مضامین

احکامات حج-(فضائل ومسائل)-۶

احرام کی غلطیاں
(۱۲) بعض لوگ احرام کی حالت میں سلی ہوئی چادر یا رزائی کے استعمال کو سلا ہوا ہونے کی وجہ سے ناجائز سمجھتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ احرام کی حالت میں مرد کو سلا ہوا کپڑا پہننا جائز نہیں، یہ بات ٹھیک ہے کہ مردوں کو احرام کی حالت میں سلا ہوا کپڑا پہننا منع ہے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ سلی ہوئی چادراور رزائی وغیرہ کا استعمال بھی ناجائز ہے، بلکہ احرام کی حالت میں ایسا سلا ہوا کپڑا پہننا مردوں کے لئے ممنوع ہے جو بدن کی ہیئت پر سلا ہوا ہو، جیسے کرتہ، پائجامہ ، اچکن ، واسکٹ ،بنیان اور ٹوپی وغیرہ۔ لہٰذا سلی ہوئی چادر اور سلی ہوئی لنگی وغیرہ مردوں کے لئے ممنوع نہیں ہے ، ہاں البتہ افضل اور بہتر یہی ہے کہ یہ بھی سلی ہوئی نہ ہو۔
(۱۳) احرام کی نماز بعض لوگ سرکھول کر پڑھتے ہیں، حالاں کہ احرام کی نماز کے وقت احرام میں نہیں ہوتاہے، اس لئے سرڈھانک کر احرام کی نماز پڑھنی چاہیے، اور سلام پھیرنے کے بعد سرکھول کر نیت کرکے تلبیہ پڑھنا چاہیے۔
(۱۴) بعضے لوگ نماز کی حالت میں بھی اضطباع کرتے ہیں، حالانکہ اضطباع صرف طواف کی حالت میں مسنون ہے، اور وہ بھی صرف ہراس طواف میں مسنون ہوتاہے کہ جس کے بعد سعی بین الصفا والمروہ کرنا ہوتاہے، ہاں البتہ طوافِ زیارت اگر احرام کھول کر کپڑے بدل کر کرتاہے اور اس کے بعد سعی کرنی ہوتو اس طوافِ زیارت میں اضطباع نہیں ہوتا۔
(۱۵) بعض عورتیں احرام کی حالت میں چہرہ کھلارکھتی ہیں حالاں کہ چہرہ کھلا رکھنے کی وجہ سے بہت سے مردوں کے لئے بدنگاہی کے گناہ میں مبتلا ہونے کا سبب ہے، اس لئے احرام کی حالت میں بھی چہرہ کانقاب اس طرح ڈال دیاجائے کہ جس سے نقاب کاکپڑا چہرہ سے نہ لگنے پائے۔ (معلم الحجاج ۷۴۳)
(۱۶) بہت سے مرد احرام کی لنگی ناف کے نیچے باندھتے ہیں ، حالاں کہ مرد کے ناف سے نیچے کا حصہ ستر عورت میں شامل ہے، اس کا ڈھانکنا واجب ہے، اس کا کھلا رکھنا حرام اور گناہ کبیرہ ہے، بہت سے بھائیوں کو اس کا احساس بھی نہیںہوتا کہ گناہ کبیرہ اور حرام کا ارتکاب ہورہاہے،ا س لئے اس کابہت خیال رکھنا چاہیے۔
(۱۷) بہت سے مرد احرام کی لنگی اس طرح پہنتے ہیں کہ چلتے ہوئے ران تک کھل جاتی ہے، اس لئے احرام کی لنگی اگر بغیر سلی ہوئی ہوتو اس طرح پہننی چاہیے کہ چلتے ہوئے ران نہ کھلنے پائے اور اگر ران کھل جانے کا اندیشہ ہوتو لنگی درمیان سے سلواکر پہنی جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (ماہنامہ حج میگزین، ممبئی، جولائی ۲۰۱۷)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے ان شاء اللہ تعالیٰ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button