مضامین

احکامات حج-(فضائل ومسائل)-۲۶

مسائل ارکان و واجبات حج
(۱۸): ایک دن کی رمی دوسرے دن تک نہ مؤخر کرنا
: ایک دن کی رمی کو دوسرے دن تک مؤخر نہ کرنا ۔اگر اتنی مؤخر کی جائے گی کہ دوسرے دن صبح ہوجائے تو جُرمانہ میں حضرت امام ابو حنفیہؒ کے نزدیک ایک دم واجب ہوگا۔(شامی کراچی۔ص:۴۶۷،ج:۲) (ہدایہ مع الفتح کوئٹہ ۲/۴۶۸)
(۱۹): متمتع وقارن کا ذبح :
متمتع وقارن کا ذبح سے قبل رمی کرنا، لہٰذا اگر قربانی کو مقدم کردیگا تو دم لازم ہوجائے گا۔ (شامی ۔ص:۴۶۷،ج:۲۔ ہدایہ)
(۲۰): قربانی کوحلق پر مقدم کرنا:
متمتع اور قارن کا قربانی کو حلق پر مقدم کرنا، لہٰذا اگر حلق کو مقدم کریگا تو جرمانہ کا دم دینالازم ہوگا۔ (مستفاد شامی کراچی ۔ص:۴۶۷، ج:۲) اور حضرت امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک قارن پر دو دم لازم ہوں گے، اور صاجینؒ کے نزدیک قارن ومتمتع دونوں پر ایک دم لازم ہوگا۔ (معلم الحجاج ص۲۴۷، فتح القدیر ۔ص:۶۵، ج:۳)
(۲۱): امیر الحج سے پہلے عرفات سے نہ نکلنا :
امیر الحج سے پہلے لوگوں کا میدان عرفات سے نکلنا جائز نہیں ہے۔ بلکہ امیر الحج کے نکلنے تک انتظار کرنا واجب ہے۔ لہٰذا اگر امام حج کے حدود عرفات سے نکلنے سےپہلے جو لوگ نکلیں گے ان پر ترک واجب کی وجہ سے جرمانہ میں ایک قربانی کرنا واجب ہوگا۔ (ہدایہ مع الفتح ۔ص:۵۹،ج:۳)
یہ مسئلہ اختلافی ہے۔ صاحب ہدایہ نے یہی لکھاہے کہ اس پردم واجب ہوجائیگا اور صاحب فتح القدیر نے اس کی تائید فرمائی مگر فتح القدیر کے حاشیہ میں علامہ سعداللہ چلپیؒ نے لکھاہے کہ غروب کے بعدامیر الحج سے قبل عرفات سے نکلنے سے دم واجب نہیں ہوتا۔
اور اس زمانہ میں حدود عرفات میں سرکاری طورپر انتظام ہوتاہے کسی حاجی کو حدود عرفات سے اس وقت تک باہر نکلنے نہیں دیاجاتا جب تک توپ کی آواز نہ آجائے ،شاید امیرالحج کے نکلنے کے بعد ہی توپ چھوڑی جاتی ہے۔
بہرحال حجاج کرام کو توپ کی آواز سے قبل نہیں نکلنا چاہیے۔ نیز عرفات کے تمام گیٹ اس وقت تک بند رکھتے ہیں جب تک امیر الحج نہ نکل جائے۔
۔۔۔۔ (ماخوذ از کتاب انوارمناسک)۔۔۔(جاری ہے ۔۔۔ ان شاءاللہ تعالیٰ)۔۔۔۔۔۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button