سلام، مصافحہ اور معانقہ کے آداب-۱۳

قدم بوسی اور قبربوسی کا کیا حکم ہے؟
سوال:(۱۴۸۰) قدم بوسی ،قبربوسی کے بارے میں فتویٰ مفصل ارقام فرمایاجاوے۔
(۸۴۱/۳۲-۱۳۳۳ھ)
الجواب:أقول وباللہ التوفیق: وفی الجامع الصغیر: تقبیل الارض بین یدی العظماء حرام، وانّ الفاعل والرّاضی آثمان کذافی التتار خانیۃ، و تقبیل الارض بین یدی العلماء والزّھاد فعل اجھّال، والفاعل والرّاضی آثمان کذافی الغرائب، الانحناء للسّلطان أو لغیرہ مکروہ لأنّہ یشبہ فعل المجوس کذافی جواہر الاخلاطی۔ ویکرہ الانحناء عند التّحیّۃ وبہ وردالنّھی کذافی التّمرتاشی (۱) (عالمغیریۃ:۵/۳۶۹)عن انس بن مالک رضی اللہ عنہ قال: قال: رجل یا رسول اللہ الرجل یلقی اخاہ او صدیقہ اینحنی لہ، قال: لا، قال: افیلتزمہ ویقبلہ قال: لا، قال: فیأ خذ بیدہ ویُصافِحہ، قال: نعم، رواہ التّرمذی(۲)
پس معلوم ہوا کہ جھک کر کسی کی قدم بوسی کرنا اور قبربوسی کرنا نہیں چاہیے، جب کہ جھک کر سلام کرنا بھی درست نہیں ہے توجھک کرقدم بوسی کرنا جومشابہ بالسجود ہے کیسے درست ہوسکتا ہے؟ اور قبربوسی اس وجہ سے بھی حرام ہے کہ تقبیل ارض ہے اور اس وجہ سے بھی حرام ہے کہ اس میں تشبہ بالسجود ہے اور اس وجہ سے بھی حرام ہے کہ اس میں تعظیم غیراللہ ہے۔ وکلّ منھا حرام
سوال: (۱۴۸۱) کسی بڑےاور بزرگ کے پیروں کوبوسہ دینا اور چومنا کیا حکم رکھتا ہے؟ مفصل بالدّلائل جواب مرحمت فرمائیں۔(۹۴۹/۳۲-۱۳۳۳ھ)
الجواب: احوط وار جح عدم تقبیل رجلین ہے کہ یہ تقبیل بعض صورتوں میں مشابہ سجدہ کے ہوجاتی ہے اور سجدہ اور تقبیل ارض بین یدی العلماء والمشائخ بہ اتفاق حرام وکبیرہ گناہ ہے ، بلکہ بعض فقہاء نے اس میں حکم کفر کیاہے۔ کما فی الدّرّالمختار: وکذاما یفعلونہ من قبیل الارض بین یدی العلماء والعظماء فحرام، والفاعل والرّاضی بہ آثمان لانّہ یشبہ عبادۃ الوثن وھل یکفر؟ ان علی وجہ العبادۃ والتعظیم کفر، وان علی وجہ التحیۃ لا، وصارآثما مرتکبًا للکبیرۃ وفی الملتقط التواضع لغیر اللہ حرام (۳) (درمختار) ترجمہ یہ ہے:
اور اسی طرح وہ جوکرتے ہیں زمین کا چومنا سامنے علماء اور بزرگوں کے سویہ حرام ہے ، اور اس فعل کا کرنے والا اور جواس سے راضی ہو دونوں گنہ گار ہیں، کیونکہ یہ فعل مشابہ ہے بت پرستی کے، اور کیا کافر ہوجاتاہے یعنی کرنے والا اس فعل کا، سواگر ازراہِ عبادت وتعظیم اس نے علماء وعظماء کے سامنے سرجھکایاہے اور زمین بوسی کی ہے تو کافر ہوجاتاہے، اور اگر بہ طریق سلام اور تحیہ کے ایسا کیا ہے تو کافر نہیں ہوتااور گنہ گار مرتکب کبیرہ گناہ کاہوتاہے، اور ملتقط میں ہے: فروتنی یعنی زمیں بوسی وغیرہ غیر اللہ کے لیے حرام ہے۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم
[فتاویٰ دارالعلوم دیوبند، جلد نمبر۱۷]۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ



