احکامات حج- (فضائل ومسائل)-۱۵

مسائل احرام
وَٱلْحَافِظُونَ لِحُدُودِ ٱللَّهِ ۗ وَبَشِّرِ ٱلْمُؤْمِنِينَ (سورۂ توبہ ۱۱۲)
اوراللہ کی ان حدود کی حفاظت کرنے والے جن کی حدیں اللہ نے باندھی ہیں۔ اور خوش خبری سُنادے ایمان والوں کو۔
احرام کی حقیقت
احرام کی حقیقت یہ ہے کہ حج یا عمرہ یا دونوں کی نیت سے تلبیہ پڑھ لیاجائے۔ اور احرام کے لئے نہ صرف نیت کرنا کافی ہے اورنہ ہی صرف تلبیہ بلکہ جس طرح نماز میں داخل ہونے کے لئے دل سے نیت کے ساتھ ساتھ تکبیر تحریمہ کا زبان سے ادا ہونا لازم اور شرط ہے ، اسی طرح حج یاعمرہ کے احرام میں داخل ہونے کے لئے نیت اور تلبیہ دونوں کاایک ساتھ ہونا بھی لازم ہے ۔ لہٰذا اگر دل میں نیت کرلی ہے اور تلبیہ یا اس کے قائم مقام کوئی ذکر اللہ زبان سے نہیں پڑھا تو احرام میں داخل نہیں ہوگا۔ اور اسی طرح اگرزبان سے تلبیہ یا اس کے قائم مقام ذکر کے الفاظ زبان سے پڑھ لیے ہیں مگر دل میں نیت نہیں ہے تو بھی احرام میں داخل نہ ہوگا۔
احرام کے کپڑے
احرام کی جو دوچادریں ہوتی ہیں درحقیقت وہ احرام نہیں ہیں بلکہ وہ بغیر سلے ہوئے مرد کے احرام کے کپڑے ہوتے ہیں۔ ان کو عوام احرام بھی کہہ دیتے ہیں۔ بلکہ احرام حج یاعمرہ کی نیت وتلبیہ کے مجموعہ کا نام ہے۔اور جب حج یاعمرہ کی نیت سے تلبیہ پڑھ لیاجائے تو مرد کے لئے بدن کی سخت اور بناوٹ کے مطابق سلے ہوئے یا بُنے ہوئے کپڑے کا پہننا ناجائز اور ممنوع اور موجب کفارہ ہوجاتاہے۔ مثلاً کُرتہ، پاجامہ، دستانہ ، موزہ، بنیان ، نیکر ، ٹوپی ، کوٹ ، اچکن وغیرہ ۔ اور اگراحرام کی حالت میں مرد اس طرح کاکوئی کپڑا پہن لے گا تو جرمانہ اور فدیہ دینا لازم ہوجائے گا۔ لہٰذا احرام کا کپڑا ایسا لازم ہے جو بدن کی ہیئت پر سلا ہوا نہ ہو۔ جیسا کہ چادرلنگی وغیرہ۔ اور مسنون یہی ہے کہ دو چادریں لیں۔ ایک کو لنگی کی طرح باندھ لیں اور دوسری کو چادر کی طرح اوڑھ لیں ۔ اور صرف طواف کے وقت اوپر والی چادر کا اضطباع کیاجائے۔(مستفاد معلم الحجاج /۱۰۵، احکام حج /۳۳)
حالت احرام میں سِلی ہوئی لُنگی پہننا
حالت احرام میں بدن کی ہیئت پر سلے ہوئے اور بُنے ہوئے کپڑے مردوں کو پہننا جائز نہیں ہے۔ اور سِلی ہوئی لنگی چونکہ بدن کی ہیئت پرسلی ہوئی نہیں ہوتی ہے اسلئے سلی ہوئی لنگی پہننا بلاکراہت جائز اور درست ہے۔(مستفاد امداد الفتاویٰ ۲/۱۶۴،احکام حج /۳۳، معلم الحجاج/۱۰۵)
البتہ افضل یہی ہے کہ احرام کے کپڑے بالکل سلے ہوئے نہ ہوں۔
(نوٹ): بہت سے احباب کو یہ اپنی طبیعت اور معلومات کے خلاف معلوم ہوگا لیکن ان شاء اللہ کتابوں کی مراجعت سے الجھن دور ہوجائے گی۔
۔ ۔۔۔۔۔ (ماخوذ از کتاب انوارمناسک)۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(جاری ہے ان شاء اللہ تعالیٰ)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



