مضامین

ٹکٹ، ٹکٹ، ٹکٹ، ٹکٹ،ٹکٹ

بس، ریل، ہوائی جہاز، نمائش، سرکس، تاج محل، لال قلعہ، قطب مینار، چارمینار، ممبئی کا گیٹ وے آف انڈیا،سمندروں میں چلنے والی کشتیوں،اسٹیڈیم میں بیٹھ کر کرکٹ یا دیگر کھیلوں کو دیکھنے کیلئے اور دبئی کے مشہور عالم برج خلیفہ کے قریب سے نظارہ کیلئے ،غرض ہر جگہ ٹکٹ کی ضرورت پڑتی ہے۔ ٹرین میں سوار ہونے کے کچھ ہی دیر بعد ٹی سی کی زبان پر ہوتا ہے ٹکٹ ٹکٹ ٹکٹ ٹکٹ ٹکٹ، جیسے ہی یہ آواز کان میں پڑتی ہے یا ٹی سی کو آتا دیکھ کر لوگ جیب میں سے یا آج کل موبائل کے ذریعہ ٹکٹ دکھلانے کی تیاری میں لگ جاتے ہیں۔
جوکسی وجہ سے ٹکٹ نکال نہیں پائے وہ کچھ فکر مند ہوجاتے ہیں، اور بغیر ٹکٹ سفر کرنے والے سٹپٹاجاتے ہیں چھُپتے پھرتے ہیں۔ غرض ٹرین میں عجیب سا منظر ہوتاہے،جو ٹکٹ لے کر سفر کرتے ہیں وہ اوپر والے برتھ پر لیٹے لیٹے بڑی بے فکری وبے نیازی سے ٹکٹ دکھلاتے ہیں۔
بہت ساری مرتبہ بڑے بڑے پروگراموں میں ، ملکی سطح کے اجلاس میں شرکت کیلئے منتظمین اجلاس اپنے قریبی لوگوں کے ذریعہ ٹکٹ تقسیم کرتےہیں وہ لوگ ان منتظمین کے مقربین ہوتے ہیں۔
جب لوگوں کو پتہ چلتا کہ فلاں اجلاس یا پروگرام میں شرکت کیلئے فلاں صاحب کے پاس ٹکٹ ہیں، اگر ٹکٹ مل جائے تو آمدورفت کاکرایہ، رہائش اور کھاناپینا اور دیگر تحائف وسہولتیں مل جائیں گی، تو لوگ انہیں فون کرکے خیر وعافیت پوچھتے ہیں بلکہ اس منصب کے ملنےپر مبارکبادی بھی دیتے ہیں۔ یہ ایک مہذب وشریفانہ طریقہ ہوتاہے اپنے تعلق سے یاد دہانی کا، جس کے پاس ٹکٹ ہے وہ سمجھدار اور حاضردماغ ہے تو سمجھ جاتاہے اور اُس شخص ضرور ٹکٹ دیتاہے۔ اور بُدّھو قسم کا ہوتو شکریہ شکریہ کہہ کر اور مُسکرانے ہی پر اکتفاء کرلیتاہے۔
ایسی صورت میں یاد دہانی کرانے والے کو بڑی مایوسی ہوتی ہے ، لیکن کُھلے الفاظ میں منہ سے کہہ نہیں سکتے۔
’’مجبور ہیں کہ واللہ کچھ کہہ بھی نہیں سکتے‘‘
اتنی بات طئے ہے کہ ٹکٹ انہیں کے ذریعہ دیاجاتاہے جو اس کے اہل ہوتے ہیں، بہت کم ایساہوتاہے کہ اہل کوئی اور ہو،ٹکٹ کسی اور کے ذریعہ دیاجارہاہو۔
حال ہی میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے سنا اور پڑھا کہ کسی صاحب نے ’’دوزخ‘‘ کا ٹکٹ دلوانے یا کٹوادینے کی بات کہہ دی، نہیں معلوم کہ ان کے پاس دوزخ کے ٹکٹ کہاں سے آگئے، یہ توان کے حوصلہ کی بات ہےکہ دیگر ذمہ داریوں کا بوجھ پہلے ہی سے کچھ کم نہیں تھا ایک اور ذمہ داری اپنے سر لے لی۔ بہرحال یہ تو ہوئی بات ان صاحب کی جنہوں نے دوزخ کے ٹکٹ کی بات کہی۔اہل ایمان کاعقیدہ توقرآن کریم اور احادیث پاک کے مطابق کچھ اور ہی ہے اور وہی صحیح ہے، کہ اللہ رب العزت تمام چیزوں کے خالق ومالک ہیں، اللہ تعالیٰ کے سوا ہر ایک چیز مخلوق ہے، چاہے وہ بڑی سے بڑی ہویا چھوٹی سے چھوٹی۔
تمام انسان اللہ تبارک وتعالیٰ کے بندے ہیں ، ہرایک انسان کے لئے ضروری ہے کہ وہ زندگی بھر صرف اللہ تبارک وتعالیٰ کی عبادت وبندگی کرے، اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے تمام بندوں کی ہدایت ورہبری کیلئے ایک لاکھ سے زیادہ اپنے معصوم بندوں کو جنہیں حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کہا جاتاہے انہیں دنیا میں مبعوث فرمایا، اور آسمانی کتابیں بھی نازل فرمائی۔
سب سے آخر میں اپنے آخری نبی ورسول حضرت محمد ﷺ کو تمام انسان وجنات کی ہدایت کیلئے بھیجا، قرآن کریم کو نازل فرمایا، اب قیامت تک کسی کو نبی ورسول بناکر نہیں بھیجا جائیگا، اور نہ کوئی کتاب نازل کی جائے گی۔
جوبھی شخص اللہ تعالیٰ پر، تمام انبیاء ، تمام آسمانی کتابوں، آخرت کے دن پر، اچھی بری تقدیر پر، فرشتوں پر اور آپؐ کی تعلیمات پر عمل کرے گا وہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے جنت میں جائیگا۔
اس کے برعکس جو شخص اللہ رب العزت پر ایمان نہ لائے، اللہ تعالیٰ کے وجود کا انکار کرے جیسے دہریے ہوتے ہیں، یااللہ تعالیٰ کی ذات وصفات میں شرک کرے۔جنت و دوزخ کا انکارکرے، اچھی بری تقدیر کا انکارکرے، آخرت کا منکر ہو، حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام پر، فرشتوں پر اور آسمانی کتابوں پر ایمان نہ لاتے (نعوذ باللہ من ذالک) تو ایسا شخص ہمیشہ ہمیشہ دوزخ میں جلتا رہے گا۔
بہر حال ۔۔۔۔ نہیں معلوم یہ جناب کے پاس کہاں سے دوزخ کے ٹکٹ آگئے، جبکہ دوزخ کے داروغہ مالک یا خازن النار کے پاس بھی دوزخ کے ٹکٹ نہیں ہیں۔
ہاں یہ بات ضرور ہے کہ کفر وشرک ، دہریت ، الحاد اور آپ ﷺ کی تشریف آوری اور اعلان نبوت کے باوجود کسی کا نصرانیت یا یہودیت پرقائم رہنا دوزخ میں داخلہ کیلئے کافی ہے۔
اللّٰهُمَّ احْفَظْنَا مِنَ النَّارِ

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button