احکاماتِ جمعہ-۲

جمعہ کے دن اذان اول سے پہلے اور بعد نماز تجارت درست ہے
سوال:(۲۳۹۳) جمعہ کے دن مسلمان سوداگروں اور دوکاندروںکو دوکان کھولنا چاہیے یانہیں۔ اگردوکانداروں اور پیشہ وروں کواپنے کام کرنے کی اجازت ہے تو کس وقت سے کس وقت تک۔
الجواب: جمعہ کے روز جملہ کاروبار خرید وفروخت وغیرہ اذان اول تک جائز ہے اور اس کے بعد مکروہ تحریمی ہے۔ تنویرالابصار میں ہے“وَكَرِهَ البَيْعُ عِندَ الأَذَانِ الأَوَّلِ پس اذان کے ہوتے ہی جملہ کاروبارترک کرکے جمعہ کے لئے حاضرہونا چاہیے۔ اذان اول سے پہلے اہل پیشہ اپناپیشہ اور دوکانداران خریدوفروخت کریں تواس میں شرعاً کوئی ممانعت نہیں ہے۔ فقط
(اسی طرح نماز جمعہ سے فراغت کے بعد بھی بیع وشراء میں لگ سکتے ہیں۔
فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلَاةُ فَانْتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ وَابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللَّهِ۔ ظفیر)
ایک مسجد میں تعدد جمعہ مکروہ ہے
سوال:(۲۴۰۰) ایک مسجد میں دوجمعہ جائز ہیں یانہیں ۔
الجواب: تعدد جمعہ ایک شہر میں دومسجدوںمیں یازیادہ میں عندالحنفیہ درست ہے۔ کمافی الدرالمختار۔ وتؤذَّنُ في مِصرٍ واحدٍ بِمَواضِعَ كَثِيرَةٍ مُطْلَقًا على المذهب، عليه الفتوى۔ وفی ردالمختارقوله: مطلقًا، أي سواءٌ كان المِصرُ كبيرًا أو لا الخ وسواءٌ كان التعدّد في مسجدين أو أكثر الخ ۔
لیکن ایک مسجد میں تعداد جماعت مکروہ ہے۔ پس دوسری جماعت جمعہ کی اس صورت میں مکروہ ہے جیسا کہ تمام نمازوں کی جماعت ثانیہ کو اس مسجد میں جس میں امام ومؤذن مقرر ہوں فقہاء نے مکروہ لکھا ہے اور خصوصًا جمعہ پڑھنے کے بعد جامع مسجد کو بند کردینے کاحکم دیا ہے۔
جب نہ خطبہ کی کتاب ہو اور نہ زبانی یاد ہوتو کیا کرے
سوال:(۲۴۰۳) اگرکسی مسجد میں خطبہ موجود نہ ہواور نہ زبانی یاد ہوتو بغیر خطبہ نماز جمعہ پڑھی جاوے یانماز ظہر پڑھی جاوے۔
الجواب: خطبہ جو فرض ہے وہ ایک دفعہ سبحان اللہ یا الحمدللہ یا اللہ اکبر کہنے سے بھی ادا ہوجاتا ہے اور صاحبین رحمہااللہ کے نزدیک بقدر تین آیت یا بقدر تشہد سے خطبہ ادا ہوجاتاہے پس اگر خطبہ معروفہ یاد نہ ہوتو قدر مذکور پر اکتفاء کرکے جمعہ کی نماز ادا کی جائے اور جس جگہ واجب ہے یعنی شہر اورقصبہ اور قریہ کبیرہ میں جمعہ چھوڑانہ جاوے۔ فقط
مسجد پہونچتے ہی سنت پڑھی جائے
سوال:(۲۴۰۴) جمعہ میں اگر کوئی شخص مسجد جاوے توپہلے کچھ دیر بیٹھ کر سنت وغیرہ پڑھنا چاہیے یا فوراً جانے کے ساتھ ہی سنت وغیرہ پڑھنا چاہیے۔
الجواب:حدیث شریف میں ہےإِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ المَسْجِدَ فَلَا يَجْلِسْ حَتَّى يُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ جب کوئی شخص تم میں سے مسجد میں داخل ہوتو بیٹھنے سے پہلے دورکعت پڑھے اور یہ دورکعت تحیۃ المسجد ہیں جو کہ مستحب ہیں ۔ بہرحال اس سے یہ معلوم ہوا کہ مسجد میں جاکر بیٹھنے سے پہلے نوافل یاسنتیں پڑھنی چاہیں۔ وہذامذہب الفقہاء۔ فقط۔
[فتاویٰ دارالعلوم دیوبند، جلد نمبر۵]۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ



