مکروہ اور مُباح امور کابیان-۱۱

ہنود سے اشیاء خوردنی خرید کر کھانا درست ہے
سوال:(۵۷) ہندو جو اس ملک کے دستور کے موافق عمومًا سودخوار ہیں ، اور ہمارے ملک کے دیہات وغیرہ میں مسلمانوں کی کوئی دُکان نہیں، سواگر کوئی ہے وہ بھی معمولی ہے، اور اشیائے خوردنی ہندولوگوں سے لے کر فروخت کرتے ہیں، بہ وقت ضرورت ہندوؤں سے اشیائے خوردنی خریدی جاتی ہیں، آیا وہ اشیائے خوردنی مٹھائی وغیرہ جائز ہے یانہیں؟ اور دیگر اشیاء یعنی ان کے ہاتھ کی پکی ہوئی روٹی وغیرہ بہ وقت ضرورت یا بغیر ضرورت جائز ہے یانہیں؟(۳۲۸/۲۹-۱۳۳۰ھ)
الجواب: ہندو کی بنائی ہوئی مٹھائی اور روٹی وغیرہ اشیائے خوردنی ان سے خرید کر کھانا درست ہے ۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم
سوال:(۵۸) ہنود کے ہاتھ کی پکی ہوئی اشیاء کا استعمال جائز ہے یانہیں؟(۱۲۰۵/۱۳۴۳ھ)
الجواب:اس میں شرعًا کوئی قباحت نہیں ،مسلمانوں کے لئے ان کا استعمال جائز ہے، جب کہ ان کے یہاں دعوت میں جانا جائز ہے توپھر ان کے ہاتھ کی پکی ہوئی شئے کے استعمال میں کیا قباحت ہوسکتی ہے؟ مگر مناسب یہ ہے کہ اس سے اجتناب کیاجائے۔ قال فی الشّامی: إن إجابۃ دعوۃ أھل الذّمّۃ مطلقۃ فی الشّرع ومجازاۃ الإحسان من المروءۃ إلخ(۲) فقط
سوال:(۵۹)ہندولوگ جوہر وقت نجس رہتےہیں اور کتے کے پس خوردہ (جھوٹا) کو پاک سمجھتےہیں، اور مسلمان کے ہاتھ لگانے سے اشیاء کو ناپاک سمجھتے ہیں ، اور گائے کے گوبر کو پاک سمجھتے ہیں، اور کتے کے چاٹے ہوئے برتنوں میں مٹھائی بناتے ہیں ، آیا ان کے ہاتھ کی بنی ہوئی مٹھائی کھانی شرعًا درست ہے یانہیں؟(۲۴۳۷/۳۲-۱۳۳۳ھ)
الجواب: جب کہ کوئی خاص خبر اس خاص مٹھائی وغیرہ کے نجس ہونے کی نہ ہوتو کھانا اس کا درست ہے۔ فقط
سوال:(۶۰) جولوگ سورکاگوشت کھاتے ہیں اور یہی لوگ ڈبل روٹی وبسکٹ وغیرہ بناکر فروخت کرتے ہیں، آیا ان کے ہاتھوں کی بنائی ہوئی اشیاء مذکور کھاناجائز ہے یانہیں ؟ (۲۹۰/۱۳۳۵ھ)
الجواب:جب تک علم وقوع نجاست کاخاص اس ڈبل روٹی وغیرہ میں نہ ہو، فتوی جواز کا دیا جاوے گا۔ لأن الطّھارۃ لاتزول بالشّک(۱)
سوال:(۶۱)ہنود کی دکان سے مٹھائی خرید کر کھانا جوپاکی کابالکل خیال نہیں کرتے پاک ہے یانہیں؟ اور اس کا کھانا جائز ہے یانہیں؟(۴۹۰/۳۵-۱۳۳۶ھ)
الجواب:فتوی کے موافق یہ حکم ہے کہ جب تک کسی مٹھائی اورکھانے وغیرہ میں نجاست نہ دیکھی جائے ازراہ فتوی اس کاکھانا اور خریدنا درست ہے، احتیاط کی بات دوسری ہے، اگر کوئی شخص احتیاط کرے اور بچے اچھا ہے، لیکن ازراہ فتو یٰ شرعی حکم ناپاکی کابدون دیکھے نہ کیا جائے۔ فقط
سوال:(۶۲) یہاں ہندو کے ہاتھ کی بنی مصری بعض مسلمان نہیں کھاتے، اس کے متعلق شرعی حکم کیاہے؟ کیا نہ کھانا تقویٰ میں شمار ہوگا؟(۲۵۴۹/۱۳۳۷ھ)
الجواب: جائز ہے اس میں کچھ حرج نہیں، اور اس کا کھانا تقویٰ کے خلاف نہین ہے۔
سوال:(۶۳) چمار کے گھر کاگھی خرید کراگراستعمال کرے جائز اور پاک ہے یا نہیں؟(۳۵۰/۳۲-۱۳۳۳ھ)
الجواب: احتیاط یہ ہے کہ نہ خریدے، اگر خرید ا اور استعمال کیا درست ہے، پاک ہی سمجھا جاتا ہے، جب تک کہ کوئی نجاست اس میں معلوم نہ ہو۔
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند، جلد نمبر۱۶)۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ



