احکامات حج-(فضائل ومسائل)-۱۶

احرام کے کپڑے میں جیب لگانا
احرام کی چادر یا لنگی میں روپیہ پیسہ، پاسپورٹ، ٹکٹ وغیرہ کی حفاظت کے لئے جیب لگانا بلاکراہت جائز اور درست ہے۔ (مستفاد معلم الحجاج /۱۱۵) نیز احرام کے کپڑے میں جوڑ لگانا اور پیوند لگانا بھی بلاکراہت جائز ہے۔
احرام کی دُعاء
حاجی احرام باندھنے سے قبل غسل یاوضو کرکےد و رکعت نفل نماز پڑھے۔ اس کے بعد اگر صرف حج کااحرام باندھنا ہوتو ان الفاظ سے دعامانگے۔
اللّٰهُمَّ إِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ فَيَسِّرْهُ لِي وَتَقَبَّلْهُ مِنِّي
اے اللہ میں حج کا ارادہ کرتاہوں اس کو میرے لئے آسان فرما اورمیری طرف سے قبول فرما۔
اور اگر قارن ہے یعنی حج اورعمرہ دونوں کا احرام ایک ساتھ باندھنا ہوتو ان الفاظ سے دُعا مانگے: اللّٰهُمَّ إِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَيَسِّرْهُمَا لِي وَتَقَبَّلْهُمَا مِنِّي
اوراگرحج تمتع یاعمرہ کی نیت کرتاہے توان الفاظ سےد عامانگے۔
اللّٰهُمَّ إِنِّي أُرِيدُ الْعُمْرَةَ فَيَسِّرْهَا لِي وَتَقَبَّلْهَا مِنِّي
(ہدایہ۱/۲۱۶، ۱/۲۳۷، غنیۃ المناسک جدید/۷۳)
اور اگر کسی کی طرف سے حج بدل کرناہے تو احرام کے وقت اس کی طرف سے نیت کی جائے اور ان الفاظ سے دعا مانگے:
اللّٰهُمَّ إِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ عَنْ فُلَانٍ فَيَسِّرْهُ لِي وَتَقَبَّلْهُ مِنِّي عَنْهُ
(اے اللہ میں فلاں کی طرف سے حج کی نیت سے احرام باندھتا ہوں۔الخ) (غنیہ جدید ۷۴)
الفاظ تلبیہ
صحیح حدیث شریف میں جس تلبیہ کا ذکر ہے اس کے الفاظ حسب ذیل ہیں۔
لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ،لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ،إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ،لَا شَرِيكَ لَكَ (بخاری شریف ۱/۲۱۰)
تیرے دربار میں حاضر ہوتاہوں میں، اے اللہ میں تیری بارگاہ میں بار بار حاضر ہوتا ہوں، تیرا کوئی شریک اورہمسر نہیں ہے۔ میں تیری بارگاہ میں حاضرہوتا ہوں۔ ساری نعمتیں آپ ہی کی عطا کی ہوئی ہیں۔ اور توہی حمد کے لائق ہے اور ملک بھی تیراہی ہے، اس میں تیراکوئی شریک نہیں ہے۔
اور جب حج یاعمرہ کی نیت سے تلبیہ پڑھیگا تو احرام مکمل ہوجائیگا۔ اب سِلا ہوا کپڑا یا خوشبو وغیرہ کا استعمال جائز نہ ہوگا۔(ہدایہ ۱/۲۱۷)
پہلا تلبیہ کس وقت پڑھاجائے
دورکعت صلوٰۃِ احرام ادا کرنے کے بعد نماز کا سلام پھیرتے ہی متصلا اسی مجلس میں احرام کی نیت کے ساتھ تلبیہ پڑھ لیاجائے۔ لہٰذا احرام کی نماز اور احرام کی نیت وتلبیہ کے درماین فاصلہ نہیں ہونا چاہیے۔ اگر بہت زیادہ فاصلہ ہوجائیگا توسنت طریقہ سے احرام باندھنے کا جو حکم ہے اس پر عمل نہ ہوگا۔ اور سنت طریقہ کے ثواب سے بھی محروم ہوجائیگا۔ حضرات فقہاء نے اس کو بڑی اہمیت سے بیان فرمایا ہے۔ (تبیین الحقائق ۲/۹)
تلبیہ کی کثرت
حج یا عمرہ کااحرام باندھنے کے بعد ہروقت کثرت کے ساتھ تلبیہ پڑھنا مستحب اور مسنون ہے۔ چلتے پھرتے اُٹھتے بیٹھتے ہروقت ہرقدم ہرآن تلبیہ پڑھتے رہاکریں۔ حدیث مین ہے کہ سب سے افضل ترین حج وہی ہے جس میں بکثرت تلبیہ پڑھاگیاہو۔(ترمذی ۱/۱۷۰، غنیۃ جدید ۷۵)
حج کا تلبیہ کب ختم کیاجائے؟
حج کا تلبیہ حج کرنے والاجمرۂ عقبہ کی رمی تک باقی رکھے گا۔ اور جمرۂ عقبہ کی رمی کے ساتھ ساتھ تلبیہ ختم کردے گا۔ اور رومی کرنے میں رمی کی دعاء بھی پڑھے گا۔ اور اسی طرح اس کے بعد جو مناسک ادا کیے جائیں گے ان سب کے ساتھ ان کی مخصوص دعا پڑھے گا۔ (مستفاد ایضاح الطحاوی ۳/۵۴۲، بذل المجہود ہندی ۳/۱۱۴، اعلاء الستن ۱۰/۱۱۴، اوجزالمسالک ۳/۳۶۰)
عمرہ کا تلبیہ کب ختم کیاجائے؟
عمرہ کا تلبیہ طواف شروع کرتے وقت ختم کردینا چاہیے۔(عمدۃ القاری ۱۰/۲۱، معارف السنن ۶/۲۹۵)
بوقت احرام نیت کب کی جائے
جب احرام کی نیت سے تلبیہ پڑھ لیاجائے یا احرام کی نیت سے کوئی ایسا ذکر الٰہی پڑھ لیا جائے جو تلبیہ کے قام مقائم ہو تو نفس احرام صحیح ہوجاتاہے۔ اور نفس احرام صحیح ہونے کے لئے حج یا عمرہ میں سے کسی ایک کو ساتھ میں متعین کرنا مشروط نہیں، بلکہ اسکے بغیر بھی احرام میں داخل ہوسکتا ہے۔ پھراس کے بعد حج یاعمرہ میں سے کسی بھی ایک کو متعین کیاجاسکتا ہے۔ جیسا کہ نفس نماز کی نیت سے نماز میں داخل ہونا جائز ہوجاتاہے۔ ۔ ۔۔۔۔۔ (ماخوذ از کتاب انوارمناسک)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(جاری ہے ان شاء اللہ تعالیٰ)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



