حرمین شریفین کے متبرک مقامات اور مشہوراعمال کے اصطلاحی نام-(6)

حرم : یہ مکۃ المکرمہ کے چاروں طرف کچھ دور دور تک زمین ہے۔ اور اسکی چہار جانب حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے حدودِ حرم کے نشانات نصب کردئیے ہیں جو نشانات کسی بھی طرف سے حدود حرم میں داخل ہوتے وقت نظر آتےہیں۔
۱ ان میں سب سے قریب ترین حدود طریق مدینہ پر مقام تنعیم اور مسجد عائشہؓ ہے، جو حرم شریف سے صرف ۶یا۷ کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے۔ ۲ وادی نخلہ جو مسجد حرام سے تقریباً ۱۴ کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے۔ ۳ اضاۃ لبن اسکو عُقیشیہ بھی کہاجاتاہے جو مسجد حرام سے ۲۳ ؍کلو میٹر کے فاصلہ پر طریق یمن میں واقع ہے۔ ۴ جعرانہ جس میں حنین کے مال غنیمت تقسیم ہوئے تھے۔ یہ مسجد حرام سے تقریباً ۲۴؍کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے۔ تاریخ مکہ میں ۲۲؍کلومیٹر لکھا ہے۔ مگر ہم نے خود تجربہ کیاتو ۲۴ ؍اور ۲۵ کلومیٹر کے درمیان واقع ہے۔ ۵ حدیبیہ جو مسجد حرام سے ۲۲؍کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہے ۔ جو جدہ اور مکہ مکرمہ کے درمیان قدیم شاہراہ پر واقع ہے اور اس سے کچھ دور جانب یسار کوہٹ کر جدید شاہراہ ہے جس پر رحل نمانشان قائم ہے اور حُدیبیہ ہی کادوسرا نام شمیسی بتاتے ہیں۔ اور مسجد حرام سے حدودِ حرم کا نشان ۲۲؍کلومیٹر پر ہے۔ اور وہاں سے دو کلومیٹر پر صلح حدیبیہ کے موقع پر بیعت الرضوان کی جگہ ہے لہٰذا مسجد بیعت الرضوان ۲۴؍کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہے۔
اَلْمَسَافَةُ بَيْنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَبَيْنَ الشُّمَيْسِي أَرْبَعَةٌ وَعِشْرُونَ كِيلُومِتْرًا، وَالْمَسَافَةُ بَيْنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَالْعَلَمَيْنِ الدَّالَّيْنِ عَلَى حُدُودِ الْحَرَمِ اثْنَانِ وَعِشْرُونَ كِيلُومِتْرًا تَقْرِيبًا، وَمِنَ الْعَلَمَيْنِ إِلَى مَسْجِدِ الشُّمَيْسِي نَحْوُ كِيلُومِتْرَيْنِ. الخ التاریخ القویم ۳/۱۵۵)
۶ عرفات ومزدلفہ کے راستہ میں واقع ہے جو مسجد حرام سے تقریباً ۱۷؍کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہے۔ تاریخ مکہ میں ۲۲؍کلومیٹر لکھا ہے جو مسامحت پر محمول ہے! اور وہاں سے ڈاکٹر ابو خلیل نے ’’ اطلس السیرۃ النبویہ ‘‘میں بھی ۲۲؍کلومیٹر نقل فرمایاہے۔ وہ بھی مسامحت پر محمول ہے۔ ۷ طائف کا راستہ جو عرفات اور جامع ام القری جدید سے ہوکر جارہاہے، اس میں مسجد حرام سے ۱۶؍ کلومیٹر کے فاصلہ پر حدود حرم کا کھمبا نصب ہے۔
حرمی یا اہل حرم : یہ حدود حرم کے اندر رہنے والے لوگوں کا کہاجاتا ہے۔
حِل : یہ حدودِ حرم سے باہر اور حدودِ میقات کے اندر کے درمیانی حصہ کو کہاجاتاہے۔ اس کو حل اس لئے کہاجاتاہے کہ اس میں حدود حرم کے برخلاف شکار وغیرہ کھیلنا حلال اور جائز ہے۔
حِلّی یا اہل ِ حل : یہ حدودِ حل میں رہنے والوں کو کہاجاتاہے۔
حُدیبیہ : یہ جدہ سے مکۃ المکرمہ جاتے وقت راستہ میں ایک مقام پڑتاہے یہ حرم شریف سے ۲۲؍کلومیٹر کے فاصلہ پر دو طرفہ پہاڑوں کے درمیان بہت بڑی وسیع وعریض وادی اور میدان ہے۔ اس وسیع ترین وادی کے وسط میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا نصب کردہ حدودِ حرم کانشان والاکھمبا ہے۔ اور وہاںسےتقریباً ڈھائی کلومیٹر پر حدود حرم سے باہر اسلامی لشکر کاقیام تھا۔ اسی جگہ آپؐ نے صحابہؓ سے بیعت لی تھی جس کو بیعت الرضوان کہاجاتا ہے ۔ اور اس بیعت کا ذکر قرآن کریم میں بڑے عظیم الشان انداز سے فرمایاہے۔
حَلق : اس کے معنی سرکے بال مونڈنے یا منڈانے کے ہیں۔ اس کے ذریعہ سے احرام نکلتے ہیں۔
حلال : حلال ایسے آدمی کو کہاجاتاہے جس نے احرام نہیں باندھاہے۔
دم : احرام کی حالت میں ممنوع افعال کے ارتکاب کرنے سے جرمانہ میں ایک بکری یا اس جیسے جانور کی قربانی کرنا واجب ہوجاتاہے۔ اس کو دم کہتے ہیں اور اس پوری کتاب کے اندر جہاں بھی دم کالفظ آئے گا وہاں پر یہی جرمانہ کی قربانی مراد ہوگی۔
ذاتِ عرق : یہ مکۃ المکرمہ سے ۹۰کلومیٹر کے فاصلہ پر ایک مقام ہے، یہ اہل عراق ، ایران، خراسان ، افغانستان ، ازبکستان ، ترکمانستان ، قزاخستان، روس اور چین سے خشکی کے راستہ سے آنے والوں کےلئے میقات ہے۔ اس مقام پر ان لوگوں کیلئے احرام باندھنا لازم ہے۔
ذوالحلیفہ : اسکوبئیر علیؓ بھی کہاجاتاہے ۔ یہ مدینہ سے آنے والوں کیلئے میقات ہے یہ مکۃ المکرمہ سے جدید راستہ میں ۴۱۰ کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہے۔
رکن اسود : خانۂ کعبہ کا وہ گوشہ ہے جس میں حجر اسود ہے۔
رکن عراقی : یہ بیت اللہ کا شمالی مشرقی گوشہ ہے۔
رکن شامی : یہ بیت اللہ شریف کا مغربی شمالی کونہ ہے۔
رکن یمانی : یہ بیت اللہ شریف کا جنوبی مغربی کونہ ہے ۔ طواف کے دوران اس کونہ پر ہاتھ لگاتے ہوئے گزرنے کو استلام کہاجاتاہے۔ اوریہ استلام مسنون ہے۔
[از کتاب انوارمناسک۔مؤلف حضرت مفتی شبیر احمد صاحب قاسمی ]
۔۔۔۔۔۔(جاری ہے۔۔۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ)۔۔۔۔۔۔۔



