مضامین

سلام، مصافحہ اور معانقہ کے آداب-۹

محرم مردوعورت کا ایک دوسرے کوسلام کرنا
سوال:(۱۴۶۵) عورت مؤمنہ کا اپنے باپ ،بھائی، دادا سے السلام علیکم کہنا اور جواب میں وعلیکم السلام کہنا جائز ہے یانہیں؟ (۳۳۸/۳۳-۱۳۳۴ھ)
الجواب: جائز ومستحب ہے۔ فقط واللہ اعلم
سوال:(۱۴۶۶) عورت کوخاوند سے اور اپنے لڑکے سے اور بھائی سے علیٰ ہذا ان تینوں کو عورت سے سلام وجواب جائز ہے یانہیں؟(۳۳۸/۳۳-۱۳۳۴ھ)
الجواب:جائز ومستحب ہے۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم
خاوند کا اپنی بیوی سے مصافحہ کرنا
سوال:(۱۴۶۷) جب مرد سفر سےواپس آوے تو اپنی زوجہ سے مصافحہ کرے یانہیں؟ مصافحہ کرنا زوجہ سے حدیث سے ثابت ہے یانہیں؟(۱۲۶۳/۱۳۳۵ھ)
الجواب: شامی میں ہے: وإن دخل علی أ ھلہٖ یُسَلِّمُ أوّلًا ثمّ یتکلّم إلخ (۲) یعنی اگر اپنے گھر میں داخل ہوتو اول سلام کرے، پھر کلام کرے، اورمصافحہ کرنا اپنی زوجہ سے ظاہر ہے کہ جائز اور درست ہے، لیکن سنیت اس کی بہ ظاہر ثابت نہیں ہے۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم
شوہر جب گھر میں آئے تو سلام کرنے میں پہل کرے
سوال:(۱۴۶۸) اگر شوہر باہر سے گھر میں آئے ، تو اپنی بیوی سے السلام علیکم کہے، یا بیوی سبقت کرے؟ اور مصافحہ کرے یانہیں ؟(۱۳/۱۳۴۰ھ)
الجواب:استحباب اس میں ہے کہ مرد سلام کرنے میں سبقت کرے۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم
مستورات کا آپس میں مصافحہ کرنا
سوال:(۱۴۶۹) اگر ایک عورت دوسری عورت کو ملے، تومصافحہ مثل مردوں کے کرے یا نہیں؟(۴۲۳/۲۹-۱۳۳۰ھ)
الجواب:مصافحہ عنداللقاء سنتِ رجال ہے (۱) عورتیں اگر باہم مصافحہ کریں درست ہے اور اگر نہ کریں تو کچھ حرج معلوم نہیں ہوتا۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم
سلام، مصافحہ اور معانقہ کرنے کی ترتیب
سوال:(۱۴۷۰) تسلیم ومصافحہ ومعانقہ تینوں باہم مجتمعًا احادیث سے ثابت ہیں یامنفردًا منفردًا؟ برتقدیراول ترتیب کیاہے؟(۴۴۳/۱۳۳۸ھ)
الجواب: طبرانی اور بیہقی کی روایت میں ہے: قال النّبی صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا لَقِيَ الْمُؤْمِنَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، وَأَخَذَ بِيَدِهِ فَصَافَحَهُ، تَنَاثَرَتْ خَطَايَاهُمَا كَمَا يَتَنَاثَرُ وَرَقُ الشَّجَرِ(۱) اس حدیث سے تربیت مابین السلام والمصافحہ معلوم ہوئی، اور معانقہ بھی شرعًا درست ہے(۲) اس کی کچھ تربیت مذکور نہیں اور ظاہر یہ ہے کہ معانقہ بھی سلام کے بعد ہوتاہے ، اور قائم مقام مصافحہ ہوجائے گا یا اس کے بعد مصافحہ بھی ہوتو کچھ مضائقہ نہیں ہے۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم
سوال:(۱۴۷۱)مصافحہ یا معانقہ میں کس کو سبقت کرنی شرعًا ضروری ہے؟ (۱۳۴۰/۱۳۳۸ھ)
الجواب: جب کوئی مسلمان دوسرے مسلمان سے ملاقی ہوسلام اور مصافحہ سنت ہے، اور معانقہ بھی درست ہے، سبقت جس کی طرف چاہے ہو اس میں کوئی قید نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم
[فتاویٰ دارالعلوم دیوبند، جلد نمبر۱۷]۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button