زکوٰۃ کے مصارف واحکامات-۵

جسے زکوٰۃ دے کیا اسے اطلاع کرنا بھی ضروری ہے
سوال:(۳۴۶) جس کو زکوٰۃ دے اس کو مطلع کرنا بھی ضروری ہے یانہیں۔
الجواب: ضروری نہیں۔
داماداوربھائی کوزکوٰۃ دینا کیساہے
سوال:(۳۴۷) داماد اور بھائی بہن کو زکوٰۃ دینا جائز ہے یانہیں۔
الجواب: جائز ہے۔
نابالغ کو دینے سے زکوٰۃ ادا ہوتی ہے یانہیں
سوال:(۳۴۸) نابالغ کوزکوٰۃ دینے سے اداہوجاتی ہے یانہیں۔
الجواب: ہوجاتی ہے(بشرطیکہ اس کا باپ غنی نہ ہو)
اقارب میں سے زکوٰۃ کس کو دینا درست ہے
سوال:(۳۴۹) زکوٰۃ کامال کس کو اقارب میں سے نہیں دیاجاتا۔
الجواب:سوائے اصول وفروع وزوجین کے سب اقرباء کو دے سکتا ہے۔
صحرائی جائیداد رکھنے والے کو ادائیگی قرض کے لئے زکوٰۃ دینا درست ہے یانہیں
سوال:(۳۵۰) اگرکوئی شخص مقروض ہے اور اس کے پاس صحرائی جائیداد ہے تو مال زکوٰۃ سے اس کا قرض ادا کیا جاسکتا ہے یانہیں۔ اگر ادا کیاجاسکتاہے تو زیادہ سے زیادہ کتناروپیہ اس کے قرض میں دیاجاسکتاہے۔
الجواب: مال زکوٰۃ قرض میں محسوب ہوگا۔ مثلاً اس صورت مٰن روپیہ جو موجود ہے وہ قرض کے ادا کے لئے مقرر کیاجاوے گا نہ جائیداد صحرائی۔درمختار میں ہےوَلَوْلَا نَصْبُ صَرْفِ الدِّينِ لَا يَسَرْهَا قَضَاءً الخ شامی میں ہے كان يكون عنده دراهم ودنانير وعروضُ التجارة وسوائمُ، يُصرَفُ الدَّيْنُ إلى الدراهم والدنانير۔الخ
مدرسہ میں زکوٰۃ اور اس کا مصرف
سوال:(۳۵۱) یہ مدرسہ چند دنوں سے جاری ہواہے۔ اب لوگوں کا خیال ہے کہ اس میں صدقات اور زکوٰۃ عشر وغیرہ دےدیا جاوے تو کون شخص اس کے مصرف ہوسکتے ہیں، مثلاً جو مدرس غنی ہے وہ تنخواہ اس میں سے لے سکتےہیں یانہیں۔
الجواب: زکوٰۃ اور عشر تمام صدقات واجبہ جیسے صدقۂ فطر اور کفارات مدرسوں کی تنخواہ میں دینا درست نہیں۔ طلباء مساکین وغرباء کے صرف میں جائز ہے پس اگر مدرسہ میں زکوٰہ آوے تو اوّل اس کا مالک کسی فقیر غیر مالک نصاب کوکردیاجاوے، پھر اس کی طرف سے مدرسہ کے مصارف میں صرف کردیاجاوے۔
تعمیر درسگاہ میں زکوٰۃ کاروپیہ لگانا کیساہے
سوال:(۳۵۲) ایک صاحب انجمن کو زکوٰۃ کاروپیہ دینا چاہتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ آیا زکوٰۃ کا روپیہ طلبہ وتعمیر درسگاہ اورتنخواہ مدرسین میں صرف ہوسکتاہے۔
الجواب: طلباء کے مصارف خوراک وپوشاک وغیرہ میں زکوٰۃ کا روپیہ صرف کرنا چاہیے، تعمیر درسگاہ اور تنخواہ مدرسین میں سے کسی مد میں زکوٰۃ کاروپیہ صرف نہیں ہوسکتا۔ مگر اس حیلہ سے کہ وہ روپیہ کسی غیر صاحب نصاب کی ملک کرادیاجاوے کہ زکوٰۃ اداہوجاوے ، پھر وہ شخص اپنی طرف سے تعمیرمدرسہ وغیرہ میں صرف کردے۔
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند، جلد نمبر۶)



