مہاراشٹر

شنیوارواڑا میں نمازادا کرنے پرمقدمہ درج ، حکمراں اتحاد میں اختلافات

پونے:(ایجنسیز)21؍اکتوبر:پونے کے تاریخی قلعہ شنیوار واڑا میں نمازادا کرنے پرسیاست تیز ہوگئی ہے۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس نے تین خواتین کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ یہ تاریخی مقام ایک محفوظ یادگار ہے، جہاں کوئی بھی مذہبی اجتماع یا عبادت ممنوع ہے۔ تاہم اس معاملے پر حکمراں اتحاد کے اندر اختلافات سامنے آئے ہیں۔ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی اجیت پوار دھڑے نے پولیس کو نشانہ بناتے ہوئے اس معاملے کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کا الزام لگایا ہے۔یہ واقعہ ہفتہ کی دوپہر تقریباً 1:45 بجے پیش آیا، جب تین خواتین شنیوار واڑا قلعے کے صحن میں داخل ہوئیں اور نماز ادا کی۔ اتوار کو جیسے ہی یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا، بی جے پی اور مقامی ہندو تنظیموں نے اس کے خلاف احتجاج کیا۔بی جے پی رکن پارلیمان میدھا کلکرنی اور مقامی ہندو تنظیموں نے شنیوار واڑا پہنچ کر شدھی کرن کیا اور شیووندنا کی۔ کلکرنی نے اسے پونے کے باشندوں کے لیے تشویش کا باعث قراردیا۔مہاراشٹر حکومت کے وزیر اور بی جے پی لیڈر نتیش رانے نے بھی س واقعے کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ شنیوار واڑاشجاعت کی علامت ہے، یہ ہندو سماج کے لیے عقیدے کا مرکز ہے، اگر شنیوار واڑا میں نماز ادا کی جا سکتی ہے تو کیا حاجی علی درگاہ پر ہنومان چالیسہ کا پاٹھ قابل قبول ہوگا؟ کیا اس سے کسی کے جذبات مجروح نہیں ہوں گے؟انھوں نے کہا کہ مقررکردہ مقامات پرہی پوجا پاٹھ ہوناچاہتے۔دوسری طرف اجیت پوار کی پارٹی نے بی جے پی اور اس کی حامی تنظیموں پر ماحول بگاڑنے کا الزام لگایا ہے۔ این سی پی اجیت پوار دھڑے کی ترجمان روپالی پاٹل تھومبرے کا کہنا ہے کہ میدھا کلکرنی اور ان کے حامیوں نے اس معاملے کو ہندو بنام مسلم‘میں تبدیل کرکے پونے جیسے پرامن شہر میں فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دینے کی کوشش کی ہے۔ پولیس کو ان کے خلاف بھی مقدمہ درج کرنا چاہیے۔اے آئی ایم آئی ایم لیڈر وارث پٹھان نے کہا کہ تین یا چار مسلم خواتین نے چند منٹوں کے لیے جمعہ کی نماز ادا کی، اس میں کیا حرج ہے؟ ہم کبھی بھی ٹرین یا ہوائی اڈے پر گربا کرنے والے کے بارے میں کچھ نہیں کہتے۔ ہندوستانی آئین ہر مذہب کو عبادت کی آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔ بی جے پی نفرت پھیلا رہی ہے، انہیں اپنے ذہنوں کو پاک کرنے کی ضرورت ہے، یادگار کونہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button