مضامین

حضرت نبی کریم ﷺ کی حیات مبارکہ کے صدموں اور غموں بھرے لمحات-۳

حضرت رقیہ ؓکی بیماری اوررحلت پرآپﷺ کوصدمہ
حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا آنحضرت ﷺ کی لاڈلی بیٹی ہیں، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ
عنہ کی چہیتی بیوی ہیں، آپ صلیﷺ اپنی بیٹی حضرت رقیہ رضی اللہ عنہاسے بے پناہ محبت و شفقت فرماتے تھے، اکثر و بیشتر اپنی پیاری بیٹی سیدہ حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے جاتے تھے، اپنی بیٹی کے پاس بیٹھتے ہی ان کی خیریت دریافت فرماتے اور اپنی بیٹی کوگراں قدر نصیحتوں سے فیض پہنچاتے، حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا جب خواتین میں بیٹھتیں تو یہ درس ان تک پہنچادیا کرتی تھیں، حقیقت یہ ہے کہ آپ کی تمام بیٹیاں بہترین عالمہ اور بلند پایہ مبلغہ تھیں۔
ایک مرتبہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لائے ، تو دیکھا کہ وہ اپنے شوہر حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا سر دھورہی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹی کے اس جذبہ کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور بیٹی سے شفقت کے ساتھ ارشاد فرمایا کہ: ”اے میری بیٹی ! ہمیشہ اپنے شوہر عثمان کے ساتھ اچھا سلوک رکھنا اور حسن معاملہ کے ساتھ اپنی زندگی بسر کرنا، بے شک عثمان میرے اصحاب میں سے ہیں ، اور اخلاقیات میں مجھ سے بہت زیادہ مشابہت رکھتے ہیں ۔ ( عظمت صحابہ نمبر ۹۰۴)
غزوہ بدر۱۷؍مضان المبارک ۲ ہجری میں پیش آیا، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ۳۱۳؍مجاہدین نے حق و باطل کے ساتھ پہلے معرکہ میں شرکت کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے صحابہ کے ساتھ اس غزوہ کے لئے تشریف لے جا رہے تھے، اس وقت سیدہ حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا علیل تھیں، بعض مؤرخین تحریر کرتے ہیں کہ موصوفہ کو خسرہ کی بیماری لاحق ہوگئی تھی ، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اپنی چہیتی بیوی سے بہت محبت کرتے تھے، اور ان کی بیماری میں دن رات خدمت میں لگے ہوئے تھے، آپ ﷺ جہاد میں تشریف لے جانے سے قبل حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کو دیکھنے ان کے گھر تشریف لے گئے، بیٹی کی حالت دیکھی تو ان کی تکلیف کو دیکھ کر بے چین ہو گئے ، لیکن فرض سامنے تھا، آپ ﷺ کو اس معرکہ میں شرکت کرنی ضروری تھی؛ کیوں کہ قریش مکہ سے مسلمانوں کا یہ پہلا معرکہ تھا، اس لئے آپ ﷺ نےحضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ میں ٹھہرنے کا حکم دیا، آپﷺ نے فرمایا کہ میں اس لئے تمہیں اپنے ساتھ لے کر نہیں جارہا ہوں کہ رقیہ بیمار ہیں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے سامنے حضرت رقیہ کی بیماری اور دوسری طرف جہاد کا معرکہ تھا ، آپ کا دل چاہ رہاتھا کہ اس غزوہ میں ضرور شریک ہوں ،لیکن سیدہ رقیہ ؓ صرف ان کی بیوی ہی نہیں ،حضوراکرم ﷺ کی صاحب زادی بھی تھیں ، حضرت نبی اکرم ﷺ نے حضرت عثمان غنی ؓ کی یہ کیفیت دیکھی ، تو فرمایا کہ عثمان !رقیہ کی تیمارداری کون کرےگا؟ حضرت عثمان غن رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یارسول اللہ میں جہاد کی برکت اور اس کے فضل سے محروم رہ جاؤں گا، حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ تمہیں رقیہ کی تیمار داری کرنے کی وجہ سے بدری صحابہؓ کے برابر اجر و ثواب ملے گا، حضور اکرم ﷺ کے حکم کو حضرت عثمان غنی ؓ کسی صورت میں ٹال نہیں سکتے تھے، اس لئے آپ ٹھہر گئے ، اور جی جان سے حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کی دیکھ بھال کی ، اور ساتھ میں علاج و معالجہ بھی کرایا؟ لیکن آپ کی بیماری بڑھتی ہی گئی، کوئی افاقہ نہ ہوا۔
مورخین اور علماء کرام لکھتے ہیں کہ: ”حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے فرمان کے ذریعہ مدینہ منورہ میں رکنے کا حکم دیا تھا اور بدر کی شمولیت سے روکا تھا، اس واقعہ اور حکم نبوی سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کی تیمار داری کے لئے رکے تھے، حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کوغز وہ بدر کے مال غنیمت میں بدری صحابہ کے برابر حصہ عنایت فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ عثمان غزوہ بدر کے اجر و ثواب میں بھی برابر کے شریک ہیں ۔ ( عظمت صحابہ نمبر ۹۰۵-۹۰۶)
۷ار رمضان المبارک ۲ ہجری کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیاری بیٹی سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا اپنے خالق حقیقی سے جاملیں ، آپ کی عین عالم جوانی میں وفات واقع ہوئی ، آپ کی عمر صرف ۲۳ سال کی تھی ، حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا نے دنیا کے عظیم ترین انسان سے تعلیم و تربیت حاصل کی تھی ، اس لئے ہجرت حبشہ اور ہجرت مدینہ منورہ کے وقت آپ کا جن مصائب سے واسطہ پڑا، وہ آپ نے نہایت صبر و استقلال سے برداشت کئے، اپنی موت سے قبل آپ نے کافی دنوں تک بیماری کی تکلیف برداشت کی؛ لیکن آپ کی زبان سے اُف بھی نہیں نکلا ، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے لئے عزیزہ وصابرہ رفیقہ حیات کی وفات بہت بڑا صدمہ تھا، رنج وغم کی شدید کیفیات آپ پر طاری تھیں، لیکن آپ نے انتہائی صبر وتقل سے سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہ کی تجہیز وتکفین کا انتظام کیا، مدینہ منورہ میں موجود صحابہ کرام نے آپ کو تسلی وتشفی دی، اور آپ کے ساتھ سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کی تدفین میں شامل ہوئے۔[ماہنامہ ندائے شاہی جولائی ۲۰۱۵ء؁]
(جاری ہے۔۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button