احکاماتِ نکاح-(۶)

بلا ایجاب وقبول نکاح درست نہیں
سوال:(۳۰) اگر عورت بالغ ہو اور بوقت نکاح ایجاب وقبول نہ ہوتو نکاح جائز ہوگا یا نہ؟
الجواب:بدون ایجاب وقبول کے نکاح نہ ہوگا۔فقط
عورت ومرد باہمی رضا مندی سے دوگواہوںکے سامنے نکاح کرلیں تویہ درست ہے
سوال:(۳۱) زید وہندہ نے برضائے باہمی دوگواہ عابد وزاہد کے روبرو عقد کرلیا۔ اس عقد کا علم صرف زاہد وعابد کوہے، آیا ان پر اس کا اظہار ضروری ہے یانہیں؟
الجواب: نکاح اس صورت میں شرعًاصحیح اور منعقد ہوجاتاہے کیونکہ جو اعلان شرط انعقاد نکاح ہے وہ اس صورت میں حاصل ہوگیا، البتہ مستحب اور سنت یہ ہے کہ عام اعلان نکاح کا ہو۔
کماوردأَعْلِنُوا هَذَا النِّكَاحَ، وَاضْرِبُوا عَلَيْهِ بِالدُّفِّ.۔ فقط
عورت کا کہنا کہ میں تیری منکوحہ ہوں صرف اس سے نکاح نہیں ہوتا
سوال:(۳۲) ہندہ نے عمر سے کہاکہ میں تیری منکوحہ ہوں اور عمران الفاظ کے بعد ساکت رہا تو نکاح منعقد ہوا یانہیں۔
الجواب: ان الفاظ سے نکاح منعقد نہیں ہوا، کیونکہ اس صورت میں ایجاب پایا گیا اور قبول نہیں پایاگیا اور گواہوں کا وجود بھی بوقت عقد نہیں ہے جو کہ شرط نکاح کی ہے۔ فقط
گونگے کا نکاح کیسے ہوگا
سوال:(۳۳) ایک لڑکا بہرااور گونگا ہے اور بالغ ہے اس کا نکاح کس طرح ہوسکتا ہے؟
الجواب: جولڑکا بہرہ گونگا اور بالغ ہوتو خود اس کاقبول کرنا جواز نکاح کے لئے شرط ہے، لیکن چونکہ وہ بول نہیں سکتا تو اشارے سے اس سے قبول کرایاجاوے، اور فقہاء نے لکھاہے کہ اگر وہ لکھنا پڑھنا جانتا ہے تو لکھ کر اس کے سامنے کردیاجائے، اس پر وہ لکھ دے کہ مجھے قبول ہے ، اور اگر لکھنا پڑھنا نہ جانتا ہوتو صرف اشارہ سے قبول کرایاجاوے، اور فقہاء نے لکھاہے کہ اگر وہ لکھنا پڑھنا جانتا ہے تو لکھ کر اس کے سامنے کردیاجاوے، اس پر وہ لکھدے کہ مجھ کو قبول ہے، اور اگر لکھنا پڑھنا نہ جانتاہو توصرف اشارہ سے قبول کرنا کافی ہے۔
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند۔جلد۷)۔۔۔جاری ہے۔۔ان شاء اللہ تعالیٰ



