مضامین

حضرت نبی کریم ﷺ کی حیات مبارکہ کے صدموں اور غموں بھرے لمحات

حضرت قاسمؓ کے وصال پر حضرت سید الخلق ﷺ کو صدمہ
حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا سے آپ ﷺسے نکاح کے بعد سب سے پہلے صاحب زادے حضرت قاسم رضی اللہ عنہ پیداہوئے، انہیں کے نام پرحضوراکرم ﷺ نے اپنی کنیت ’’ابوالقاسم‘‘ رکھی، اُن کی وفات کس عمر میں ہوئی ، اس بارے میں مؤرخین کے اقوال مختلف ہیں، مگر قولِ راجح یہی ہے کہ ابھی مدت رضاعت ختم نہیں ہوئی تھی کہ اُن کا وصال ہوگیا، تقریباً دوس برس کے ہوچکے تھے، حضرت قاسم رضی اللہ عنہ کے انتقال پر حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا اور حضرت نبی کریم ﷺ کو بہت زیادہ غم اور صدمہ پہنچا۔
حضرت قاسم ؓ کی رحلت پر حضرت رسول اکرم ﷺ پر حزن وملال کی کیفیت طاری تھی کہ کفار ومشرکین نے آپ ﷺ کو ابتر کہہ کر طعنہ دینا شروع کردیا، ایسا کہنے والوں میں عاص بن وائل کانام خاص طورپر ذکر کیاجاتاہے، اُس کے سامنے جب رسول اللہ ﷺ کاذکر کیا جاتا، تو کہتاتھا کہ اُن کی بات چھوڑدو، یہ کچھ فکرکی بات نہیں، کیوں کہ وہ ابتر(مقطوع النسل) ہیں، جب اُن کا انتقال ہوجائے گا تو اُن کاکوئی نام لینے والابھی نہ رہے گا۔ کفارومشرکین کی ان طعنہ آمیز باتوں پر بھی غم ورنج میں اضافہ ہوجانا طبعی امرتھا، اسلئے ایسے غم اور صدمے کے لمحات میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ ﷺ کی تسلی کیلئے سورۂ کوثر نازل فرمائی، جس میں کفار ومشرکین کے ان طعنوں کاجواب دیاگیاہے کہ صرف اولادِ نرینہ کے نہ رہنے سے آپ ﷺ کو مقطوع النسل کہنے والے حقائق سے بے خبر ہیں، آپ ﷺ کی نسل نسبی بھی ان شاء اللہ دنیا میں تاقیامت باقی رہے گی، اگرچہ دختری اولاد سے ہو، اورنسل معنوی یعنی آپ پر ایمان لانے والے مسلمان اور صاحب ایمان ہوتو اس اکثرت سے ہوں گے کہ پچھلے تمام انبیاء علیہم السلام کی امتوں سے بھی بڑھ جائیں گے۔ سورۂ کوثر کی آیت نمبر تین میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرمایا:
اِنَّ شَانِئَکَ هُوَ الْاَبْتَر (الکوثر:۳)
بے شک آپ کا دشمن ہی بے نام ونشان ہے۔
اس سورت کا نزول کفار ومشرکین کے طعنوں کے دفاع میں ہوا، آپ کی اولادِ نرینہ فوت ہوجانے کی وجہ سے وہ آپ کو مقطوع النسل قرار دے کر کہاکرتے تھے کہ اُن کاکام چند روزہ ہے ، پھر کوئی نام لینے والا بھی نہ رہے گا، تو اس سورت میں آپ ﷺ کو کوثر عطا فرمانے کاذکر ہے، جس میں حوضِ کوثر بھی شامل ہے، جس میں ان طعنہ زنوں کی مکمل تردید ہے کہ اُن کی نسل ونسب صرف یہی نہیں کہ دنیا کی عمر اور بقاتک چلے گی، بلکہ اُن کی روحانی اولاد کا رشتہ محشر میں بھی محسوس و موجود ہوگا، جہاں وہ تعداد میں بھی تمام اُمتوں سے زیادہ ہوں گے، اور اُن کا اعزاز واکرام بھی سب سے زیادہ ہوگا۔ اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت نبی اکرم ﷺکے دشمنوں کی بات کی تردید فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ آپ غمزدہ نہ ہوں، جو لوگ آپ کو ابتر ہونے کا طعنہ دیتے ہیں وہی ابتر ہیں۔ چنانچہ رسول مقبول ﷺ کے ذکر کو حق تعالیٰ نے کیسی رفعت اور عظمت عطا فرمائی کہ آپ کے عہد مبارک سے آج تک پوری دنیا کے چپہ چپہ پر آپ ﷺ کانام مبارک پانچ وقت اللہ کے نام کے ساتھ مساجد کے میناروں سے پکاراجاتاہے، اورآپ ﷺ کا ہرامتی آپ ﷺ کانام لینے اور آپ پر درود وسلام بھیجنے کواپنی سعادت سمجھتا ہے۔ اور آپﷺ کو طعنہ دینے والوں کانام ونشان تک مٹ گیا، آج دنیا میں اُن کانام لینے والاکوئی نہیںہے۔
فَاعْتَبِرُوا یَا أُولِی الْأَبْصَارِ
(مستفاد: الاصباۃ ۳؍۱۶۵۳، معارف القرآن ۸؍۸۲۸۔ ۸۳۱ ربانی)
[ماہنامہ ندائے شاہی، جولائی ۲۰۱۵ء]—-(جاری ہے۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button