خالق انسان کا تجویز کردہ نصب العین-۳

زندگی اور موت میں بھی خدا ملتاہے
زندگی ہے یہ بڑی نعمت ہے۔ زندگی نہ ہوتو آدمی طاعت وعبادت کیسے کرے؟ ترقی کے مدارج کیسے طے ہوں؟ سارے کام زندگی سے متعلق ہیں۔ موت جب آئے مرنے والے کا دل ٹوٹا کہ یہ تواپنی زندگی میں سب کچھ کمارہاہے، میں تو ختم ہوچکا، میرے لیے اب کچھ نہ رہا۔ فوراً اسلام نے تسلی دی کہ بے صبر مت بن، پریشان مت ہو۔ تُحفَۃُ الْمُومِنِ اَلْمَوْتُ
مومن کاسب سے بڑا تحفہ موت ہے جو اس کو اللہ کی طرف سے عطا کیاجاتاہے۔
فرمایا: إِنَّ المَوتَ جِسرٌ يُوصِلُ الحَبيبَ إِلَى الحَبيبِ
موت ایک پُل ہے جس سے گزر کر حبیب اپنے محبوب حقیقی سے جاملتاہے۔ اگر موت بیچ میں نہوتو اللہ سے ملنے کی کوئی صورت نہیں ہے ۔ اگر یہ زندگی ختم ہوکر اگلی زندگی نہ آٗے تو جمال خداوندی کے دیکھنے کی کوئی صورت نہیں ہے۔۔۔۔ تو اس سے مرنے والے کو تسلی ہوگئی کہ میں تو بڑے درجات کی طرف جارہاہوں مجھے زندگی نہیں چاہیے۔۔۔۔۔ بلکہ ایسے میں موت کی تمنا پیدا ہوجاتی ہے ۔ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"إِنَّ المَوتَ جِسرٌ يُوصِلُ الحَبيبَ إِلَى الحَبيبِ”
اے اللہ ! ہر اس شخص کے دل میں موت کی محبت ڈال دے جو میرے رسول ہونے کا قائل ہو۔۔۔۔۔ جو مجھے رسول مانتا ہے ، اس کے دل میں موت کی محبت ڈال دے اس لئے کہ اگر اُسے اللہ سے محبت ہے۔ اللہ تک پہنچانے والی چیز موت ہے تو اس سے بھی محبت ہوگی۔ کیونکہ منزل اگر محبوب ہے تو راستہ بھی عزیز اور محبوب ہے۔
اسی طرح قرآن حکیم میں ارشاد فرمایاگیا کہ یہود نے دعویٰ کیاتھا کہ اولیاء اللہ توہم ہیں۔ فوراً قرآن کریم نے مطالبہ کیا:
قُلْ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ هَادُوا إِنْ زَعَمْتُمْ أَنَّكُمْ أَوْلِيَاءُ لِلَّهِ مِنْ دُونِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ
اے بہود! اگرتمہیں یہ دعویٰ ہے کہ تم اولیاء اللہ ہو، تو ذرا موت کی تمنا توکرکے دکھاؤ۔
ولی اللہ وہ ہوتاہے جس کے دل میں اس زندگی سے زیادہ موت کی محبت ہوتی ہے ان کی زبانوں پر یہ شعر رہتاہے کہ
خُرَّم آن روز کِز این مَنْزِلِ دِیْران برویم
تا درِ مِیکَدَه شاداں و غَزَلخوان برویم
وہ کون سا مبارک دن ہوگا کہ اس اُجڑے ہوئے دیار کو چھوڑکر ہم اس شہر مطلوب تک پہنچیں گے۔ اور غزلخواں، شاداں اور فرحاں جائیں گے۔ وہ کون سا دن ہوگا کہ اس گندے جہان کو چھوڑکر پاک جہان میں جائیں گے۔
ابن الفارض رحمہ اللہ جب ان کی وفات کا وقت آیا تو ترجمہ نگار لکھتے ہیں کہ آٹھوں جنتیں ان کے سامنے کھول دی گئیں اور منکشف ہوئیں۔ تو ابن الفارضؒ نے منہ پھیر لیا اور اانکھیں بند کرلیں اور یہ شعر پڑھا
إِنْ كَانَ مَنْزِلَتِي فِي الحُبِّ عِندَكُمُ
مَا قَدْ رَأَيْتُ فَقَدْ ضَيَّعْتُ أَيَّامِي
اگر میری عمر بھر کی محنت کاثمرہ یہ آٹھ کھلونے ہیں جو آپ نے رکھ دیئے، تو افسوس میری عمر ضائع ہوگئی، مجھے کچھ نہ ملا۔۔۔۔۔ مورخین لکھتے ہیں کہ آٹھوں جنتیں چھپادی گئیں۔ تجلیات خداوندی سامنے آئیں اور ان کی روح غرغرا کر پرواز کرگئی۔
توایک مرنے والاجب یہ دیکھتا ہے کہ تجلیات خداوندی میرے استقبال کو آرہی ہیں ، ایسے کیسے زندگی کی تمنا باقی رہ سکتی ہے؟
حدیث میں ہے کہ جب مومن کے مرنے کا وقت آتا ہے تو ملک الموت کے اعوان وانصار دوقسم کے ہیں ایک وہ جودائیں ہاتھ پر ہیں۔لاکھوںکروڑوں فرشتے ہیں۔ ایک وہ ہیں جو بائیں ہاتھ پر ہیں۔ دائیں ہاتھ والے مومنوں کی ارواح قبض کرتے ہیں اور بائیں ہاتھ والے کفار کی ارواح قبض کرتےہیں۔ دائیں ہاتھ والے روشن چہرے کے ملائکہ ہیں۔ سورج اور چاند کی طرح ان کے چہرے چمکتے ہیں۔ اور بائیں ہاتھ والے ملائکہ سودوالوجدہ ہیں۔ سیاہ اور بھیانک چہرے ہیبتناک انکی شکلیں ہیں۔
[ماخوذاز خطبات حکیم الاسلام ،جلد ۴]۔۔۔ جاری ہے۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ



