مضامین

احکاماتِ جمعہ-۶

تعارف
اس سورت کے پہلے رُکوع میں حضور نبی کریم ﷺ کی رسالت اور آپ کی بعثت کےمقاصد بیان فرماکر پوری انسانیت کو آپ پر ایمان لانے کی دعوت دی گئی ہے، اور خاص طورپر یہودیوں کی مذمت کی گئی ہے کہ وہ جس کتاب یعنی تورات پر ایمان رکھنے کادعویٰ کرتے ہیں، اس میں آنحضرت ﷺ کی تشریف آوری کی بشارت موجود ہے، اس کے باوجود آپ پر ایمان نہ لاکر خود اپنی کتاب کی خلاف ورزی کررہےہیں۔ پھر دوسرے رُکوع میں مسلمانوں کو یہ ہدایت دی گئی ہے کہ ان کی تجارتی سرگرمیاں اللہ تعالیٰ کی عبادت کے راستے میں رُکاوٹ نہیں بننی چاہیے، چنانچہ حکم دیاگیا ہے کہ جمعہ کی اذان کے بعد ہرقسم کی خریدوفروخت بالکل ناجائز ہے نیز جب آنحضرت ﷺ خطبہ دے رہے ہوں، اُس وقت کسی تجارتی کام کےلئے آپ کو چھوڑکر چلے جانا جائز نہیں ہے، اور اگر دنیوی مصروفیات کاشوق کسی دِینی فریضے میں رُکاوٹ بننے لگے تو اس بات کا دھیان کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے مؤمنوں کےلئے آخرت میں جو کچھ تیار کررکھا ہے، وہ دنیا کی ان دل فریبیوں سے کہیں زیادہ بہتر ہے، اور دینی فرائض کورزق کی خاطر چھوڑنا سراسر نادانی ہے، کیونکہ رزق دینے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے ،لہٰذا رزق اُس کی نافرمانی کرکے نہیں ، بلکہ اُس کی اطاعت کرکے طلب کرنا چاہیے۔ چونکہ دوسرے رُکوع میں جمعہ کے احکام بیان فرمائے گئے ہیں، اس لئے سورت کانام جمعہ ہے۔
یہ سورت مدنی ہے، اور اس میں گیارہ آیتیں اور دو رُکوع ہیں۔
شرو ع اللہ کے نام سے جوسب پرمہربان ہے، بہت مہربان ہے۔
اےایمان والو! جب جمعہ کے دن نماز کے لئے پکارا جائے تواللہ کے ذکر کی طرف لپکو، اور خریدوفروخت چھوڑ دو۔ (۶) یہ تمہارے لئے بہتر ہے، اگر تم سمجھو۔[۹] پھر جب نماز پوری ہوجائے تو زمین میں منتشر ہوجاؤ، اور اللہ کا فضل تلاش کرو(۷)، تاکہ تمہیں فلاح نصیب ہو۔ [۱۰] اور جب کچھ لوگوں نےکوئی تجارت یاکوئی کھیل دیکھا تو اُس کی طرف ٹوٹ پڑے، اور تمہیں کھڑا ہواچھوڑدیا۔ (۸)، کہہ دو کہ :’’جو کچھ اللہ کے پاس ہے، وہ تجارت اور کھیل سے کہیں زیادہ بہتر ہے ، اور اللہ سب سے بہتر رزق دینے والاہے۔[۱۱]
——————————————
(۶):جمعہ کی پہلی اذان کے بعد جمعہ کے لئے روانہ ہونے کے سوا کوئی اور کام جائز نہیں، نیز جب تک نمازِ جمعہ ختم نہ ہوجائے، خریدوفروخت کاکوئی معاملہ جائز نہیں ہے۔ اللہ کے ذکر سےمراد جمعہ کاخطبہ اور نماز ہے۔
(۷): جیسا کہ بارہا گذرچکاہے، اللہ کا فضل تلاش کرنا قرآن کریم کی اصطلاح میں تجارت وغیرہ کے ذریعے روزگارحاصل کرنے کو کہا جاتاہے،لہٰذا مطلب یہ ہے کہ خرید وفروخت پر جو پابندی اذان کے بعد عائد ہوئی تھی، جمعہ کی نماز ختم ہونے کے بعد وہ اُٹھ جاتی ہے، اور خرید وفروخت جائز ہوجاتی ہے۔
(۸) حافظ ابن کثیرؒ نے فرمایا ہے کہ شروع میں آنحضرت ﷺ جمعہ کی نماز کے بعد خطبہ دیا کرتے تھے ۔ ایک مرتبہ جب جمعہ کی نماز ختم ہوچکی تھی ، اور آپ خطبہ دے رہے تھے تو ایک قافلہ کچھ سامان لے کر آیا، اور ڈھول بجاکراُسکے آنے کااعلان بھی کیاجارہاتھا۔ اُس وقت مدینہ منورہ میں کھانےپینے کی چیزوں کی کمی تھی، اس لئے صحابہ کی ایک بڑی تعداد خطبہ چھوڑکر اُس قافلے کی طرف نکل گئی، اور تھوڑے سے افراد مسجد میں رہ گئے۔ اس آیت مین اس طرح جانے والوں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ خطبہ چھوڑکر جانا جائز نہیں تھا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جمعہ کی صرف نماز ہی فرض نہیں ہے، بلکہ خطبہ سننا بھی واجب ہے۔
الحمدللہ ! سورۂ جمعہ کاترجمہ اور تشریحی حواشی آج بروز بدھ ۲۹؍جمادی الاولیٰ ۱۴۲۹ھ؁ مطابق ۴؍جون ۲۰۰۹ء؁ کو کراچی سے لاہور جاتے ہوئے طیارے میں تکمیل کو پہنچے۔ اللہ تعالیٰ اس خدمت کو قبول فرمائیں ، اور باقی سورتوں کی خدمت بھی اپنی رضائے کامل کے مطابق انجام دینے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین
توضیح القرآن،آسان ترجمہ قرآن مجید، پارہ ۲۸،سورہ جمعہ
ازحضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہ العالی

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button