احکامات حج-(فضائل ومسائل)-۱۴

عورتوں کے لئے مخصوص ہدایات
اکیس(۲۱) مسائل میں عورتوں کا حکم بالکل الگ ہے۔
(۱): عورتوں کا احرام صرف اتنا ہے کہ وہ اپنا سر ڈھانک لیں اور چہرہ کھولے رکھیںاور پردہ کے لئے بہتر ہے کہ کوئی ہیٹ وغیرہ سرپر رکھ لیں پھر اس کے اوپر سے نقاب ڈالیں ۔ خیال رکھیں کہ نقاب کا پڑا چہرہ سے نہ لگنے پائے۔
(۲): سِلے ہوئے کپڑے عورتوں کے لئے منع نہیں ہیں۔
(۳):عوتیں تلبیہ آہستہ پڑھیں۔
(۴): ناپاکی کی حالت میں دعاء اور تلبیہ پڑھ کر احرام باندھ لیں ، نماز نہ پڑھیں۔
(۵): سر کے بالوں کو ایک کپڑے سے باندھ لیں، تاکہ کوئی بال ٹوٹ کرگرنہ جائے۔ اور یہ کپڑا صرف احتیاط کے لئے ہے ، لازم نہیں ہے۔
(۶): صفا مروہ کی سعی کے دوران دونوں ہرے کھمبوں کے درمیان دوڑنا عورتوں کے لئے مسنون نہیں ہے۔
(۷): احرام کھولتے وقت بالوں کے آخر سے صرف انگلی بھر کاٹ لینا کافی ہے۔
(۸): ناپاکی کی حالت میں طواف کے علاوہ حج کے تمام ارکان ادا کرسکتی ہیں۔
(۹):ایام نحر یعنی ۱۰؍۱۱؍۱۲؍تاریخ میں پاکی کی حالت نہ ہوتو طوافِ زیارت کوپاک ہونے تک مؤخر کردیں۔ اس پر جرمانہ نہ ہوگا۔
(۱۰): جدّہ یا مکہ پہنچنے کےبعد شوہر یامحرم کا انتقال ہوجائے یا طلاق بائن ہوجائے تو اسی حالت میں حج کے ارکان ادا کرسکتی ہیں۔
(۱۱): اگرواپسی کے وقت ایام کی حالت میں مبتلا ہوجائیں تو ان کے اوپر سے طوافِ وداع معاف ہوجاتاہے۔
(۱۲):جوعورت عدتِ وفات یا عدتِ طلاق میں ہواس کے لئے عدت پوری ہونے سے قبل سفرحج کو جانا جائز نہیں۔ اگرجائے گی تو اس حالت میں اس کا فریضۂ حج توادا ہوجائیگا مگر وہ ساتھ میں سخت ترین گناہ کی مرتکب ہوجائے گی۔(غنیہ جدید/۹۹)
(۱۳): بہت سی لاپرواہ عورتوں نے یہ بات پھیلارکھی ہے کہ احرام کی حالت میں اور سفرحج میں عورتوں پر پردہ نہیں ہے۔ حالانکہ سفر حج میں بے پردگی زیادہ گناہ کا باعث ہے۔نیز جو عورتیں تھوڑا بہت پردہ کرتی ہیں وہ بھی دوسرے ممالک کی بے پردہ عورتوں کو دیکھ کر بے پردہ ہوجاتی ہیں نہایت افسوسناک حرکت ہے۔ اوراس کی وجہ سے مردوں کو اپنی نظریں بچانا مشکل ہوجاتاہے۔ اورحکم شرعی یہاں تک ہے کہ اگر شرعی محرم کو بدنظری کا خطرہ ہوتو محرم بنکر سفر حج میں جانا جائز نہیں۔
لہٰذا ہم اپنی دینی ماؤں اور بہنوں سے گزارش کرتے ہیں کہ سفر حج میں پردہ کا زیادہ سے زیادہ اہتمام کریں تاکہ یہ محبوب ترین عبادت ہر طرح کی معصیت سے محفوظ رہے۔
(۱۴):طواف میں رمل کرنا عورتوں کیلئے مسنون نہیں۔(غنیہ جدید/۹۴)
(۱۵): طواف کے دوران اگرعورت کوحیض آجائے توطواف کووہیں موقوف کردے اور پاک ہونے کے بعد طواف کااعادہ کرے۔(ایضاح المناسک /۱۲۱)
(۱۶):دورانِ سعی ماہواری آجائے تو ایسی حالت میں سعی مکمل کرسکتی ہے۔
(غنیہ جدید/۱۳۴)
(۱۷):اگرعورت نے حج تمتع کی نیت سے میقات سے عمرہ کا احرام باندھ لیا، اور ارکانِ عمرہ ادا کرنے سے قبل اس کو حیض آجائے اور حج تک پاک نہ ہوتو عمرہ کا احرام کھول کر حج کا احرام باندھ لے ۔ اور حج کے بعد ایک عمرہ کی قضا کرے۔ اور پہلا والااحرام بغیر عمرہ کیے کھول دینے کی وجہ سے ایک دم بھی دینالازم ہوگا۔ اور اس کاحج ، حجِ افراد ہوگا۔ تمتع نہ ہوگا۔
(فتح الملہم۳/۲۴۸)
(۱۸):اگرعورت نے میقات سے حج قِران کا احرام باندھ لیامگر حیض کے عذر کی وجہ سے حج سے قبل عمرہ نہ کرسکی تو اسی احرام سے حج کرلے، اور حج سے قبل عمرہ نہ کرنے کی وجہ سے ایک دم دے، اور ایک عمرہ کی قضا کرے گی اور قران کادم شکر بھی ساقط ہوجائے گا۔
(۱۹): حیض کا خون عورتوں کے لئے قدرت کا مقرر کردہ غیر اختیار عذر ہے۔ اس لئے اس کے جاری ہونے سے دل برداشتہ نہ ہونا چاہیے، لہٰذا اس پر راضی رہے۔ لیکن پھر بھی کسی عورت نے حیض روکنے کے لئے دوا استعمال کرلی، اور اس سے خون رُک جائے توعورت کو پاک ہی سمجھا جائے گا۔ اور اس حالت میں طواف جائز ہے۔ مگر ایسا کرنا صحت کے لئے نقصاندہ ہے۔
(ایضاح المناسک /۱۰۸، فتاوی رحیمیہ ۶/۴۰۴)
(۲۰)اگرحج کے بعد فوراً واپسی کاوقت ہے، اور عورت نے ابھی تک حیض کی وجہ سے طواف زیارت نہیں کیا توپاک ہونے تک رُک جانا لازم ہے۔ اس لئے کہ طوافِ زیارت کے بغیر حج ہی صحیح نہ ہوگا۔ اور اگر عورت اسی حالت میں طواف کرلے گی تو اس کا طواف توصحیح ہوجائیگا مگر ساتھ میں اس پر ایک گائے یا اونٹ کی قربانی بھی واجب ہوجائے گی۔
(شامی کراچی ۲/۵۱۹، ایضاح المناسک /۱۰۶)
(۲۱): بغیر محرم شرعی یابغیر شوہر کے عورت کےلئے سفرحج کوجانا جائز نہیں۔ اگرجائے گی تو اس کا فریضۂ حج تو اداہوجائے مگر وہ عورت گنہگار بھی ہوجائے گی۔ (غنیہ جدید /۲۶)
۔ ۔۔۔۔۔ (ماخوذ از کتاب انوارمناسک)۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(جاری ہے ان شاء اللہ تعالیٰ)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



