حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے قبول اسلام کے واقعات۶

اسلام سلمان بن اسلام رضی اللہ عنہ
سلمانؓ فرماتے ہیں کہ میں نے اس سے زائد کسی کو عالم اور اس سے بڑھ کر کسی کو عابد زاہد دنیا سے بے تعلق اور آخرت کاشائق اور طلب گار نمازی اور عبادت گزار کسی کونہیں دیکھا اور جس قدر مجھ کو اس عالم سے محبت ہوئی اس سے پیشتر کبھی کسی سے اس قدر محبت نہیں ہوئی۔ میں برابر اس عالم کی خدمت میں رہا جب ان کا اخیر وقت آگیا تو میں نے عرض کیا کہ آپ مجھ کو وصیت کیجیے اور بتلائیے کہ آپ کے بعد کس کی خدمت میں جاکررہوں۔ کہا موصل میں ایک عالم ہے تم اس کے پاس چلے جانا۔ چنانچہ میں انکے پاس گیا اور ان کے بعد ان کی وصیت کے مطابق نصیبین میں ایک عالم کے پاس جاکررہا اور ان کی وفات کے بعد ان کی وصیت کے مطابق شہر عموریہ میں ایک عالم کے پاس رہا ۔ جب ان کابھی انتقال ہونے لگا تو میں نے کہاکہ میں فلاں فلاں عالم کے پاس رہا اب آپ بتلائیں کہ میں کہاں جاؤں ، اس عالم نے یہ کہا کہ میری نظر میں اس وقت کوئی ایساعالم نہیں جو کہ صحیح راستہ پر ہو اور مَیں تم کو اس کاپتہ بتاؤں۔ البتہ ایک نبی کے ظہور کازمانہ قریب آگیاہے کہ جو دین ابراہیمی پر ہوگا ۔ عرب کی سرزمین میں اس کا ظہور ہوگا۔ ایک نخلستانی زمین کی طرف ہجرت کرے گا۔ اگر تم سے وہاں پہنچنا ممکن ہوتو ضرور پہنچنا۔ ان کی علامت یہ ہوگی کہ وہ صدقہ کامال نہ کھائیں گے۔ ہدیہ قبول کریں گے۔ دونوں شانوں کے قریب مہر نبوت ہوگی جب تم ان کو دیکھو گے تو پہچان لو گے۔ اس اثناء میں میرے پاس کچھ گائیں اوربکریاں بھی جمع ہوگئیں تھیں اتفاق سے ایک قافلہ عرب کا جانے والامجھ کو مل گیا۔ میں نے ان سے کہاکہ تم لوگ مجھ کو ساتھ لے چلو یہ گائیں اور بکریاں سب کی سب تم کودے دوں گا۔ ان لوگوںنے اس کوقبول کیا اورمجھ کو ساتھ لےلیا۔ جب وادی قریٰ میں پہنچے تو میرے ساتھ یہ بدسلوکی کی کہ غلام بناکر ایک یہودی کے ہاتھ فروخت کیا جب اس کے ساتھ آیا تو کھجور کے درخت دیکھ کر خیال ہوا کہ شاید یہی وہ سرزمین ہو لیکن ابھی پورا اطمینان نہیں ہوا تھا کہ بنی قریظہ میں ایک یہودی اس کے پاس آیا اور مجھ کو اس سے خرید کر مدینہ لے آیا۔
حتی قدمت المدینہ فواللہ ماہو الاان ریتھا فعرفتھا بصفۃ صابی وایقنت انہا ہی البلدۃ التی وصفت لی
جب میں مدینہ پہنچا توخدا کی قسم مدینہ کو دیکھتے ہی پہچان لیا اور یقین کیاکہ یہ وہی شہر ہے کہ جومجھ کو بتلایاگیاہے۔
صحیح بخاری میں خود حضرت سلمان سے مروی ہے کہ میں اس طرح دس مرتبہ سے زیادہ فروخت ہوا ہوں (لوگوں نے سلمان ؓ کو بار بار بے رغبتی کے ساتھ دراہم معدودہ میں خرید ا لیکن اس کی اصلی قیمت کو کسی نے نہ پہچانا) میں مدینہ میں اس یہودی کے پاس رہا اور بنی قریظہ میں اس کے درختوں کاکام کرتارہا۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کومکہ میں مبعوث فرمایا مگر مجھ کو غلامی اور خدمت کی وجہ سے مطلق علم نہ ہوا جب آپ ہجرت فرماکر مدینہ تشریف لائے اور قباء میں بنی عمرو بن عوف کے یہاں آپ نے قیام فرمایا، میں اس قت ایک کھجور کے درخت پر چڑھاہوا کام کررہاتھا اورمیراآقا درخت کے نیچے بیٹھاتھا کہ ایک یہودی آیا جو میرے آقا کا چچازاد بھائی تھا اور یہ کہنے لگا، خدا بنی قیلہ یعنی انصار کو ہلاک کرے کہ قباء میں ایک شخص کے اردگر جمع ہیں جو مکہ سے آیا ہے اوریہ کہتے ہیں کہ یہ شخص نبی اور پیغمبرہے۔ سلمان فرماتے ہیں۔
فواللہ ان ھوالااخذاتنی العُرَوآءُ حتی ظننت انی سا سقط علی صاحبی
خدا کی قسم یہ سننا تھا کہ مجھ کو لرزا اور کپکپی نے پکڑا اور مجھ کویہ غالب گمان ہوگیا کہ میں اپنے آقا پ راب گرا ۔
(بشیر ونذیر کی آمد کی بشارت نے سلمان کو ایسا بیخود اور وارفتہ بنادیاکہ اگر لَوْ لَااَنْ رَّبَطْنَا قَلْبَھَا کا مضمون نہ ہوتا تو درخت سے گرہی پڑتے۔ وہ دونوں یہودی ان کی اس حالت اور کیفیت کو دیکھ کر سخت متعجب تھے اور سلمان ؓ کی زبان حال یہ شعر پڑرہی تھی۔
خَلَیلَیّ لاواللہ مَااَنَا مِنْکْمَا اِذَاعَلَمٌ مِنْ اَلِ لَیلٰی بَدالِیَا
اے میرے دوستو خدا کی قسم میں اب تم سے نہیں رہا جب کہ مجھ کو دریارلیلیٰ کاکوئی پہاڑ نظر آگیا۔
مدتے بود کہ مشتاق لقایت بودم لاجرم روئے ترادیدم وازجارفتم
بہرحال دل کو تھا مکردرخت سے اترا اور اس آنے والے یہودی سے پوچھنے لگا بتاؤ تو سہی تم کیا بیان کرتے تھے وہ خبر ذرا مجھ کو بھی توسناؤ یہ دیکھ کر میرے آقا کو غصہ آگیا اور زور سے ایک طمانچہ میرے رسید کیا اور کہا تجھ کو اس سے کیا مطلب تو اپنا کام کر۔
جب شام ہوئی اور کام سےفراغت ہوئی توجو کچھ میرے پاس جمع تھا وہ ساتھ لیا اور آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ اس وقت قباء میں تشریف فرما تھے میں نے عرض کیا کہ مجھ کو معلوم ہوا کہ آپ کے اور آپ کے رفقاء کے پاس کچھ نہیں ہے آپ سب حضرات صاحبِ حاجت ہیں اس لیے میں آپ کے لیے اور آپ کے رفقاء کے لیے صدقہ پیش کرنا چاہتاہوں۔
آپ نے اپنی ذات مطہر کے لیے صدقہ قبول کرنے سے انکار کردیا اور یہ فرمایا کہ میں صدقہ نہیں کھاتا اور صحابہ کو اجازت دی کہ تم لے لو۔ [سیرۃ المصطفیٰﷺ،جلد ۱]



