احکاماتِ جمعہ-۳

اس قلعہ میں جمعہ درست نہیں جس میں آمدورفت کی عام اجازت نہیں
سوال:(۲۴۱۷) ایک قلعہ میں آمد ورفت کیلئے عام اجازت نہیں ہے، اس لئے کہاجاتاہے کہ قلعہ میں جمعہ جائز نہیں ہے، باہر جائز ہے جہاں عام لوگ شریک ہوجائیں۔
الجواب:اذن عام بے شک صحت جمعہ کے لئے شرط ہے، پس جب کہ اس قلعہ میں عام نمازیوں کوجانے کی اجازت نہیں ہے تووہاں جمعہ صحیح نہ ہوگا۔ کذافی الدالمختار والشامی وغیرہما۔ فقط
جمعہ کے لئے کتنے نمازیوں کی موجودگی ضروری ہے
سوال:(۲۴۱۸) جمعہ کی نماز ایک مسجد میں دوازدہ ماہی دوبجے ہوتی ہے اور اکثر کثیرتعداد میں نمازی ہوتے ہیں لیکن گزشتہ جمعہ میں ماز کا وقت ہوگیا اور نمازی مع امام کے چار تھے، ایسی حالت میں جمعہ کی نماز شروع کردینی چاہیے یاکوئی خاص تعداد ہے کہ جس کا انتظار جمعہ کیلئے کرنا چاہیے ، یعنی چار آدمیوں کی موجودگی مٰن خطیب خطبہ پڑھنے کےلئے کھڑا ہوجاوے یا نہیں یا سات آدمیوں کا لازمی طورپر انتظار کرنا چاہیے۔
الجواب: جمعہ کی جماعت کے لئے تین مقتدی کاہونا ضروری ہے۔ پس اگر صرف تین آدمی علاوہ امام کے موجود ہوں تو امام خطبہ شروع کردیوے اور نماز جمعہ کی اداکرے، نماز جمعہ صحیح ہوگی۔ کمافی الدرالمختار دالسادس الجماعۃ واقلھاثلٰثۃ رجال ولوغیرالثلاثۃ الذین حضروالخطبۃ سوی الامام الخ ، درمختار وکذافی الشامی۔ فقط
ترک جمعہ گناہ ہے
سوال :(۲۴۲۱) اگرکوئی شخص ڈاک خانہ کاملازم ہواور بوجہ ملازمت جمعہ نہ پڑھ سکتا ہوتو اس موقع پر جمعہ ترک کرنے سے کچھ گناہ تونہیں ہوگا اگرچہ مسجد بالکل قریب ہو۔
الجواب: ایسی حالت میں کہ جمعہ فرض ہوجمعہ کاترک کرنا سخت گناہ ہے اور کبیرہ گناہ ہے اور ترک جمعہ پر حدیثوں میں وعید شدید وارد ہوئی ہے۔ ایک حدیث میں یہ مضمون ہے کہ جو لوگ جمعہ ترک کرتے ہیں چاہیے کہ وہ ترک جمعہ سے باز آویں ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگا دےگا۔ پھر وہ غافلین میں سے ہوجاؤیں گے۔ پس حتی الوسع کوشش کرنی چاہیے کہ شہر اور قصبہ میں رہتے ہوئے جمعہ ترک نہ ہو اور اگرکبھی اتفاق سے بمجبوری ترک ہوگیا تو ظہر کی نماز ادا کرلینی چاہیے اور ترک جمعہ سے توبہ کرلینی چاہیے۔ فقط
[فتاویٰ دارالعلوم دیوبند، جلد نمبر۵]۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ



