سلام، مصافحہ اور معانقہ کے آداب-۱۱

مصافحہ دونوں ہاتھوں سے کرنا مسنون ہے
سوال:(۱۴۷۴) غیر مقلد کہتاہے کہ دونوں ہاتھ سے مصافحہ کرنا ناجائز ہے اور اس کا ثبوت کسی حدیث مرفوع سے نہیں ہے، صحیح بخاری میں جو روایت باب اخذالیدین میں عبداللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہےوہ حدیث موقوف ہے، اس کا جواب کیاہے؟
( ۵۷۹/۴۴-۱۳۴۵ھ)
الجواب: مصافحہ دونوں ہاتھوں سےکرنا سنت ہے، چنانچہ شامی میں ہے: والسّنّۃ أن تکون بکلتا یدیہ(۲) اور بخاری شریف میں جو حدیث دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کی ہے وہ عبداللہ بن مسعود ؓ پرموقوف نہیں ہے، بلکہ عبداللہ بن مسعود ؓ رسول اللہ ﷺ کا فعل بیان فرما رہے ہیں ، چنانچہ الفاظ حدیث یہ ہیں: وَکَفِّیْ بَیْنَ کَفَّیْہ: یعنی میرے ہاتھ آنحضرت ﷺ کے دونوں ہاتھوں میں تھے الخ تو اس سے آنحضرت ﷺ کادونوں ہاتھوں سے مصافحہ کرنا ثابت ہوا،پس اس کو موقوف کہنا اس غیر مقلد کے جہل کی دلیل ہے اور امام بخاری رحمہ اللہ نے بھی اس حدیث سے مصافحہ دونوں ہاتھوں سے سنت ہونا ثابت فرمایاہے(۱) فقط واللہ اعلم
سوال:(۱۴۷۵)ہم مقلدین جودونوں ہاتھوں سے مصافحہ کرتےہیں اس کا ماخذ کون سی حدیث ہے؟(۴۰۰/۴۶-۱۳۴۷ھ)
الجواب:مصافحہ دونوں ہاتھوں سے کرنا مسنون ہے ، اس بارے میں دو طرح کی حدیثیں ہیں، بعض میں یدین کی تصریح ہے اور بعض میں مطلقاً مصافحہ کاذکرہے، ایسی حالت میں عمل سلف دیکھاجائے گا۔
عن ابی معمر قال:سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ، يَقُولُ:” عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَفِّي بَيْنَ كَفَّيْهِ التَّشَهُّدَ(الحدیث)
امام بخاری ؒ نے اپنی صحیح میں اس حدیث کو باب المصافحۃ کے تحت میں تعلیقاً وسنداً نکالا ہے (۲) وقال البخاری فی ترجمۃ عبداللہ بن سلمۃ المرادی حدثنی أصحابُنا یحییٰ وغیرہ، عن أبی إسماعیل بن إبراهیم قال: رأیتُ حمادَ بنَ زیدٍ، وجاءه ابنُ المبارکِ بکُمَّةٍ، فصافحه بِکِلْتَا یَدَیه.الخ(۳) حدیث مذکور اور عمل مذکور میں تصریح ہے کہ مصافحہ کامسنون طریقہ یہی ہے کہ دونوں ہاتھوں سے کیا جائے۔
وفی القنیۃ: السّںّۃ فی المصافحۃ بکلتا یدیہ (درمختار) وھٰکذافی الشّامی(۴)
مصافحہ کرنے کے بعد ہاتھ ماتھے یاسینے پر رکھنا ثابت نہیں
سوال:(۱۴۶۷) مصافحہ کرنے کے بعد ہاتھ ماتھے یاسینے کی طرف لے جانا کیساہے؟ ایک شخص سنت، دوسرا بدعت ، تیسرا مباح کہتاہے کون حق پر ہے؟
(۲۱۱۴/۴۶-۱۳۴۷ھ)
الجواب: دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کرناسنت ہے، مصافحہ کےبعد ہاتھ ماتھے یا سینہ کی طرف لے جانا ثابت نہیں ہے اور سنت نہیں ہے۔ ویصافح بعد السّلام من لقی من الاخوان الخ (۵)
[فتاویٰ دارالعلوم دیوبند، جلد نمبر۱۷]۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ



