عوام الناس کو آپ سبھی کی ضرورت ہے

پچھلے دنوں بلکہ ابھی بھی تقریباً پوری دنیا بارش، سیلاب، طغیانی ، بادلوں کے پھٹنے، پہاڑوں سے ملبوں کے گرنے، انسانوں اور جانوروں کے ندیوں اور دریاؤں میں بہہ جانے کی زد میں ہے۔ الغرض بے شمار جانی واملی نقصان کاشکار ہوئی ،اللہ تعالیٰ سبھی کی حادثاتی موت سے حفاظت فرمائے، آمین ثم آمین
ان ہنگامی حالات اور مصیبت کی گھڑیوں میں بہت سارے لوگ بلاتفریق مذۃب وملت متاثرین کی ہرممکن مدد کررہے ہیں، کرنا بھی چاہیے، یہی اسلامی تعلیمات ہیں اور باہمی ہمدردی وانسانیت کاتقاضابھی ہے۔
پڑوسی ممالک، وطن عزیز اور شہر ناندیڑ کے بہت سارے وہ حصے یا علاقے جوگوداوری ندی کے قریب ہیں وہاں کے رہنے بسنے والے بھی متاثرہوئے بغیر نہیں رہ سکے۔
ایسی نازک گھڑی میں اللہ تعالیٰ کے وہ بندے جنہیں اللہ تعالیٰ نے مال وزر سے نوازا ، ان کے دل میں اپنے بھائیوں کی ہمدردی کا جذبہ جاگا، انہوں نے آگے بڑھ کر پوری چھان بین کرکے کہ کون لوگ امداد کے مستحق ہیں ، کن کے گھر بار سیلاب کی زد میں آئے، ان کا روزگار متاثر ہوا، وہ بے آسرا ہوگئے، سرچھپانے، آرام کرنے ، چین سے رہنے، محنت ومزدوری کرنے سے محروم ہوگئے، ان کے پاس کھانے پینے کیلئے کوئی چیز نہں، نہ روپیہ پیسہ ہے، نہ اناج ہے، گھر میں ضعیف والدین کے دواعلاج کیلئے مطلوبہ رقم ہے، ہرطرح سے وہ پریشانی میں گِھر گئے، ان تمام چیزوں اور حالات کو دیکھنے کے بعد لاکھوں روپیہ کا وہ سامان جس کی سردست ضرورت ہو ان تک پہنچایا، اللہ تعالیٰ دنیا وآخرت میں اس کا بہترین صلہ عطافرمائے، آمین ثم آمین
انسانیت وہمدردی کی بنیاد پر یہ عمل کئے جانے کے درمیان ایک واقعہ ایسا بھی پیش آگیا جس کی قطعی توقع نہیں تھی ، کہ کسی قائد سے جو کسی قدیم قومی پارٹی سے وابستہ تھے، کٹس تقسیم کرنے والوں کے تعلق سے جو دوسری تنظیم سے وابستہ تھے کچھ سوالات کئے گئے یاکوئی بات پوچھ لی گئی، تو فوراً قدیم پارٹی سے وابستہ قائد نے ایسی باتیں کہہ دی جسے کوئی قبول کرنے کیلئے تیارنہیں،
جیسے ’’میں اس شخص کی بات کا جواب دینا نہیں چاہتا‘‘۔یا
’’وہ میرے لیول کا آدمی نہیں ہے‘‘وغیرہ وغیرہ
یہ یا اس طرح کے جملے کچھ اچھے نہیں۔
کوئی شخص اچھا کام کررہا ہو تو اس کی تعریف کرنا چاہیے،حوصلہ افزائی کرنا چاہیے، اگرہم تعریف نہیں کرسکتے یا حوصلہ افزائی نہیں کرسکتے تو کم ازکم خاموشی اختیار کرلینا چاہیے، حوصلہ شکنی یا ایسے جملے کہ جس سے کسی کا دل ٹوٹتا ہو نہیں کہنا چاہیے۔
ایسی باتوں کا دوسرے شخص کی جانب سے رد عمل فطری بات ہے۔
نیز عمل ورد عمل میں بہت ساری باتیں سامنے آجاتی ہیں، کہ جن سے عوام الناس نا واقف ہوتے ہیں۔ اس لئے ایک دوسرے کے معاون ومددگار بن کر عوامی خدمت کریں۔
یہ بات بھی یاد رہےکہ اہل ایماں ہوں یا وطنی بھائی ،سب کو آپ حضرات کی ضرورت ہے، چاہے آپ کسی بھی پارٹی یا تنظیم سے وابستہ ہوں آپ سب قوم کے نمائندے ہیں، آپ کی خوبیوں اور صلاحیتوں کی عوام کوضرورت ہے۔
لہٰذا توتو، مَیں مَیں کرنے کے بجائے، ایک دوسرے کے قد کوناپنے کے بجائے مل جل کرعوامی خدمت کریں، جوہوگیا سوہوگیا، آئندہ احتیاط برتیں۔



