شریک حیات کا انتخاب کیسے کریں

انسان جب بلوغت کی دہلیز پر قدم رکھتا ہے، اسی وقت سے اس کے والدین کے ذہن دماغ میں اس کے لیے گھر بسانے کی فکر سوار ہوجاتی ہے، اگر لڑکا ہے تو خفیہ طورپر بہو تلاش کرنے لگتے ہیں اور اگر لڑکی ہے تو داماد کی تلاش میں متفکر رہتےہیں ، پھر جوں جوں ان کی جوانی پروان چھڑتی ہے تو ان کی یہ فکر اور گہری ہوجاتی ہے، اب علانیہ طورپربھی وہ اپنے دوست و احباب اور رشتہ داروں سے اس کا تذکرہ بھی کرنے لگتے ہیں کہ ہمارے بیٹے یا بیٹی کے لیے کوئی مناسب رشتہ ہوتو انہیں ضرور باخبر کیاجائے۔ دوسری طرف جوان لڑکے اور لڑکیاں بھی اپنی شریک حیات کے انتخاب میں سرگرداں رہتے ہیں ۔ مناسب رشتہ کا مطلب لوگوں کی سوچ وفکر کے اعتبار سے الگ الگ ہوتاہے۔ کسی کے نزدیک لڑکی خوب صورت اور خوب سیرت ہو، کسی کے نزدیک لڑکی کے گھر والے مالدار ہوں، اسی طرح لڑکے کے تعلق سے بھی سوچ وفکر مختلف ہوتےہیں، کسی کی سوچ یہ ہوتی ہے کہ لڑکا بیرون ممالک میں برسرروزگار ہو، یا سرکاری نوکری کرنے والاہو، مگر شریعت کی نظر میں مناسب رشتہ کا مطلب کچھ اورہے، اس مضمون میں اسی کی نشاندہی کی گئی ہے۔
لڑکی کا انتخاب
اگر اپنی شریک حیات کا انتخاب قرآن وسنت کے بتائے ہوئے معیار کے مطابق کیا جائے تو گھر چین وسکون کی آماجگاہ بن سکتا ہے ورنہ جہنم کا نمونہ بھی بن سکتاہے، حدیث میں عورت کے انتخاب کرنے کا جو معیار بتایاگیاہے ، وہ درج ذیل ہے:
لڑکی دیندار ہو: نبی کریم ﷺنے ارشاد فرمایا کہ چارچیزوں کی وجہ سے کسی عورت سے نکاح کیاجاتاہے، اس کے مال ودولت کی وجہ سے، اس کے حسب ونسب کی وہ سے ، اس کے حسن وخوبصورتی کی وجہ سے اور اس کی دینداری کی وجہ سے مگر تم دینداری کی بنیاد پر نکاح کرکے دنیا وآخرت میں کامیابی حاصل کیا کرو۔
تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ لِأَرْبَعٍ: لِمَالِهَا، وَلِحَسَبِهَا، وَلِجَمَالِهَا، وَلِدِينِهَا، فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّينِ، تَرِبَتْ يَدَاكَ۔ (صحیح بخاری: ۹۰ عن ابی ہریرۃ)
اگر عورت دیندار اور نیک چلن کی حامل ہے تو پورے گھر کوصحیح رخ دے سکتی ہے، بچوں کی تعلیم وتربیت اچھی طرح کرسکتی ہے، خود اپنا اور اپنے شوہر کا بلکہ پورے خاندان کانام روشن کرسکتی ہے اور اگر خدانخواستہ بدچلن ہے تو پورے خاندان ہی نہیں ،بلکہ پورے محلہ کو بدنام بھی کرسکتی ہے۔ اس لیے لڑکی کے انتخاب میں اس کی پاک دامنی اور دینداری کومعیار بنانا چاہیے۔ (ماہنامہ حج میگزین ،جون ۲۰۱۷ء)۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔ان شاء اللہ تعالیٰ



