احکامات قربانی (فضائل ومسائل)

مسائل قربانی
لَنْ يَّنَالَ ٱللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَآؤُهَا وَلَـٰكِن يَّنَالُهُ ٱلتَّقْوَىٰ مِنكُمْ ۚ كَذَٰلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُكَبِّرُوا۟ ٱللَّهَ عَلَىٰ مَا هَدَىٰكُمْ ۗ وَبَشِّرِ ٱلْمُحْسِنِينَ
(سورۂ حج آیت ۳۷)
’’اللہ تعالیٰ کو تمہاری قربانی کا گوشت اور انکا خون نہیں پہونچتا، مگر اللہ کو تمہارے دلوں کا تقویٰ پہونچتاہے۔ اسی طرح ان کو تمہارے بس میں اور گرفت میں کردیاہے تاکہ تم اللہ کی بڑائی بیان کرو اس بات پر کہ اس نے تم کو ہدایت عطا فرمائی۔ا ور آپؐ نیکو کاروںکو بشارت سُنا دیجیے۔‘‘
یعنی قربانی کا گوشت کھانے کھلانے یا اس کا خون گرانے سے تم اللہ کی رضا کبھی حاصل نہیں کرسکتے۔ نہ یہ خون اور گوشت اٹھ کر اس کی بارگاہ تک پہنچتاہے۔ اسکے یہاں تو تمہارے دل کا تقویٰ اور خلوص پہنچتا ہے کہ کس خوش دلی سے اس کے حکم کی تعمیل میں قربانی کی ہے۔
قربانی کا گوشت فروخت کرنا
قربانی کے جانورکے تمام اجزاء اور اعضاء کا حکم یکساں ہے، کھال، سینگ، ہڈی وغیرہ فروخت کرنے کا جوحکم ہے بالکل وہی حکم گوشت کابھی ہے۔ اور جس طرح ضرورت میں کھال فروخت کرکے اس کے پیسے کو صدقہ کردیناجائز ہے، بالکل اسی طرح اگر گوشت کھانے والے نہیں ہیں، ضائع ہونے کا خطرہ ہے، یا دفن کرنا پڑتاہے تو ایسی صورت میں قربانی کے گوشت کو تاجروں کے ہاتھ فروخت کرکے اس کا پیسہ، کھال اور چمڑے کے پیسے کی طرح مستحقین کو صدقہ کردینا بلاکراہت اور بلاتردد جائز اور درست ہے۔
لہٰذا اگر فروخت کرنے کے لئے کوئی راستہ نکل آئے توہرگز دفن نہ کریں ۔نیز بوچڑ خانوں اور کوڑاخانوں میں پھینک کر برباد نہ کریں۔
(مستفاد ہدایہ ۴/۴۳۴،تبیین الحقائق ۶/۸، بدائع الضائع ۵/۸۱)
بڑے جانور میں شرکت
بھیڑ بکری دُنبہ وغیرہ چھوٹے جانوروں میں صرف ایک شخص کی قربانی ہوسکتی ہے۔ ان میں شرکت جائز نہیں۔ اور بڑے جانور اونٹ ، گائے، بھینس میں سات افراد کی شرکت جائز ہے۔ مگر شرط یہ ہے کہ سب کے سب قربت اور عبادت کی ادائیگی کی نیت سے کرتے ہوں۔ لہٰذا اگر کسی ایک نے بھی عبادت اور قربت میں شرکت کی نیت نہ کی ہو، محض گوشت خوری کے لئے شرکت کی ہوتو کسی کی طرف سے بھی قربانی صحیح نہ ہوگی۔ نیز کسی کا حصہ ساتویں سےکم نہ ہو، ورنہ کسی کی بھی درست نہ ہوگی۔ (معلم الحجاج ۲۱۲)
نیز یہ بھی جائز ہے کہ اونٹ، گائے، بھینس میں بلاشرکت ایک شخص ایک قربانی کردے۔ اوریہ بھی جائز ہے کہ دو یاتین افراد شریک ہوکر پورے جانور میں صرف دویاتین حصے کا اعتبار کرکے قربانی کردیں۔
اندھا یا کانا جانور کی قربانی
جانور اندھا یا کاناہوتو اگراس کی آنکھوں سے بالکل نظرنہ آئے توقربانی جائز نہیں۔یا تہائی روشنی یا اس سے زیادہ ختم ہوگئی ہوتب بھی جائز نہیں ، ہاں اگرتہائی یا اس سے زیادہ روشنی دونوں آنکھوں یاایک آنکھ میں باقی ہے تو اس کی قربانی جائز ہے۔ (مستفاد معلم الحجاج ۱۷۳)
کان کٹا جانور
اگر ایک تہائی سے زیادہ کان کٹاہواہے تو اس کی قربانی جائز نہیں، اوراگر ایک تہائی سے کم کٹا ہواہے اس کی قربانی جائز ہے۔ (بدائع بیروتی جدید ۶/۳۱۴، قدیم ۵/۷۵)
بہت سے جانور کان کٹے ہوئے ملتے ہیں ، ان میں اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ کان کتنا کٹا ہواہے۔ اور جس جانور کا کان کٹاہوا نہ ہو مگر کان میں سوراخ ہوتو اس کی قربانی جائز ہے۔ لیکن خلافِ اولیٰ اور کراہت تنزیہی ہے۔ اور حدیث شریف مندوبیت پر محمول ہے۔
لنگڑے جانور کی قربانی
اگر جانور لنگڑاہے اور جس پیر میں لنگ ہے وہ زمین پر ٹیکتا ہوا چلتاہے، تواس کی قربانی جائز ہے۔ اور اگر وہ ٹانگ اٹھائے رکھتاہے اور تین ٹانگوں پر چلتاہے تو اس کی قربانی جائز نہیں ۔ (مستفاد معلم الحجاج ۱۷۳)
کمزور جانور کی قربانی
اگرایسا کمزور اور لاغر جانور ہے کہ خوداپنے پیروں پر چل کر قربان گاہ تک نہیں جاسکتا تو اس کی قربانی جائز نہیں، اور اگر قربان گاہ تک جاسکتاہے تواسکی قربانی جائز ہے۔ یا ایسا کمزور ہو کہ اس کی ہڈیوں سے گودا بالکل ختم ہوچکاہے تواس کی بھی جائز نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(جاری ہے۔۔۔۔ ان شاءاللہ تعالیٰ)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



