احکامات حج-(فضائل ومسائل)-۴

عازمین حج کی بعض کوتاہیاں
سفر سے کئی روز پہلے کی غلطیاں
(۱)جب حاجی صاحب کے حج کی منظوری آتی ہے تو اسی وقت سے اس کا چرچا اور تبصرہ ہونا شروع ہوجاتاہے اور حاجی صاحب خود بھی اپنے حج کو جانے کا چرچا عام کرنے لگتے ہیں، حالاں کہ حج ایک عشقیہ عبادت ہے، اورحاجی لوگوں میں جتنا خود چرچا کرے گا اتنا ہی رب کریم سے عشق و محبت میں کمی آتی رہے گی، اس لئے اس میں حتی الامکان احتیاط کی ضرورت ہے۔
(۲) جوں جوں سفر حج کا وقت قریب آتا جاتاہے اعزاء واقرباء کی آمدورفت کاسلسلہ بڑھتا جاتاہے ، اور بہت سے لوگ حاجی صاحب کے لئے اس بناء پر تحفہ وتحائف لاتےہیں کہ حاجی صاحب بھی واپسی میں ہمارے لئے حرمین شریفین سے تحفہ لائیں گے، بلکہ بعض حاجی توایسا کرتے ہیں کہ محلہ میں گشت لگاتے ہیں تاکہ لوگ حاجی صاحب کو تحفہ پیش کیاکریں۔
(۳) جب سفر بالکل قریب آجاتاہے توحاجی صاحب کے یہاں ایسی دعوت ہوتی ہے جیسے کوئی دولت مند آدمی اپنی لڑکی کی شادی میں دعوت کرتاہے ، اور اس موقع پر بھی تحفہ اور لفافہ پیش ہونے لگتاہے۔
(۴)اب جبکہ حاجی صاحب سفر حج شروع کرتے ہیں تو ایئر پورٹ تک گاڑیوں اور بسوں سے ایک ایک حاجی کو پہنچانے کے لئے ایک بڑا مجمع پہنچ جاتاہے، دیکھنے والوں کو شبہ ہوجاتا ہے کہ شاید کوئی بڑی بارات دولہا کو لے کر جارہی ہے ، یا دولہن کو لے کرآرہی ہے، حالاں کہ صرف ایک دو آدمی ایئرپورٹ پر پہنچا کر آسکتے ہیں، اس فضول خرچی کی قطعاً ضرورت نہیں ہے۔
ایئرپورٹ پر میلہ اور افراتفری کاعلم
(۵)جب ایک ایک حاجی کو پہنچانے کے لئے بسیں بھر بھر کر ہر طرف سے انسانوں کے ریلے کے ریلے پہنچ جاتے ہیں تو ایئر پورٹ پر خواہ مخواہ سخت ترین ہجوم اور ہنگامہ کی شکل پیدا ہوجاتی ہے، حیرت کی بات ہے کہ عورتیں اپنے دودھ پیتے اور شیر خوار معصوم بچوں پر بھی رحم نہیں کرتیں، ان کوبھی لے کر ایئرپورٹ پہنچ جاتی ہیں، ان باتوں کے نتیجہ میں ایئر پورٹ کے قریب جام لگ جاتاہے ، اورکبھی راستہ میں بہت سے حادثات اور ایکسیڈنٹ کے واقعات بھی پیش آجاتے ہیں، اور بہت سے لوگوںکو الٹی متلی اور دیگر امراض کا شکار بھی ہونا پڑ جاتاہے، اور چھوٹے بچے بسوں میں الٹیاں کرنے لگتے ہیں، بالآخر اللہ اللہ کرکے حاجی اہل وطن کے ہجوم اور ہنگامہ سے نجات پاجاتاہے، مگر آج ہی سے حاجی صاحب پریہ فکر اور بخار سوار ہوجاتا ہے کہ تحفہ دینے والوں کا بدلہ کیسے چکایا جائے گا؟ چناں چہ جب مکۃ المکرمہ اور مدینۃ المنورہ کی مقدس سرزمین پر پہنچ جاتاہے تو بجائے یکسوئی کے ساتھ عبادت اور رجوع الی اللہ میں مصروف ہوجانے کے آج ہی سے یکسوئی کھو بیٹھتا ہے، اور بازاروں کاچکر لگانے کاسلسلہ شروع کردیتاہے، اور خریداری شروع ہوجاتی ہے، کہ کس کے لئے کیا تحفہ لینا ہے، بیچارے حاجی صاحب کو ہروقت اپنے اعزاء واقرباء کی ہمدردی اور تحفہ کا بدلہ چکانے کی فکر سوار رہتی ہے، حالاں کہ وہاں سےلانے کیلئے آب زمزم اور مدینۃ المنورہ کی کھجوروں سےبڑھ کر کوئی تحفہ نہیں ہے، اور اعزاء واقرباء کے لئے اس سے بڑھ کر کوئی ہمدردی نہیں ہے کہ حرمین شریفین کی مقدس سرزمین میں اپنی خصوصی دعاؤں میں انہیں فراموش نہ کرے۔ (ماہنامہ حج میگزین، ممبئی، جولائی ۲۰۱۷)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے ان شاء اللہ تعالیٰ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



