احکامات مساجد-۱

’’اور اس سے بڑا ظالم کون جس نے منع کیا اللہ کی مسجدوں میں کہ لیاجاوے وہاں نام اس کا اور کوشش کی ان کے اجاڑنے میں، ایسوں کولائق نہیں کہ داخل ہوں ان میں مگر ڈرتے ہوئے، ان کے لئے دنیا میں ذلّت ہے، اور ان کےلئے آخرت میں بڑا عذاب ہے، اور اللہ ہی کا ہے مشرق اور مغرب، سوجس طرف تم مُنہ کرو، وہاں ہی متوجہ ہے اللہ، بیشک اللہ بے انتہاء بخشش کرنے والاسب کچھ جاننے والاہے۔‘‘
احکام ومسائل
ان دوآیتوں میں دواہم مسئلوںکا بیان ہے، پہلی آیت ایک خاص واقعہ کے متعلق نازل ہوئی ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ زمانۂ اسلام سے پہلے جب یہودیوں نے حضرت یحییٰ علیہ السلام کو قتل کرڈالا توروم کے نصاریٰ نے ان سے انتقام لینے کی خاطر عراق کے مجوسی بادشاہ بخت نصر کے ساتھ مل کر اپنے بادشاہ طیطوس کی سرکردگی میں شام کے بنی اسرائیل پر حملہ کرکے ان کو قتل وغار ت کیا اور تورات کے نسخے جلاڈالے، بیت المقدس میں نجاسات اور خنزیر ڈال دیئے، اس کی عمارت کو خراب وویراں کردیا، بنی اسرائیل کی قوت وشوکت کوبالکل پامال اورختم کردیا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک تک بیت المقدس اسی طرح ویران ومنہدم پڑاتھا۔
فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے عہد میں جب شامؔ و عراقؔ فتح ہوئے تو آپکے حکم سے بیت المقدس کی دوبارہ تعمیر کرائی گئی، زمانۂ دراز تک پوراملک شام وبیت المقدس مسلمانوںکے قبضہ میں رہا، پھر ایک عرصہ کے بعد بیت المقدس مسلمانوں کے قبضہ سے نکل گیا، اور تقریباً سو سال یورپ کے عیسائیوں کااس پر قبضہ رہا، تاآنکہ چھٹی صدی ہجری میں سلطان صلاح الدین ایوبیؒ نے پھر اس کو فتح کیا۔
رومی نصاریٰ کی اس گستاخانہ حرکت پر کہ تورات کو جلایا اور بیت المقدس کوخراب وویراںکرکے اس کی بے حرمتی کی، یہ آیت نازل ہوئی۔
یہ قول مفسرالقرآن حضرت عبداللہ بن عباسؓ کاہے۔ اور حضرت ابن زیدؓ وغیرہ دوسرے مفسرین نے آیت کا شانِ نزول یہ بتلایا ہے کہ جب مشرکین مکہ نے رسول کریم ﷺ کو واقعۂ حدیبیہ کے وقت مسجد حرام میں داخل ہونے اور طواف کرنے سے روک دیا تویہ آیت نازل ہوئی، ابن جریرؒنے پہلی روایت کو اور ابن کثیر نے دوسری کو ترجیح دی ہے۔
بہر حال آیت کاشان نزول تومفسریرین کے نزدیک ان دونوں واقعوں میں سے کوئی خاص واقعہ ہے، مگر اس کا بیان عام لفظوں میں ایک مستقل ضابطہ اور قانون کے الفاظ میں فرمایا گیا ہے، تاکہ یہ حکم انہیں نصاریٰ یا مشرکین وغیرہ کے لئے مخصوص نہ سمجھاجائے بلکہ تمام اقوام عالم کےلئے عام رہے، یہی وجہ ہے کہ اس آیت میں خاص بیت المقدس کانام لینے کے بجائے ’’مساجد اللہ:فرماکرتمام مساجد پر اس کے حکم کوعام کردیاگیا اور آٰت کامضمون یہ ہوگیا، کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی کسی مسجد میںلوگوں کااللہ کا ذکر کرنے سے روکے، یاکوئی ایساکام کرے جس سے مسجد ویران ہوجائےتووہ بہت بڑاظالم ہے۔
[تفسیر معارف القرآن ،جلد نمبر۱]۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ



