احکامات حج-(فضائل ومسائل)-۱۷

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحِلُّوا شَعَائِرَ اللَّهِ وَلَا الشَّهْرَ الْحَرَامَ وَلَا الْهَدْيَ وَلَا الْقَلَائِدَ وَلَا آمِّينَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنْ رَبِّهِمْ وَرِضْوَانًا ۚ وَإِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوا ۚ۔ الآیۃ (سورۃ المائدہ آیت ۲)
اے ایمان والوں !اللہ کی نشانیوں کو حلال نہ سمجھو، اورنہ ہی محترم مہینے کو اور نہ ہی اس جانور کو جو کعبۃ اللہ کی نیاز میں ہو۔ اور نہ ان جانوروں کو حلال سمجھو جن کے گلے میں پٹے پڑے ہوئے ہوں۔ اورنہ ہی حُرمت والے گھر کی طرف آنے والوں کو حلال سمجھو جو اپنے رب کے فضل اور اس کی رضا کی جستجو میں ہوں اور جب تم احرام سے حلال ہوجاؤتو شکار کا اختیار ہے۔
احرام کی پابندیاں اور اُمورِ ممنوعہ بہت زیادہ ہیں ، ان میں سے اہم ترین ۳۱؍اُمور ذکر کردیئے ہیں۔ اور اس کے بعد چند متفرق جنایات اور ان کے کفارات کاحکم ذکر کردیاہے۔
حالت احرام میں ساتھیوں سے جھگڑنا
حاجی کالوگوں سے لڑائی جھگڑے کرنا سخت گناہ ہے۔ ان ناشائستہ افعال کی وجہ سے اگرچہ جرمانہ لازم نہ ہوگا اور حج بھی فاسد نہ ہوگا۔ مگر ایسے شخص کا حج قبول نہ ہوگا۔ اور حج کے ثواب سے محروم ہوجائے گا۔ (مستفاد غنیۃ المناسک ۴۷، غنیہ جدید /۸۵و/۹۰)
حالت احرام میں بیوی کے ساتھ بوس وکنار ہونا
اگرحالت احرام میں شہوت کے ساتھ مرد اپنی بیوی کے ساتھ بوس وکنار ہوتاہےتوایسی صورت میں انزال ہواہو یا نہ ہواہو، دونوں صورتوں میں جُرمانہ میں ایک دُنبہ یابکرے کی قربانی واجب ہوجائے گی۔ (تاتارخانیہ ۲۹۰/۴۹۹، ہندیہ ۱۹۰/۲۴۴) نیز اگر بیوی کو شہوت ہوجائے تو اُس پربھی الگ سے ایک قربانی واجب ہوجائے گی۔ (تاتارخانیہ ۲۹۰/۴۹۹)۔ ۔۔۔۔۔ (ماخوذ از کتاب انوارمناسک)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(جاری ہے ان شاء اللہ تعالیٰ)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



