مضامین

حضرت نبی کریم ﷺ کی حیات مبارکہ کے صدموں اور غموں بھرے لمحات-۴

حضرت رقیہ ؓکی بیماری اوررحلت پرآپﷺ کوصدمہ
بعض مؤرخین نے تحریر کیاہے کہ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ جب غزوۂ بدر کی فتح کی خوش خبری لے کر مدینہ میں داخل ہوئے تو اس وقت تک صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کی تدفین کاکام مکمل کرچکے تھے، اور اپنے ہاتھوں سے مٹی جھاڑرہے تھے۔
حضور اکرم ﷺ اپنے صحابہ کے ساتھ فتح کی خوش خبری لے کر مدینہ منورہ میں داخل ہوئے، فتح کاپرچم صحابہ کے ہاتھ میں لہرا رہاتھا، آپ ﷺ کو مدینہ منورہ میں داخل ہونے کے بعد اپنی عزیز از جان بیٹی حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کی موت کی خبر ملی۔ بعض مؤرخین نے تحریر کیاہے کہ آپﷺ غزوۂ بدر سے فارغ ہوکر قیدیوں کے سلسلہ میں فیصلہ فرمارہے تھے، تو آپ کو اپنی پیاری بیٹی سیدہ رقیہ ؓ کی وفات کی خبر ملی تھی۔ ا س عظیم صدمہ کی وجہ سے حضور اکرم ﷺ کی چشم مبارک سے آنسو رواں ہوگئے، آپ نے اپنے مبارک ہاتھ سے اپنے آنسوؤں کو صاف کیا، اور اپنے گھر تشریف لے جانے کے بجائے سیدہ رقیہ ؓ کی قبر پر پہنچے، پیاری بیٹی کی قبر پر ہاتھ پھیر کر زبان مبارک سے فرمایا کہ: ’’اے بابا کی جان توبھی ہمیں چھوڑکر چلی گئی، جہاں حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ گئے ہیں۔۔‘‘(حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ ایک بلند پایہ صحابی رسول تھے، ہجرت حبشہ میں شریک تھے، مدینہ منورہ ہجرت کرنے کے بعد یہ پہلے صحابی تھے جن کی وفات واقع ہوئی اوریہ پہلے مہاجر صحابی تھے، جنہیں جنت البقیع میں دفن ہونے کاشرف حاصل ہوا، آپ ﷺ کی آنکھوں سے حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی وفات پر بھی آنسو جاری ہوگئےتھے)
سیدہ رقیہؓ کی وفات پر پورے مدینہ میں سوگواری
آپ کی زبان مبارک سے جب یہ جملہ اداہوا، تو تمام صحابہ کی روتے روتے ہچکی بند ھ گئی ، اس موقع پر حضرت عثمان غنی ؓ کی بھی غم والم کی وجہ سے یہ حالت تھی کہ روتے روتے ان کی داڑھی آنسوؤں سے ترہوگئی تھی، ایسا محسوس ہورہاتھا کہ سیدہ رقیہ ؓ کی موت پر پورے مدینہ پرسوگواری طاری ہوگئی ہے، حضور اکرم ﷺ نے دیکھا کہ عورتیں تیز آواز میں گریہ وازری کررہی ہیں ، تو آپ ﷺ نےفرمایا کہ :’’اگر رنج وغم کااظہاردل اور آنسوؤں سے ہوتو کوئی حرج نہیں ، زبان سے نوحہ کرنا ،گالوں کو پیٹنا، سینہ کوبی کرنا، گریبان چاک کرنااور بالوں کو کھینچنا زمانۂ جاہلیت کی رسوم اور شیطانی فعل ہیں۔‘‘
تاریخ گواہ ہے کہ آپ نے اپنی پیاری بیٹی کی وفات پر آنسو توبہائے، لیکن پیکر صبر ورضابن کر پوری امت مسلمہ کو کسی بھی عزیز قریب کے انتقال پر صبر و ضبط تسلیم ورضا کادامن مضبوطی سے تھامے رہنے کی تلقین فرمائی۔
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا ، آپ ﷺ کی سب سے چھوٹی صاحب زادی تھیں، سیدہ رقیہ ؓ اُن کی بڑی بہن تھیں، سیدہ رقیہ سے بے پناہ محبت کرتی تھیں، حضور اکرم ﷺ کے ساتھ بہن کی قبر پر حاضر ہوئیں ۔(واضح رہے کہ اس وقت تک خواتین کاقبرستان میں جانا ممنوع نہیں تھا) تو پیاری بہن کی قبر سےلپٹ کرزار وقطار رونے لگیں ، پیارے !اباجان نے اپنی ردائے مبارک سے ان کے آنسو صاف کئے اور انہیں صبر کی تلقین فرمائی۔(عظمت صحابہ نمبر ۹۰۶-۹۰۷)
حضرت رقیہ ؓ کے بیٹے عبداللہ کا بچپن میں وصال
حضرت رقیہ ؓ جب حضرت عثمان غنی ؓ کے ساتھ حبشہ میں تھیں، توآپ کے گھر بیٹے کی ولادت ہوئی تھی، ان کانام عبداللہ تھا، سیدہ رقیہ ؓ کے یہ بیٹے نہایت حسین وجمیل اور صحت مند تھے، یہ اتنے پرکشش تھے کہ رہ چلتے ہوئے لوگ انہیں دیکھ کر رک جاتے، پھر انہیں پیار ضرور کرتے، چھ برس کی عمر میں حضرت عبداللہ کے ساتھ ایک حادثہ پیش آیا ، ایک مرغ نے ان کی آنکھ پر چونچ ماردی ، اس وقت حضرت عبداللہ کھیل رہے تھے، انکی آنکھ میں زخم ہوگیااور اس زخم کی وجہ سے چہرے پر ورم آگیا، اورنبی اکرم ﷺ کے اس چہیتے نواسے کی صرف چھ سال کی عمر میں وفات ہوگئی، آپ ﷺ ان کی وفات پر بہت زیادہ مغموم ہوئے، آپ ﷺ نے نواسہ کو گود میں اٹھایا، شدتِ غم سے آپ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے، آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ اپنے بندوں کورحمت وشفقت سے نوازتاہے،پھر آپ ﷺ نے نواسہ کی نماز جنازہ پڑھائی، حضرت عثمان غنی ؓ قبر میں اترے اور پھر عبداللہ کی تدفین عمل میں آئیئ۔ (مستفاد: عظمت صحابہ نمبر ۹۰۷)
آپ ﷺ کوپہلے عزیز بیٹی کی موت کا صدمہ پہنچا، پھر نواسےکی وفات کادل دوز واقعہ پیش آیا،یہ دونوں صدمے یکے بعد دیگرے آپ نے برداشت کئے، اور پوری امت کو صبر وضبط اور رب العالمین کے فیصلوں پر راضی رہنے کادرس دیا۔۔[ماہنامہ ندائے شاہی جولائی ۲۰۱۵ء؁]

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button