واقعہ امیر المومنین سیدنا حضرت عمرفاروق اعظمؓ کے قبول اسلام کا-۲

حضرت عمر یہ سن کر کچھ شرمائے اورکہاکہ اچھا وہ کتاب جو تم پڑھ رہے تھے مجھ کو بتلاؤ۔ یہ سنتے ہی حضرت خباب جو مکان کے کسی گوشہ میں چھپے ہوئے تھے فوراً باہر نکل آئے۔ بہن نے کہا:
انک رجس وانہ لایمسہ الاالمطہرون فقام فتوضأ
توناپاک ہے اور قرآن پاک کو پاک ہی لوگ چھوسکتے ہیں جاؤ وضو کرکے آؤ۔
عمر اٹھے اور وضو یا غسل کیا اور صحیفۂ مطہرہ کو ہاتھ میں لیا جس میں سورہ طہٰ لکھی ہوئی تھی پڑھنا شروع کیا یہاں تک کہ اس آیت پر پہنچے۔
إِنَّنِي أَنَا ٱللَّهُ لَآ إِلَـٰهَ إِلَّآ أَنَا۠ فَٱعْبُدْنِى وَأَقِمِ ٱلصَّلَوٰةَ لِذِكْرِى
ترجمہ: میں ہی معبود برحق ہوں میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ پس میری ہی عبادت کرو اور نماز کو میری یاد کے لیے قائم کر۔
بے ساختہ بو ل اٹھے ما احسن ھٰذا الکلام واکرمہ کیا ہی اچھااوربزرگ کلام ہے۔
حضرت خباب نے عمر سے یہ سن کر کہاکہ اے عمر تم کو بشار ت ہو۔ میں امید کرتاہوں کہ رسول اللہ ﷺ کی دُعا تمہارے حق میں قبول ہوئی۔ عمر نے کہا اے خباب مجھے آپﷺ کے پاس لے چلو۔
حضرت خباب عمر کو ساتھ لے کر دارارقم کی طرف چلے جہاں رسول اللہ ﷺ اور صحابۂ کرام جمع ہوا کرتے تھے۔ دروازہ بند تھا۔ دستک دی اور اندر آنے کی اجازت چاہی یہ معلوم کرکے کہ عمر اندر آنا چاہتےہیں کوئی شخص دروازہ کھولنے کی جرأت نہ کرتاتھا۔ حضرت حمزہؓ نے فرمایا کہ دروازہ کھول دو اور آنے دو اگر اللہ نے عمر کے ساتھ خیر اور بھلائی کاارادہ فرمایا ہے تو اللہ اسکو ہدایت دے گا اور اسلام لے آئے گا اور اللہ کے رسول کا اتباع کرے گا ورنہ تم اللہ کے حکم سے اس کے شر سے محفوظ اور مامون رہو گے اور بحمداللہ عمر کاقتل کردینا ہم پر کچھ دشوارنہیں، اور ایک روایت میں ہے کہ حضرت حمزہؓ نے فرمایا کہ اگرعمر خیر کے ارادہ سے آرہاہے توہم بھی اس کے ساتھ خیر کا معاملہ کریں گے اور اگرشر کے ارادہ سے آرہاہے تواسی کی تلوار سے اسے قتل کریں گے اور رسول اللہ ﷺ نے بھی دروازہ کھولنے کی اجازت دی۔ دروازہ کھول دیاگی اور دو شخصوں نے میرے دونوں بازو پکڑے اور آپ کے سامنے لاکر مجھ کو کھڑا کیا ، آپ نے ان سے فرمایا کہ چھوڑو اور میرا کرتہ پکڑکر اپنی طرف کھینچا اور کہا اے خطاب کے بیٹے اسلام لااور یہ دُعا فرمائی۔
اللھم اھدہ اے اللہ اس کو ہدایت دے۔
اور ایک روایت میں ہے کہ یہ فرمایا:
اللھم ہذا عمر بن الخطاب اللھم اعزالدین بعمر بن الخطاب
اے اللہ یہ عمر بن الخطاب حاضرہے اے اللہ اس سے اپنے دین کو عزت دے۔
اورعمر سے مخاطب ہوکر فرمایا۔ اے عمر کیا تو اس وقت تک باز نہ آئے گا جب تک خدائے عزوجل تجھ پر کوئی رسواکن عذاب نازل نہ فرمائے۔
عمر نے عرض کیا یارسول اللہ اسی لیے حاضر ہوں کہ ایمان لاؤں اللہ پر اور اس کے رسول پر اور جو کچھ اللہ کے پاس سے نازل ہوا۔ اشہد ان لاالہ الا اللہ وانک رسول اللہ
رسول اللہ ﷺ نے فرط مسرت سے بآواز بلند تکبیر کہی جس سے تمام اہل دار نے پہنچان لیا کہ مسلمان ہوگئے۔ یہ تمام تفصیل سیرۃ ابن ہشام اور عیون الاثر میں مذکور ہے۔
علامہ زرقانی فرماتے ہیں کہ حضرت عمر کے اسلام کا یہ مفصل واقعہ مسند بزار اور معجم طبرانی اور دارقطنی میں حضرت انسؓ سے اور دلائل بیہقی میں ابن عباسؓ سے اور دلائل ابی نعیم میں حضرت طلحہ اور حضرت عائشہؓ سے مروی ہے۔
ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ جب عمر مسلمان ہوئے توجبریل امین نازل ہوئے اور یہ فرمایا اے محمد(ﷺ) تمام اہل آسمان حضرت عمر کے اسلام سے مسرور اور خوش ہوئے (رواہ ابن ماجہ والحاکم وصححہ۔ وقال الذہبی فیہ عبداللہ بن خراش ضعفہ الدارقطنی)
حضرت عمر اسلام لائے اور اسی وقت سے دین کی عزت اور اسلام کا ظہور اور غلبہ شرو ہوگیا۔ علی الاعلان حرم میں نماز پڑھنے لگے۔ علانیہ طورپر اسلام کی دعوت و تبلیغ شروع ہوگئی۔ اسی روز سے حق اور باطل کافرق واضح اور ظاہر ہوا اور رسول اللہ ﷺ نے آپ کانام فاروق رکھا۔
چوں عمر شیدائے آں معشوق شد ۔۔۔۔حق وباطل راچو دل فاروق شد
زاں نشد فاروق راز ہرے گزند ۔۔۔۔۔کہ بدان تریاق فاروقیش قند
حضرت عمر جب اسلام لے آٗے تویہ خیال پیدا ہوا کہ اپنے اسلام کی ایسے شخص کو اطلاع دوں کہ جو بات کے مشہور کرنے میں خوب ماہر ہوتا کہ سب کومیرے اسلام کی اطلاع ہوجائے چنانچہ میں جمیل بن معمر کے پاس گیا جو اس بات میں مشہور تھا اور کہا اے جمیل تجھ کو معلوم بھی ہے کہ میں مسلمان ہوگیاہوں اور محمد ﷺ کے دین میں داخل ہوگیا ہوں۔ جمیل یہ بات سنتے ہی اسی حالت میں اپنی چادر کھینچتا ہوامسجد حرام کی طرف بھاگا جہاں سرداران قریش جمع تھے وہاں پہنچ کر بآواز بلند یہ کہا۔ اے لوگو عمر صابی ہوگیا ہے۔ عمر فرماتے ہیں میں بھی پیچھے پیچھے پہنچا اور کہا کہ یہ غلط کہتاہے میں صابی نہیں ہوا میں تو اسلام لایا ہوں اور یہ گواہی دی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اُس کے بندے اور اسکے رسول ہیں۔ یہ سننا تھا کہ لوگ عمر پر ٹوٹ پڑے اور مارنا شروع کیا اسی میں دن چڑھ گیا۔ اتفاق سے عاص بن وائل سہمی ادھر آنکلے۔ عاص نے دریافت کیاکہ کیا واقعہ ہے لوگوں نے کہا عمر صابی ہوگیاہے۔ عاص نے کہاتوپھر کیاہوا۔ ایک شخص نے اپنے لیے ایک امر (دین ) کو اختیارکرلیاہے یعنی پھر تم کیوں مزاحم ہوتے ہو کیا تمہارا گمان ہے کہ بنی عدی اپنے آدمی (یعنی حضرت عمر) کویوں ہی چھوڑ دیں گے جاؤ میں نے عمر کو پناہ دی ہے۔ عاص کا پناہ دینا تھا کہ تمام مجمع منتشر ہوگیا۔ ابن ہشام ۱۲۱ وقال ابن کثیر ہذا اسناد جیدی قوی۔ کمافی البیداتہ و النہایۃ صح ۸۲، جلد ۳ اور عاص بن وائل کی پناہ دینے کا واقعہ مختصراً صحیح بخاری میں بھی ہے۔ فتح الباری ،صفحہ ۱۳۵، جلد ۷، باب اسلام عمر بن الخطابؓ۔[کتاب سیرۃ المصطفیٰﷺ،جلد ۱](جاری ہے۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ)



