابہ ۱؍۵۰)
اسی طرح کی ایک روایت میں ہےکہ حضور انور ﷺ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ؓ پر سہارا لئے ہوئے تشریف لائے، حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ پر نزع کی حالت طاری تھی، پھر جب اُن کا انتقال ہوگیا تو حضوراکرم ﷺ کی دونوں آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، توحضرت عبدالرحمٰن بن عوف ؓ نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ! اس سے تو آپ لوگوں کو روکتے ہیں، جب مسلمان آپ کو روتا ہوا دیکھیں گے تو وہ بھی رونے لگ جائیں گے، پھر جب آپ ﷺ کے آنسو رک گئے توآپ نے ارشاد فرمایا کہ یہ رونا تورحم یعنی دل کی نرمی کی وجہ سے ہے، جو دوسروں پر رحم نہیں کرتا اُس پر بھی رحم نہیں کیاجاتا، ہم تولوگوں کو مردہ پر نوحہ کرنے سے روکتے ہیں، اور اس بات سے روکتے ہیں کہ مردہ کی اُن خوبیوں کا تذکرہ کیاجائے جو اُس میں نہیں تھیں، اگراللہ تعالیٰ کا سب کواکٹھا کردینے کا وعدہ اور موت کا چالو راستہ نہ ہوتا اورہم میں سے بعد میں جانے والوں کاپہلے جانے والوں سے جاکر ملنا نہ ہوتا، توہمیں اس سے زیادہ غم ہوتا، اور ہم اس کے جانے پر غمگین ہیں، آنکھ سے آنسو بہہ رہے ہیں ، دل غمگین ہے، لیکن ہم زبان سے ایسی بات نہیں کہیں گے جس سے ہمارا رب ناراض ہو، اور اُس کے دودھ پینے کی باقی مدت جنت میں پوری کی جائے گی۔ (حیاۃ الصحابہ ۲؍ ۵۳)…[ماہنامہ ندائے شاہی، جولائی ۲۰۱۵ء]—-
(جاری ہے۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ)



